شیعہ علماء اور قرآن کریم کے بیچ بحران تحقیقی مقالہ (…

شیعہ علماء اور قرآن کریم کے بیچ بحران تحقیقی مقالہ ( ترجمہ:ابو عبداللہ زبیر بن حسین)

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 3 از 22

آپ دیکھ سکتے ہیں کہ شیعہ عالم سوچتا ہےکہ امامت کے مسئلے پر دھوکا دینا مذہب کے لئے تحریف قرآن سے بھی زیادہ خطرناک ہے ، اب کوئی اتنا بھی بے عقل نہیں کہ یہ سوچے کہ وہ (یعنی صحابہ) قرآن کریم میں تبدیلی نہیں کرسکتے۔
دوسرا انتخاب
وہ اپنی اس اصول ہر کاربند رہے اور اس عظیم سعادت (یعنی جمع قرآن) کو یہ کہہ کر ایک گندے عمل تبدیل کرتے رہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہ نے قرآن کریم کو اس طریقے سے جمع نہیں کیا ،جس طرح اللہ تعالی نے جمع کرنے کا ارادہ کیا تھا۔یہ سب انہوں (یعنی صحابہ) نے صرف اس لئے کیا کہ وہ اس حق کو چھپانا چاھتے تھے جو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظاہر کیا تھا تاکہ لوگوں کو گمراہ کریں۔
ظاہر ہے کہ جو لوگ شیعہ علماء کے طریقوں سے اچھے طرح واقف ہیں اور تجربہ رکھتے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ وہ (یعنی شیعہ) دوسرے نقطہ کا انتخاب کریں گے ۔ یہی سبب ہے کہ انہوں نے اللہ تعالی کی کتاب کے متعلق شبہات پیدا کرنا شروع کردئے اور دعوی کرنے لگے کہ جس طریقے سے یہ جمع ہوا وہ بالکل غلط تھا، اور یہ طریقہ وہ نہیں تھا جس پر اللہ تعالی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہوں۔ یہ کام انہوں نے دو طریقوں سے کیا:
پہلا طریقہ
یہ کہ خلفاء راشدین نے جب قرآن کریم کو جمع کرنا شروع کیا تو اس سے بہت سی ایسی آیات حذف کردیں جو کہ اہل بیت اور ان کی امامت کے حق میں تھیں۔ قرآن کریم کے متعلق شکوک و شبہات پیدا کرنے کا یہ طریقہ ان شیعہ علماء نے اپنایا جو کہ اعلانیہ یہ کہتے ہیں کہ قرآن کریم تحریف شدہ ہے، اس سے آیات حذف کی گئی ہیں۔ ان شیعہ علماءمیں قمی ، عیاشی ، مجلسی ، نعمت اللہ الجزائری ، نوری الطبرسی اور بہت سے دیگر شامل ہیں۔
دوسرا طریقہ
خلفاء راشدین نے جب قرآن کریم جمع کیا تو انہوں نے آیات حذف کر کہ تحریف نہیں کی، بلکہ انہوں نے اس کے ابواب اور ایات کی ترتیب میں اور ان کی قرآت میں تبدیلی کردی ، اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بیان کردہ تشریح ،آیات و الفاظ کی معنی اور ان کا سبب نزول حذف کردیا ۔ قرآن کریم پر شکوک و شبہات کا یہ طریقہ ان شیعہ علماء نے اپنایا جو کہ حذف یا اضافت کی صورت میں تحریف کا انکار کرتے ہیں اور ہماری تحقیق کا موضوع ِ بحث یہی ہے۔

