شیعہ علماء اور قرآن کریم کے بیچ بحران تحقیقی مقالہ (…

شیعہ علماء اور قرآن کریم کے بیچ بحران تحقیقی مقالہ ( ترجمہ:ابو عبداللہ زبیر بن حسین)

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 18 از 22


ماہر محقق اور منفرد محدث مولانا مجلسی کہتے ہیں
اور پھر ص 144 پر کہتا ہے
نقل المجلسي رحمه الله
المجلسی اللہ تعالی ان پر رحمت کرے روایت کرتے ہیں
اور ص 587 پر لکھتا ہے
وقد فسر المحدث الجليل المجلسي عليه الرحمة
ہمارے معزز محدث المجلسی ان پر رحمت ہو وضاحت کرتے ہیں
میرے ساتھ آپ بھی اللہ تعالی کی کتاب کی طرف ان کا بے شرم رویے پر غور کریں کہ وہ نہ تو ان کی تکفیر کرتے ہیں اور نہ ہی ان پر تنقید کرتے ہیں جو کہ تحریف کے قائل ہیں ، اس کے بر عکس وہ بڑے ہی فصیح انداز میں ان کی تعریف کرتے ہیں ۔
دوسری وضاحت: تحریف سے کم اہمیت کے مسائل پر ان کا کچھ علماء کے خلاف غصہ
1۔ ان کا موقف ان کے سب سے بڑے عالم اور ان کی چار اہم کتب میں سے ایک کے مصنف ابن بابویہ قمی المعروف شیخ صدوق کی طرف سے جو کہ مانتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھولتے تھے۔
الصدوق من لایحضرالفقیہ جلد 1 ص 359-360 پر لکھتا ہے ۔
انتہا پسند اور ان کے ساتھی اللہ کی ان پر لعنت ہو اس بات کا انکار کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے غلطی اور بھول چوک ہوسکتی ہے۔۔ ہمارے شیخ محمد بن الحسن بن الولید اللہ کی ان پر رحمت ہو ،فرمایا کرتے تھے کہ غلو کی جانب پہلا قدم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سہو کا انکار کرنا ہے۔ اگر ان روایات جو کہ اس بارے میں نازل ہوئی ہیں ان کے انکار کی اجازت دی جائے تو یہ بھی ممکن ہے کہ ہماری ساری روایات کو رد کیا جائے جو اس دین اور شریعت کو منسوخ کرے گا ۔" اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سہو ثابت کرنے کے لئے لکھنے اور جو اس کا انکار کرتے ہیں ،ان کا رد کرنے پر مجھے اجر کی امید ہے۔

ان کے عالم شیخ مفید اپنی کتاب سہو النبی ص 20 پر شیخ صدوق کو پرتشدد اور نارضگی بھراہ جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں


إعلم، أن الذي حكيت عنه ما حكيت، مما قد أثبتناه، قد تكلف ما ليس من شأنه، فأبدى (2) بذلك عن نقصه في العلم وعجزه، ولو كان ممن وفق لرشده لما تعرض لما لا يحسنه، ولا هو من صناعته، ولا يهتدي إلى معرفة طريقه، لكن الهوى مود لصاحبه


ہم جانتے ہیں کہ ایک شخص جس سے ہم نے یہ روایت کی خود کو اس مسئلہ میں ملا دیا ہے جس کا اس سے کوئی تعلق نہیں ، اور اور اس نے دکھا دیا کہ اس کو کتنا کم علم ہے اوروہ کتنا نااہل ہے۔۔ اس نے ایسے مسئلہ کا سامنا کیا ہے جس میں وہ اچھا نہیں ہے اور نہ ہی یہ اس کی مہارت میں شامل ہے اور نہ ہی اس کو اس کی طرف ہدایت ہوسکتی ہے لیکن خواہش اس کو لے جاتی ہے۔

اور صفحہ نمبر 30 پر شیخ صدوق کے بارے میں کہتا ہے


وهذا ما لا يذهب إليه مسلم ولا ملي ولا موحد، ولا يجيزه على التقدير في النبوة ملحد، وهو لازم لمن حكيت عنه ما حكيت، فيما أفتى به من سهو النبي عليه السلام، واعتل به، ودال على ضعف عقله، وسوء اختياره، وفساد تخيله.
وينبغي أن يكون كل من منع السهو على النبي عليه السلام في جميع ما عددناه من الشرع، غاليا كما زعم المتهور في مقاله: أن النافي عن النبي عليه السلام السهو غال، خارج عن حد الاقتصاد.
وكفى بمن صار إلى هذا المقال خزيا


