شیعہ علماء اور قرآن کریم کے بیچ بحران تحقیقی مقالہ (…

شیعہ علماء اور قرآن کریم کے بیچ بحران تحقیقی مقالہ ( ترجمہ:ابو عبداللہ زبیر بن حسین)

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 22 از 22


اگر کسی شخص کو حوزہ علمیہ میں عالم کی سند چاہئے تو اسے خود کو قرآن کریم کی تفسیر بیان کرنے سے بچنا ہوگا ورنہ اس پر جاہلیت کا الزام لگے گا ۔۔۔ وہ ایسے عالم کو جو کہ لوگوں کو تفسیر اور تشریح کر کے فائدہ پہنچائے، اس کو جاہل کہتے ہیں تاکہ اسے اس تعلیم کو چھوڑنے پر مجبور کیا جائے ۔۔۔ کیا آپ اسے عظیم نقصان نہیں سمجھیں گے !
ایران کا مشہور عالم اور فلسفی شہید مرتضی مطہری اپنی کتاب احیا الفکر الدین فی الاسلام میں بہت سی جگہوں پر اس کا ذکر کرتے ہیں اور صفحہ 44-46 پر لکھتے ہیں
إنَّ الجيل القديم نفسه قد هجر القرآن وتركه، ثم يعتب على الجيل الجديد لعدم معرفته بالقرآن؟!


إننا نحن الذين هجرنا القرآن، وننتظر من الجيل الجديد أن يلتصق به، ولسوف أثبت لكم كيف أن القرآن مهجور بيننا؟!
إذا كان شخص ما عليماً بالقرآن، أي إذا كان قد تدبر في القرآن كثيراً، ودرس التفسير درسا عميقاً، فكم تراه يكون محترماً بيننا؟ لا شيء.
أما إذا كان هذا الشخص قد قرأ "كفاية" الملا كاظم الخراساني، فإنه يكون محترماً وذا شخصية مرموقة. وهكذا ترون أن القرآن مهجور بيننا.
وإن إعراضنا عن هذا القرآن هو السبب في ما نحن فيه من بلاء وتعاسة، إننا أيضاً من الذين تشملهم شكوى النبي صلى الله عليه وسلم إلى ربه: (( يَا رَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا (الفرقان : 30)

 

پچھلے لوگوں نے خود ہی قرآن کریم کو چھوڑا اور الگ کیا ، اور وہ اب نئی نسل پر قرآن کریم سے بے راہ روی کا الزام لگاتے ہیں !؟ یہ ہم ہیں جنہوں نے قرآن کریم کو چھوڑ دیا ہے اور اب نئی نسل سے قرآن سے وابستگی کی توقع رکھتے ہیں۔ اور میں آپ کو ثابت کر کے دکھا دوں گا کہ قرآن کریم کو ہمارے ہاں چھوڑ دیا گیا ہے ۔ اگر کوئی شخص قرآن کریم کے متعلق علم رکھتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ اس کے مطالعے و معنی و تشریح میں گہرائی تک جانے کا ارادہ رکھتا ہے ۔ آپ کیا سوچتے ہیں اس کو ہمارے ہاں کتنی عزت ملی گے ؟ کچھ بھی نہیں اور اس کے بر عکس اگر کوئی شخص مولا کاظم خراسانی کی کتاب کفایہ پڑھ لے تو اس کی عزت کی وہ قابل احترام اور ممتاز شخصیت بن جائے گا۔ یوں قرآن کو ہم نے ترک کر دیا۔ ہمارے موجودہ غم و دباؤ کا سبب قرآن کریم کو چھوڑنا ہے ، اور ہم ان میں سے ہیں جن کے خلاف پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم شکایت کریں گے۔ (اور پیغمبر کہیں گے کہ اے پروردگار میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا (سورہ فرقان آیت : 30)
وہ پھر کہتے ہیں


