شیعہ علماء اور قرآن کریم کے بیچ بحران تحقیقی مقالہ (…

شیعہ علماء اور قرآن کریم کے بیچ بحران تحقیقی مقالہ ( ترجمہ:ابو عبداللہ زبیر بن حسین)

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 20 از 22


میں حوزات کے علماء کو اور یونیورسٹی کے محققین کو کہتا ہوں کہ اٹھئے اور قرآن کریم کو جاہلیت کی برائی اور بداخلاق علماء سے بچائے جو کہ اس پر حملے کرتے ہیں اور جان بوجھ کر اس پر حملے کرتے رہتے ہیں۔ میرے علم کے مطابق میں پوری سنجیدگی سے کہتا ہوں کہ میں اپنی زندگی کے بارے میں افسردہ ہوں کہ میں نے اس کو جاہلیت اور گمراہی میں ضائع کردیا اور اے اسلام کے بہادر صاحبزدو حوزات اور جامعات کو جگاؤ کہ شاید یہ قرآن کریم میں بیان کی گئی تمام علوم پر غور کرسکیں اور قرآن کریم کی تعلیم کو اپنا مقصد اور سب سی پہلی منزل بنا لو تاکہ زندگی ختم ہوتے وقت تم کو افسوس نہ ہو جب بڑھاپا تمہیں لے لے اور تم اپنے جوانی کے دنوں پر افسوس کرتے رہو ؛جیسے مصنف خود۔
اس بدصورت حقیقت کو بیان کرنے کے واسطے یہ دستاویز اکیلا ہی کافی ہے جو کہ شیعہ کو متاثر کرتا ہے انکے عقیدہ کے سبب ، یہ ان کے موجودہ دور کے تمام ہی بڑے عالم جو کہ ایرانی اسلامی ریاست کا موجد ہے اس کی طرف سے پیش کی گئی بات ہے جب وہ اس سنجیدہ حالت کا اعتراف کرتا ہے جو کہ ایرانی شیعہ مدارس اور جامعات کی تھی ، کہ کس طرح علوم اللقرآن کو چھوڑ دیا گیا تھا ۔ اور وہ اس پر نادم ہوتا ہے اور اللہ تعالی کی کتاب سے دور جاہلیت اور گمراہی کی زندگی گزارنے پر معذرت خواہ ہوتا ہے۔
ایران کا موجودہ رہنما علی خامنائی اس عظیم نقصان کو بہت سی جگہوں پر ذکر کرتا ہے ہم کچھ اس کتاب الحوزہ العلمیہ فی فکر الامام الخامنائی ص 59-60
کچھ وجوہات اور حالات کی وجہ سے یا مخصوص نقطہ نظر کے سبب حوزہ السلامیہ قرآن اور علوم القرآن پر دھیان دینے میں تاریخی طور پر دور رہا ہے قرآن کریم اور اس کی علوم سے اس دوری کی وجہ سے حوزہ السلامیہ کی تعلیم پر منفی اثر پڑا ہے
اور وہ کہتا ہے


إن الإنزواء عن القرآن الذي حصل في الحوزات العلمية وعدم استئناسنا به ، أدى الى ايجاد مشكلات كثيرة في الحاضر ، وسيؤدي إلى ايجاد مشكلات في المستقبل ... وإن هذاالبعد عن القرآن يؤدي إلى وقوعنا في قصر النظر


حوزات میں جو خود کو قرآن کریم سے الگ کر لیا ہے اس کا سبب یہ ہےکہ ہم اس کے ساتھ خوش نہیں ہیں۔ یہ ہمارے موجودہ اور مستقبل میں بہت سے مسائل کا سبب بنے گا اور خود کو قرآن کریم سے دور کرلینا اندھیرے پن کا سبب بن رہا ہے۔
اور وہ کہتا ہے


مّما يدعو إلى الاستغراب أن طالب العلوم الدينية من الممكن أن يصبح عالماً ومجتهداً في مجال الإسلام والفكر والفقه الإسلاميين بمعزل عن القرآن الكريم "كتاب الوحي"


یہ حیرت کا سبب ہے کہ مذہبی علوم کے طالب علم قرآن کریم کے بغیر،اسلامی فکر اور فقہ کے عالم اور مجتہد بن جاتے ہیں۔
پھر کہتا ہے


مما يؤسف له أن بإمكاننا بدأ الدراسة ومواصلتها إلى حين استلام إجازة الاجتهاد من دون أن نراجع القرآن ولو مرة واحدة .. لماذا هكذا ؟ لأن دروسنا لا تعتمد على القرآن


یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم اپنی تعلیم شروع کرتے ہیں اور پھر قرآن کریم کو ایک دفعہ بھی دیکھے بغیر اجتہاد کی اجازت پا لیتے ہیں یہ کیوں ہے ؟ کیوں کہ ہماری علوم قرآن کریم پر انحصار نہیں کرتے۔
پھر کہتا ہے


من هنا، فإنَّ الحلَّ يكمن في إعادة الأمور إلى مجاريها الصحيحة، وبناء العلوم الإسلامية على محورية "الكتاب والسنّة" لا أن تتحوّل المعارف المؤسّسة على هامش الكتاب والسنة إلى معارف محورية، وتتحول دراسة الكتاب والسنة إلى دراسات فرعية، هذا نقضٌ للغرض، إنّ الأصول، والفقاهة، والمنطق، وعلوم العربية، وغيرها نحتاج إليها من أجل فهم الكتاب والسنّة لا العكس


یہاں سے ہمیں پتا چلتا ہےکہ مسائل کو ان کے مناسب جگہ واپس رکھنے میں ہی حل موجود ہے اور ہماری اسلامی تعلیم کی بنیاد کو قرآن و سنت پر آراستہ کیا جائے "۔ ہمیں ایسے علم کو قبول نہیں کرنا چاہئے جو کہ کتاب و سنت سے الگ ہو کر بنیادی طریقہ تعلیم بن جائیں اور کتاب و سنت کو دوسرے درجے کی ذیلی تعلیم بنادیں۔
اور وہ کہتا ہے


يجب أن لا نغفل عن القرآن الكريم و علومه و فهمه و الأنس به و يجب أن يكون القرآن جزءاً من دروس الحوزات


ہمیں کسی بھی صورت میں قرآن اور اس کے علوم اس کو سمجھنا اور اس سے راحت پکڑنے کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے اور قرآن کریم کو ہمارے حوزات علمیہ کی تعلیم حصہ ہونا چاہئے۔ ہمارے شاگردوں کو قرآن کریم یا کم سے کم اس کا ایک پارہ حفظ کرنے کی ضرورت ہے۔
مشہور آیت اللہ محمد حسین فضل اللہ کتاب ثوابت و متغیرات الحوزہ العلمیہ ص 111


فقد نفاجأ بأن الحوزة العلمية في النجف أو في قم أو في غيرهما لا تمتلك منهجا دراسيا للقرآن


ہمیں اس بات کو دیکھ کرحیرانی ہو سکتی ہےکہ نجف یا قم یا دوسرے حوزات علمیہ پڑھانے کے واسطے قرآن کریم کا نصاب نہیں رکھتے۔
مشہور آیت اللہ محمد یعقوب شیعوں کے تنظیم کے سربراہ اس حقیقت کا کتاب ثلاثہ یشقون القرآن المسجد الامام ص 39 اور بہت سی جگہوں پر اقرار کرتے ہیں کہ

 

وقد قلت في بعض كتبي انه من المؤسف حقا غياب القرآن عن مناهج الدراسة الحوزوية فقد نظمت بشكل لا يحتاج فيه الطالب إلى التعمق في القرآن الكريم من أول تحصيله إلى نهايته
 

اور میں اپنی کچھ پہلی کتب میں بھی بیان کیا ہےکہ بدقسمتی سے یہ حقیقت ہے کہ حوزات کے نصاب سے قرآن کریم غائب ہے یہ اس طریقے سے منصوبہ بندی کی گئی ہے کہ شاگرد کو شروع سے لے کر اپنی تعلیم کے آخر تک کہیں پر بھی قرآن کریم پر غور کرنے کی ضرورت نہ پڑے۔
اور وہ پھر کہتے ہیں


وربما يبلغ الحوزوي مرتبة عالية في الفقه والأصول وهو لم يحيَ حياة القرآن ولم يخض تجربة التفاعل مع القرآن واستيعابه كرسالة إصلاح. وقد تمر الأيام والأسابيع ولا تجد طالب العلم يمسك المصحف الشريف ليتلو آياته ويتدبر فيها لعدم وجود صلة روحية عميقة بينه وبين القرآن. ولو وجد فيه زاده وغذاءه الذي يغنيه عن غيره لما استطاع تركه, وهذه مصيبة عظيمة للحوزة والمجتمع وربما لا يحسن بعضهم قراءته مضبوطةً بالشكل

صفحہ 20 از 22