کوئی بھی اس پر یقین نہیں کرسکتا، نہ کوئی مسلمان اور نہ کوئی ایسا شخص جو اسلام لایا اور پھر اسے رد کردیا ، نہ کوئی ایک خدا کو ماننے والا اور یہاں تک کہ نہ ہی بے دین نبوت کے تصور کے طور پر اس کو مان سکتا ہے اور میں نے پہلے جس کا ذکر کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ پر بھول چوک کا فتوی دینے کے سبب اس کا مستحق ہے۔ یہ اس کی دماغی کمزوری اور اس کی بری پسند اور اس کے تخیل کی خرابی کو ظاہر کرتی ہے۔ جس طرح کہ ایک لاپرواہ انسان نے یہ دعوی کیا ہے کہ جو پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی بھول چک سے انکار کرتا ہے وہ انتہا پسند ہے٭
اور صفحہ 32 پر فرماتے ہیں


وإن شيعيا يعتمد على هذا الحديث في الحكم على النبي عليه السلام بالغلط، والنقص، وارتفاع العصمة عنه من العناد لناقص العقل، ضيف الرأي، قريب إلى ذوي الآفات المسقطة عنهم التكليف


اس نے اس کے بارے میں اور بھی بہت سی عجیب چیزیں کہیں ہیں لیکن اوپر والی بات ہی کافی ہے اور آپ دیکھ سکتے ہیں کہ یہ بالکل ایک آتش فشان کے غصے میں پھٹنے کی طرح ہے یہ سب اس لئے ہے کہ ایک آدمی یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عام انسان کی طرح بھولتے تھے اور دوسری طرف مثال کے طور پر اگر شیخ صدوق دعوی کرتے کہ قرآن کریم جو ہمارے پاس ہے اس کا ایک صفحہ غائب ہے تو مجلسی ان کی اس طرح تعریف کرتے : ہمارے مولانا ، اسلام کے عظیم عالم اللہ تعالی ان کے عظیم راز کو محفوظ رکھے اور ان کے مقبرے کو ہمیشہ روشن رکھے"۔
2۔ ان کا انکے بڑے عالموں میں ایک مرجیع لبنان کے آیت اللہ محمد حسین فضل اللہ کے بارے میں موقف کیوں کہ اس سے حدیث غدیر ، فاطمہ کی معصومیت اسقاط جنین کے واقعے کی سند کے بارے میں سوال کیا گیا
فضل اللہ نے الندوہ رسالے جلد 1 س 422 پر کہا


إن مشكلتنا هي أن (حديث الغدير ) هو من الأحاديث المروية بشكل مكثف من السنة والشيعة، ولذلك فإن الكثير من إخواننا المسلمين السنة يناقشون الدلالة ولا يناقشون السند


ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ حدیث غدیر ان روایات میں سے ہے جو کہ اہل السنہ اور شیعہ دونوں کی کتب میں بہت روایت کی گئی ہے اس لئے ہمارے بہت سے سنی بھائی اس کے متن پر بحث کرتے ہیں نہ کہ اسناد پر۔
آئیے دیکھتے ہیں کہ اس میں کون سا چھوٹا سا اشارہ ہے جس سے حدیث غدیر کی سند بنتی ہے، عراق کے مشہور مذہبی اور سیاسی شخصیت شیخ جلال الدین الصغیر اس کے بارے میں کتاب لھذا کانت الموجھہ ص 74 پر کہتے ہیں


هذا النص هو أحد النصوص التي اعتمدتها المرجعية الدينية في حكمها على فضل الله بكونه ضالا ومضلا وخارجا عن المذهب الحق


یہ ان عبارتوں میں سے ایک عبارت ہے جس کے اوپر فضل اللہ پر فتوی دینے کے لئے ہمارے مذہبی علماء انحصار کرتے ہیں کہ وہ گمراہ ہوگیا ہے اور اس گمراہی کی وجہ سے وہ ایک سچے فرقہ کے دائرہ سے باہر ہوگیا ہے۔
فضل اللہ تعاملات السلامیہ حول المرہ ص 8-9 پر فاطمہ رضہ اور سیدہ مریم کے بارے میں کہتے ہیں

صفحہ 18 از 22