قبل شهر تشرّف أحد رجالنا الفضلاء بزيارة العتبات المقدسة، وعند رجوعه قال:إنّه تشرّف بزيارة آية الخوئي حفظه الله، وسأله:لماذا تركت درس التفسير الذي كنت تدرسه في السابق ؟ فأجاب:أنّ هناك موانع ومشكلات في تدريس التفسير! يقول، فقلت له:إنّ العلامة الطباطبائي مستمر في دروسه التفسيرية في قم. فقال:إنّ الطباطبائي يضحي بنفسه. أي أن الطباطبائي قد ضحى بشخصيته الاجتماعية. وقد صّح ذلك


ایک مہینہ پہلے ہمارے ایک قریب نیک شخص بعض مقدس آستانوں کی زیارت سے مشرف ہوا۔ جب وہ واپس آیا تو اس نے کہاکہ اس کو آیت اللہ الخوئی سے ملاقات کا شرف ملا اور میں نے ان سے کہا کہ آپ نے تفسیر کے دروس دینا کیوں چھوڑ دیئے، جو آپ ماضی میں دیتے تھے۔ انہوں نے جواب دیا کہ تفسیر کے درس میں رکاو ٹیں اور مسائل ہیں۔ تب میں نے کہا کہ لیکن علامہ طباطبائی ابھی تک قم میں درس تفسیر دیتے ہیں " تب انہوں نے مجھے کہا کہ طباطبائی اپنی قربانی دی رہے ہیں۔ مطلب یہ کہ وہ اپنی سماجی عزت کی قربانی دے رہے ہیں۔
مطہری نے علامہ خوئی کے ترک تفسیر کے متعلق کلام اور طباطبائی کی قربانی کے متعلق تعلیق کرتے ہوئے کہا:


إنه لعجيب أن يقضي امرؤ عمره في أهم جانب ديني كتفسير القرآن ثم يكون عرضة للكثير من المصاعب والمشاكل : في رزقه , في حياته, في شخصيته, في احترامه, وفي كل شيء آخر. لكنه لو صرف عمره في تأليف كتاب مثل "الكفاية" لنال كل شيء تكون النتيجة أن هناك آلافا من الذين يعرفون الكفاية معرفة مضاعفة أي أنهم يعرفون الكفاية والرد عليه ورد الرد عليه والرد على الرد عليه ولكن لا نجد شخصين اثنين يعرفان القرآن معرفة صحيحة . عندما تسأل أحدا عن تفسير آية قرآنية يقول لك : يجب الرجوع إلى التفاسير.


یہ عجیب سی بات ہے کہ ایک شخص نے اپنی تمام عمر دین کے اہم پہلو یعنی تفسیر قرآن میں صرف کی۔ پھر اس پر بہت سی مشکلات اور مصائب آئے رزق میں بھی ، زندگی میں بھی ،شخصیت میں بھی ، احترام میں بھی اور دیگر تمام چیزوں میں بھی۔ لیکن جب اس نے اپنی زندگی ایک کتاب مثلا "الکفایہ" میں صرف کی تو اس نے سب کچھ پا لیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایسے لوگ موجود ہیں جو کفایہ کو جانتے ہیں اور اس پر رد کو بھی جانتے ہیں، اور اس رد پر رد کو بھی جانتے ہیں، اور اس رد پر رد کو بھی جانتے ہیں، لیکن ہمیں دو شخص نہیں ملتے جو قرآن کی صحیح معرفت کو جانتے ہوں۔ اگر کسی ایک سے آپ کسی قرآنی آیت کی تفسیر پوچھیں تو وہ آپ سے کہتا ہے کہ تفاسیر کی طرف رجوع کرنا چاہیئے۔

پھر ان میں یہ قدرت نہ رہی کہ اس پر چڑھ سکیں اور نہ یہ طاقت رہی کہ اس میں نقب لگا سکیں ( سورہ کہف آیت 97)
اختتام – اس مضمون کا مصنف ہمارے عزت ماب شیخ اور سابق شیعہ عبدالمالک الشافعی ہیں جنہوں اس کا نام الفصام النکد رکھا تھا اور اس کا انگریزی ترجمہ ہانی الطرابلسی الشافعی نے فروری 28- 2012کو کیا۔

 

نوٹ: اس تحقیقی مقالے کی پی ڈی ایف کتب سیکشن میں موجود ہے۔


صفحہ 22 از 22