شیعہ علماء اور قرآن کریم کے بیچ بحران تحقیقی مقالہ (…

شیعہ علماء اور قرآن کریم کے بیچ بحران تحقیقی مقالہ ( ترجمہ:ابو عبداللہ زبیر بن حسین)

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 2 از 22

ترجمہ: اگر تم پیغمبر کی مدد نہ کرو گے تو خدا اُن کا مددگار ہے (وہ وقت تم کو یاد ہوگا) جب ان کو کافروں نے گھر سے نکال دیا۔ (اس وقت) دو (ہی ایسے شخص تھے جن) میں (ایک ابوبکرؓ تھے) اور دوسرے (خود رسول اللہﷺ) جب وہ دونوں غار (ثور) میں تھے اس وقت پیغمبر اپنے رفیق کو تسلی دیتے تھے کہ غم نہ کرو خدا ہمارے ساتھ ہے۔ تو خدا نے ان پر تسکین نازل فرمائی اور ان کو ایسے لشکروں سے مدد دی جو تم کو نظر نہیں آتے تھے اور کافروں کی بات کو پست کر دیا اور بات تو خدا ہی کی بلند ہے اور خدا زبردست (اور) حکمت والا ہے
(سورۃ التوبہ  آیت 40)
شیعہ علماء اپنی ساری توانائی اس کوشش میں ضائع کرتے ہیں کہ اس عظیم سعادت کو ایک بڑے جرم میں تبدیل کردیا جائے۔ شیعوں کے علماء اور ان کے فرقہ کے رہنما شیخ طوسی اپنی تفسیر التبيان الجامع لعلوم القرآن" میں اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد لَا تَحْزَنْ (غم نہ کرو ) کی تفسیر میں کہتا ہے اگر یہ اہانت نہیں ہے تو اس میں کوئی سعادت کی بات بھی نہیں ہے۔ اس میں صرف ڈرنے سے منع کیا جا رہا ہے۔
مطلب کہ یہ الفاظ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے مرتبے کو گراتے ہیں یا کم سے کم سعادت کے طور پر نہیں لئے جا سکتے۔ اس کے آگے اللہ تعالیٰ کے ارشاد "یقیناً اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے" کی تفسیر میں لکھتے ہیں:
 یہاں پر صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مراد ہیں۔ بالفرض اگر ابوبکر مراد بھی ہیں تو یہ کوئی ان کے لئے سعادت نہیں ہے بلکہ یہ ان کے لئے مضر ہوسکتا ہے۔ بالکل اس کی طرح جو ایک آدمی کو برا فعل کرتا دیکھے تو اسے کہے کہ یہ مت کرو اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہیں، مطلب اللہ تعالیٰ ہمیں دیکھ رہے ہیں۔"

۲۔سیدنا ابو بکر الصدیق کو اعزاز سے نوازا گیا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے ساتھ  میں رہنے کے لئے چنا یا جہاں سے کمانڈ کی جا سکے ۔
شیعہ عالم محمد باقر الصدر اپنی کتاب فدک فی التاریخ صفحہ ۱۲۸ پر اس سعادت کو تنقید میں بدلنے کی کوشش کر کہ لکھتا ہے :


وليس لدي من تفسير معقول للموقف إلا أن يكون قد وقف إلى جوار رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم وكسب بذلك موقفا هو في طبيعته أبعد نقاط المعركة عن الخطر لاحتفاف العدد المخلص في الجهاد يومئذ برسول الله صلى الله عليه وآله وسلم . وليس هذا ببعيد لآننا عرفنا من ذوق الصديق أنه كان يحب أن يكون إلى جانب رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم في الحرب لأن مركز النبي صلى الله عليه وآله وسلم هو المركز المصون الذي تتوفر جميع القوي الاسلامية على حراسته والذب عنه


میرے پاس اس کی کوئی مناسب تشریح نہیں ہے سواء اس کے کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبی جگہ کھڑا رہنے کی ایک کوشش ہے تاکہ ایسی جگہ لی جائے جو کہ قدرتی طور پر میدان جنگ میں خطرے سے دور ہو ۔ ہم صدیق کے طریقوں کو جانتے ہیں کہ انہیں جنگ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھڑا رہنا زیادہ پسند تھا کیوں کہ اس سے ان کی جگہ سب سے زیادہ محفوظ تھی جس کی حفاظت تمام اسلامی افواج کر رہی ہوتی تھیں ۔
پھر صفحہ ۱۲۵ پر لکھتا ہے


وشخصية اكتفت من الجهاد المقدس بالوقوف في الخط الحربي الأخير – العريش –


اور ایک مخصوص شخص جس نے اس بات کو زیادہ جانا کہ وہ جہاد مقدس میں سب سے آخری صفوں یعنی العریش پرکھڑا رہے۔
اگر ہم اس حقیقت سے صرف نظر کریں کہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ وہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے کھڑے تھے، میں ان سے پوچھنا چاہتا ہوں جن کی آنکھیں تعصب اور جاہلیت میں اندھی ہو گئی ہیں جب صدیق رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غار میں تھے اور کافر انہیں قتل کرنے کے درپے تھے اور ان کے ٹھیک اوپر کھڑے تھے " کیا یہ بھی جنگ میں ممکنہ بھاگنے کی کوشش تھی"

،  اس میں خیانت نہیں کی ہے البتہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ انہوں نے دوسری ضروری امانت (یعنی امامت) میں خیانت ضرور کی ہے جس ہر ہم بھروسہ کرتے ہیں اور یہ مذہب کے لئے سب سےزیادہ نقصان دہ ہے۔

صفحہ 2 از 22