باب دوم
ان کےکچھ علماء کےعقائد جو کہ تحریف کا انکار کرتے ہیں لیکن لوگوں کو قرآن کریم سے دور کرتے ہیں۔
ہم پہلے دیکھ چکے ہیں کہ شیعہ علماء کا یہ گروہ قرآن کریم میں اضافے یا حذف کے معاملے پر دوسرے گروہ سے اختلاف رکھتا ہے لیکن یہ قرآن کریم کے متعلق شکوک و شبہات پیدا کرنے میں ان سے اتفاق رکھتے ہیں اور لوگوں کو اس کتاب سے دور کرتے ہیں کیوں کہ یہ خلفاء نے جمع کیا ہے ۔ یہ ان شکوک و شبہات کو مختلف پوشیدہ طریقوں سے شروع کرتے ہیں تاکہ یہ شکوک ان لوگوں کے زہن میں آسانی سے ڈالے جا سکے جو کہ ان کی کتب پڑھتے ہیں ۔اس طرح عام شیعہ قرآن کریم سے الگ ہوجاتا ہے اور اس طریقے سے یہ ایک پتھر سے دو پرندے مارتے ہیں ۔ وہ ایک طرف سے اپنے پیروکاروں کو قرآن کریم کی تعلیمات سے دور کردیتے ہیں اور دوسری طرف سے خود کو تحریف کا عقیدہ رکھنے کا الزام لگنے سے محفوظ کرلیتے ہیں۔
یہاں پر میں ان عقائد کی ایک فہرست پیش کرتا ہوں:-
۱۔ خلفاء نے قرآن کریم تب جمع کیا جب علی رضی اللہ عنہ انکے پاس صحیح قرآن لیکر آئے ۔اس کو دیکھنے کے بعد انہوں نےعلی رضی اللہ عنہ کے جمع کئے ہوئے نسخے کو لینے سے انکار کردیا اور خود اپنا نسخہ جاری کروایا ۔
۲۔ جس طرح آج مسلم قرآن کریم کی قرآت کرتے ہیں یہ اس طریقہ پر نہیں جس سے اللہ تعالی راضی ہوں ، وہ اس سے مختلف ہے۔
۳۔جو قرآن کریم علی رضی اللہ عنہ نے جمع کیا تھا جس کو خلفاء نے رد کردیا ،اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کی گئے آیات کی تشریح ، اور ہر آیت کا سبب نزول لکھا ہوا تھا ۔
۴۔ جو قرآن کریم خلفاء نے جمع کیا تھا، وہ ابواب اور آیات کے ترتیب میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قرآن سے مختلف تھا۔
۵۔ جو قرآن کریم علی رضی اللہ عنہ نے جمع کیا تھا وہ آج کے دنیا میں موجود قرآن کے مقابلے میں معجزانہ طور پر کمال اور درستگی کے ساتھ صحیح جمع کیا گیا تھا۔
۶۔ علی رضی اللہ عنہ کا قرآن جو کہ چھپے ہوئے بارہویں امام ظاہر کریں گے ،وہ ایک بالکل مختلف قرآن ہے اس قرآن سے جس کو آج کل مسلمان استعمال کرتے ہیں۔ اس کی وجہ اس کی معجزانہ طاقت اور مختلف تشریح اور اس کے تدوین میں درستگی ہے ۔
اب ہم ان چھ عقائد کو ایک ایک کر کے بیان کریں گے
پہلا عقیدہ :
خلفاء نے قرآن کرم جمع کیا تو اس کے بعد علی رضی اللہ عنہ انکےپاس صحیح قرآن لیکر آئے جو کہ انہوں نے جمع کیا تھا، انہوں علی رضی اللہ عنہ کے جمع کئے ہوئے نسخے کو لینے سے انکار کردیا اور خود اپنا نسخہ جاری کروایا۔
اہل تشیع کے بڑے محدث ابن بابویہ القمی جسے یہ لوگ الصدوق کہتے ہیں، اپنی ایک کتاب "کتاب الاعتقادات فی دین الامامیہ" جو کہ شیعہ عقائد میں بہت اہمیت کی حامل ہے، اس کے صفحہ 86پر لکھتے ہیں :


كما كان أمير المؤمنين عليه السلام جمعه فلما جاءهم به قال : هذا كتاب ربكم كما أنزل على نبيكم لم يزد فيه حرف ولم ينقص منه حرف . فقالوا : لا حاجة لنا فيه عندنا مثل الذي عندك فانصرف وهو يقول : فنبذوه وراء ظهورهم واشتروا به ثمنا قليلا فبئس ما يشترون۔


امیر المومنین علیہ السلام نے قرآن جمع کیا اور جب وہ ان خلفاء کے پاس لے کر آئے۔ آپ نے کہا : یہ آپ کے رب کی کتاب ہے، بالکل اسی طرح لکھی گئی ہے جس طرح تمھارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی تھی۔ اس میں ایک لفظ کی نہ کوئی کمی ہے اور نہ کوئی زیادتی ہے۔
انہوں نے کہا :ہمیں اس کی ضروت نہیں ہے ۔ہمارے پاس اس طرح کا نسخہ ہے جس طرح کا تمھارے پاس ہے۔ توحضرت علی رضی اللہ عنہ وہاں سے یہ کہتے ہوئے چلے گئے۔


فَنَبَذُوهُ وَرَاءَ ظُهُورِهِمْ وَاشْتَرَوْا بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا ۖ فَبِئْڑسَ مَا يَشْتَرُونَ ٭


"تو انہوں نے اس کو پس پشت پھینک دیا اور اس کے بدلے تھوڑی سی قیمت حاصل کی۔ یہ جو کچھ حاصل کرتے ہیں ،برا ہے
آل عمران آیت 187
مشہور شیعہ عالم مرتضی الانصاری کتاب الصلاة ص 119 پر کہتے ہیں:

صفحہ 3 از 22