شیعہ علماء اور قرآن کریم کے بیچ بحران تحقیقی مقالہ (…

شیعہ علماء اور قرآن کریم کے بیچ بحران تحقیقی مقالہ ( ترجمہ:ابو عبداللہ زبیر بن حسین)

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 21 از 22


اور شاید حوزہ کے شاگرد فقہ اور اصول میں اعلی مقام حاصل کرلیں ، لیکن وہ قرآن کریم کے مطابق زندگی نہیں گزار سکتا ، اور نہ ہی وہ قرآن کریم پر عمل کر سکتا ہے اور نہ ہی قرآن کریم کا روحانی پیغام سمجھ سکتا ہے ۔اور آپ دیکھیں گے کہ ہفتے اور دن گذرجاتے ہیں لیکن علم کا طالب نہ قرآن کریم کو چھوتا ہے اور نہ ہی اس کی آیات کو پڑھتا اور نہ ہی ان پر غور کرتا ہے ، کیوں کہ اس کے اور قرآن کریم کے درمیان کوئی روحانی رشتہ نہیں ہوتا (۔۔) اور یہ حوزہ اور معاشرہ کے لئے شرم کی بات ہے اور شاید ان میں سے بہت یہ قرآن کریم کو پڑھنا بھی نہ جانتے ہوں۔
آیت اللہ محمد باقر حکیم تفسیر سورہ الحمد جلد 4-5 پر حوزہ میں تفسیر کے نصاب پر لکھتا ہے


وقد قمت بتدريس هذه المادة في وقت لم تكن الحوزة العلمية العربية في قم مع الأسف ملتزمة بتدريس هذه المادة العلمية في منهجنا الدراسي العام


اور میں نے یہ نصاب پڑھایا ہے جب قم میں عربی حوزہ موجود تھا ، بد قسمتی سے وہاں اس کی عام نصاب کی تعلیم کو پڑھنے کا عزم نہیں تھا۔
ڈاکٹر جعفر باقری ثوابت و متغیرات الحوزہ علمیہ0 پر اس کے بارے میں بہت سی جگھوں اور صفحہ 109-110پر لکھتے ہیں


من الدعائم الأساسية التي لم تلق الاهتمام المنسجم مع حجمها وأهميتها في الحوزة العلمية: هو القرآن الكريم، وما يتعلق به من علوم ومعارف وحقائق وأسرار، فهو يمثل الثقل الأكبر، والمنبع الرئيسي للكيان الإسلامي بشكل عام
ص 76


قرآن کریم اور اس سے متعلق علوم ومعارف اور حقائق واسرار ان بنیادی امور میں سے شامل ہے جن کا اہتمام اس کی اہمیت کے باجود حوزہ علمیہ میں نہ ہوا۔ حالانکہ یہی ثقل اکبر ہے، اور یہی قرآن اسلام کا عمومی طور پر مرکزی منبع ہے۔
وہ پھر کہتے ہیں


بل وإنه لم يدخل في ضمن المناهج التي يعتمدها طالب العلوم الدينية طيلة مدة دراسته العلمية؛ ولا يختبر في أي مرحلة من مراحل سيره العلمي بالقليل منها ولا بالكثير


اور قرآن کریم مذہبی علوم کے طالب علم کے منتخب نصاب میں اس کے پورے تعلیم دور میں کہیں پر شامل نہیں ہوتا، اور اس سے اس کے علم کے بارے میں پورے نصاب میں کہیں پر بھی امتحان نہیں لیا جاتا۔
اور وہ کہتے ہیں


فيمكن بهذا لطالب العلوم الدينية في هذا الكيان أن يرتقي في مراتب العلم، ويصل إلى أقصى غاياته وهو (درجة الاجتهاد) من دون أن يكون قد تعرف على علوم القرآن وأسراره ، أو اهتم به ولو على مستوى التلاوة وحسن الأداء


مذہبی علوم کے طالب علم کے لئے یہ بالکل ممکن ہے کہ وہ قرآن کریم کے علوم اور ان کے راز کو جانے بغیر یا اس پر غور کئے بغیر کہ اس کو کیسے پڑھا جائے،علم میں ایک اہم مقام حاصل کر لے یا پھر مجتہد کے درجے تک پہنچ جائے۔
پانچویں وضاحت: حوزہ کے شیوخ اور طلباء کی تلاوت قرآن کریم سے پہلوتہی اختیار کرنا
آیت اللہ محمد یعقوب کتاب ثلاثہ یشکون ص 10 حاشیہ 3 پر لکھتا ہے


