شیعہ علماء اور قرآن کریم کے بیچ بحران تحقیقی مقالہ (…

شیعہ علماء اور قرآن کریم کے بیچ بحران تحقیقی مقالہ ( ترجمہ:ابو عبداللہ زبیر بن حسین)

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 19 از 22


ولا نستطيع إطلاق الحديث المسؤول بوجود عناصر غيبية مميزة تخرجهم عن مستوى المرأة العادي لأن ذلك لا يخضع لأي إثبات قطعي


اور ہم یہ نہیں کہ سکتے کہ کوئی خفیہ چیزیں ہیں جو کہ انہیں ایک متوسط عورت سے الگ کر سکیں کیوں کہ اس کا کوئی واضح ثبوت نہیں ہے۔
جلال الدین الصغیر الوجھہ ص 13-15میں فضل اللہ کے متعلق اور بہت سے مراجع کے خیالات ذکر کرتے ہیں


وفيما صرح أغلبهم بضلاله وإضلاله، تراوحت مواقف بعضهم بين التحفظ في تثبيت الموقف على الورق رغم وضوح موقفه العملي، وبين من بلغ به درجة الفساد والإفساد وأدخله في دائرة الكفر، ولعلنا في حالة كهذه لم نحصل على إجماع كهذا بين كل هذا العدد من المراجع والآيات العظام رغم اختلاف بعضهم المعروف في بعض التوجهات الاجتماعية والفقهية والأماكن، ونذكر من بين أسمائهم الشريفة ما يلي
: 1 - السيد علي السيستاني.
2 - المرحوم السيد محمد الروحاني (أستاذ فضل الله).
3 - السيد محمد سعيد الحكيم.
4 - الشيخ الوحيد الخراساني.
5 - الشيخ جواد التبريزي.
6 - السيد تقي القمي.
7 - الشيخ محمد تقي البهجة.
8 - السيد محمد الحسيني الشاهرودي.
9 - السيد مهدي الحسيني المرعشي.
10 - السيد محمد الحسيني الوحيدي التبريزي.
11 - الشيخ بشير النجفي.
12 - الشيخ نوري الهمداني.
13 - الشيخ إسحاق فياض.
14 - الشيخ الفاضل اللنكراني.
15 - الشهيد الشيخ علي الغروي.
16 - الشهيد الشيخ مرتضى البروجردي.


اور ان میں اکثر نے یہ اقرار کیا کہ فضل اللہ گمراہ ہوگئے ہیں اور وہ گمراہی کا سبب بن رہے ہیں۔ اور ان میں سے کچھ کا نقطہ نظر اس پر تحریری تنقید اور کچھ کہتے ہیں کہ وہ بگڑنے کی حد تک جا چکا ہے جس کو وہ کفر کے دائرہ میں رکھتے ہیں اور ہم ان میں سے کچھ کے نام بتا دیتے ہیں
1- سید علی السیستانی
2- سید محمد سعید الحکیم
3- سید محمد الروحانی (فضل اللہ کے شیخ)
4- شیخ الوحید الخراسانی
5- شیخ جواد التبریزی
6- سید تقی القمی
7- شیخ محمد تقی بھجت
8- سید محمد الحسینی الشہرودی
9- سید مھدی الحسینی المراشی
10- سید محمد الحسینی الوحید التبریزی
11-شیخ باقر النجفی
12- شیخ نوری الحمدانی
13- شیخ اسحاق فاضل
14 – شیخ الفضل اللنکارانی
15- شہید شیخ علی الغراوی
16-شہید شیخ مرتضی البروجودوری
الصغیر فضل اللہ کو گالیاں دیتے ہوئے ص 55 پر لکھتا ہے


وليس من باب الخبث التساؤل عما إذا كان من الحق التصور بأن محاضرات هذا الرجل في النساء بل وخلوته معهن


اور اس کے لئے اتنی عزت کافی ہے کہ لوگ اسے عورتوں کا مرد یا پھر شہوت پرست کہیں۔
تو یہ سارا غصہ گالیاں اور تکفیر صرف اس لئے ہیں کہ فاطمہ رضی اللہ عنہ معصوم ہیں اور غدیر کے اسناد کے بارے میں اس سے سوال ہوا ۔ لیکن اگر وہ اللہ تعالی کی کتاب پر حملے کرتا تو آپ دیکھتے کہ کس طرح اس کی تعریف کی جاتی۔
3۔ ان کا اپنے آیت اللہ محسن الامین الحسینی العامل المتوفی سنہ 1953 کے بارے میں موقف جس نے عاشورہ کے روز خود کو تلوار اور زنجیروں سے مارنے سے منع کیا
جعفر الشاھخوری نے کتاب مرجیات المرحلہ وغبر التغیر میں اس کی فتوی کے متعلق کچھ شیعہ علماء کا ردعمل لکھا ہے جو میں یہاں بیان کرتا ہوں
الف: سید صالح الحلی نے اس پر تنقید میں ایک نظم لکھی تھی جس میں ان سب مسافروں کو جو شام سے گزریں، کہا کہ اس کی منہ پر تھوکیں۔
ب: سید رضا الحندی نے بھی ایک نظم لکھی جس میں شیعوں کو کہا گیا کہ الامین کو فاطمہ رضہ کی اولاد سے خارج کردیں
ج: ایک اور نے لکھا ہے کہ اس کے فتوے مذہب و دین کو تباہ کردیں گے اور پھر اس نے اس کو محمد بن عبدالوھاب کے ساتھ ملایا جو کہ قبروں پر طواف و سجود سے منع کرتے تھے ۔
یہ بہت ہی سخت قسم کی تنقید ان کے خلاف تنقید کے ساتھ برابر کہی جا سکتے ہیں جو کہ قرآن کریم کی تحریف کا عقیدہ رکھتے ہیں جن کو علامہ العلماء ، اللہ تعالی ان کی زندگی بڑھائے ، اللہ ان کے درجے بلند کرے اللہ تعالی ان پر رحم کرے کہا جاتا ہے وغیرہ۔
یہ تین چھوٹی سی مثالیں تھیں جو کہ آپ کو دکھائی گئ کہ معمولی سے اختلاف پر کس طرح یہ اپنے علماء پر سے بھڑاس نکالتے ہیں ایسے اختلاف جو کہ اللہ تعالی کی کتاب کو تحریف شدہ ماننے سے شدت اور سنگینی میں بہت ہی کم ہیں ۔ یہ بتاتا ہے کہ ان کو اللہ تعالی کی کتاب کے لئے کتنی حد تک محبت و عزت ہے اب میں غیر جانبدار قارئین سے پوچھنا چاہوں گا کہ کیا یہ سب شیعہ علماء کی نظر میں اللہ تعالی کی کتاب کی عظمت اور اہمیت ظاہر کرتا ہے ؟
تیسری وضاحت : شیعہ حوزات جہاں شیعہ علماء کی تربیت ہوتی ہے، وہاں قرآن کریم کی تدریس کا احوال
یہ ایک ایسی بدصورت حقیقیت ہے جس کا اعتراف ان کے بہت ہی بڑے عالم کرچکے ہیں
مشہور آیت اللہ خمینی القرآن الثقل الاکبر ص 32 پر اس حقیقیت کے بارے میں لکھتے ہیں


أيتها الحوزات العلمية وجامعات أهل التحقيق قوموا وانقذوا القران الكريم من شر الجاهلين المتنسكين والعلماء المتهتكين الذين هاجموا ويهاجمون القران عمداً وعن علم فإنني أقول بشكل جدي وليس (للتعارف العادي) أني أتأسف لعمري الذي ذهب هباءً في طريق الضلال والجهالة. وأنتم يا أبناء الإسلام الشجعان أيقظوا الحوزات والجامعات للالتفات إلى شؤون القران وأبعاده المختلفة جداً. واجعلوا تدريس القران في كل فروعه مد نظركم وهدفكم الأعلى. لئلا لا قدر الله أن تندموا في اخر عمركم عندما يهاجمكم ضعف الشيخوخة على أعمالكم وتتأسفوا على أيام الشباب. كالكاتب نفسه

صفحہ 19 از 22