استقرأت عدداً من العينات العشوائية وكانوا من الطلبة المتقدمين للقبول في الحوزة الشريفة ، لاستبيان علاقتهم بالقران والمفروض إنهم يمثلون درجة من الوعي والإيمان الذي دفعهم لاختيار هذا المسلك ، فوجدت أن بعضهم لم يختم القران ولا مرة ، وآخر وهو متصدي للمنبر ختمه مرتين في حياته ،والكثير منهم يقرأ سوراً متفرقة في المناسبات والمواسم الدينية ، هذا على صعيدتلاوته ، أما فهمه واستيعاب معانيه والتأمل في مفاهيمه ومضامينه فالجهل هنا مطبق


میں نے بہت سے شاگرد دیکھیں ہیں جو کہ قرآن کریم کے ساتھ اپنا رشتہ جاننے کے لئے حوزہ میں داخل ہونا چاہتے ہیں ، اور شاید وہ کچھ حد تک اس سے باخبر ہو جاتے۔ اور یہ ان کا عقیدہ ہے جو کہ ان کو اس راستہ پر لاتا ہے۔ میں نے دیکھا کہ ان میں سے بہت ایک دفعہ بھی قرآن کریم کا ختم نہیں کرسکے اور ایک شخص جو کہ ممبر پر خطبہ دے رہا تھا، اس نے اپنی ساری زندگی میں صرف دو بار اس کو ختم کیا ہے ،ان میں کچھ لوگ مذہبی مواقع پر کچھ اجزاء ہی پڑھ لیتے ہیں۔ یہ تو تلاوت کی بات ہے، جہاں تک اس کتاب کی معنی ، تصور، اور مندرجات کو سمجھنے کی بات ہے تو اس سے مکمل جہالت پائی جاتی ہے۔
اوپر والا اقتباس ایک ماہر عالم کی گواہی ہے کہ جو کہ حوزہ میں پڑھاتے ہیں اور شاگردوں سے بہت رابطے میں رہتے ہیں ، اور وہ راز جانتے ہیں جو کہ ایک متوسط شیعہ سے چھپے ہوئے ہیں۔
چھٹی وضاحت: قرآن کریم کی تفسیر بیان کرنے والوں کا مذاق اڑانا اور ان کو کمتر سمجھنا
ہم نے دیکھا کہ کس طرح انہوں نے کتاب اللہ کو ترک کیا، اور یہ بھی دیکھا کہ کس طرح ان کے علماء اور طالب علم قرآن کریم کی تلاوت یا اس کے سکھانے پر زیادہ دھیان نہیں دیتے ، اور یہاں ہم ان کا ردعمل دیکھیں گے ان لوگوں کے خلاف جنہوں نےقرآن کریم کو سیکھنے ، بیان کرنے اور اس کو سکھانے کا فیصلہ کیا ۔
ایران کے سب سے اعلی رہنما علی الخامنائی ، الحوزہ العلمیہ فی فکر الامام الخمینی ص 59-60 پر اور ثوابت و متغیرات الحوزة العلمیة ص 110-112 پر لکھتا ہے


إنّ الأمر لم يقتصر في الحوزة العلمية على هذا الحد، بل تجاوز ذلك، وأصبح الاهتمام بمجالات الدراسة القرآنية مدعاة للاستهزاء عند بعض دعاة العلم، القائلين بأن العلم كل العلم ينحصر بدائرة الأبحاث الأصولية والفقهية، وهذا ما دعا إلى توجيه سهام التجريح إلى المنشغلين بالقرآن والعلوم القرآنية


حوزہ علمیہ میں یہ مسئلہ یہیں پر بس نہیں ہوتا بلکہ اس سے بھی آگے بڑھ گیا ہے۔ قرآنی علوم میں دلچسپی بعض اہل علم لوگوں کے ہاں ایک مزاق بن کہ رہ گئی ہے جو کہتے ہیں کہ پورے کا پورا علم فقہ اور اصول کی تحقیق تک محدود ہے۔ یہی وہ بات ہے جو کہ ان لوگوں کے لئے تنقید کا تیر ہے جو کہ قرآن کریم اور اس کے علوم میں خود کو مصروف رکھتے ہیں
اور خامنائی کہتا ہے


إذا ما أراد شخص كسب أي مقام علمي في الحوزة العلمية كان عليه أن لا يفسّر القرآن حتى لا يتّهم بالجهل.. حيث كان ينظر على العالم المفسّر الذي يستفيد الناس من تفسيره أنّه جاهل ولا وزن له علمياً لذا يضطر إلى ترك درسه.. ألا تعتبرون ذلك كارثة؟

صفحہ 21 از 22