شیعہ علماء اور قرآن کریم کے بیچ بحران تحقیقی مقالہ (…

شیعہ علماء اور قرآن کریم کے بیچ بحران تحقیقی مقالہ ( ترجمہ:ابو عبداللہ زبیر بن حسین)

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 17 از 22


جہاں تک اہل سنت کے موجودہ مصنفین مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ ہم اس کی تکفیر کریں، یا ان کو اپنے گروہ سے الگ کردیں یا ان سے تعلق ختم کردیں اور اس کو اپنے دائرے سے خارج کردیں تو یہ غلط ہے اور بالکل ہی ناممکن ہے۔
شیعہ عالم علی المحسن للہ ثم للحقائق ص 542 میں اس کے بارے میں لکھتے ہیں
اسلام کے دفاع میں مرزا حسین نوری کے واضح اثرات اور عظیم کوششیں موجود ہیں ان کے مقابلے میں ان کا اپنی کتاب میں پھسلنے کے سبب سے ہم ان کی سب کوششوں کو نظر انداز نہیں کرسکتے، نہ ہی ان کی ساکھ کو کچھ کم کرسکتے ہیں۔ کیوں کہ ہر پرہیزگار انسان میں کچھ عیب ضرور ہوتا ہے اور ہر علم رکھنے والا ضرور پھسلتا ہے ۔ ساتھ میں یہ بھی حقیقت ہے کہ انہوں یہ نہیں کہا کہ " قرآن کریم جو ہمارے ہاتھوں میں موجود ہے وہ زیادتی یا کمی کے حساب سے مسخ شدہ ہے (یعنی اس میں زیادتی یا کمی کی گئی ہے) بلکہ انہوں نے کہا کہ بے شک جو قرآن کریم ہمارے ہاتھوں میں ہے اس میں سے کچھ آیات یا الفاظ چھوڑ دئے گئے ہیں۔
مشہور آیت اللہ خمینی کتاب الاربعون الحدیث ص 21-22 پر اس کے بارے میں کہتا ہے


المولى العالم الزاهد الفقيه المحدث الميرزا حسين النوري نور الله مرقده الشريف


سید ، عالم ، فقیہ، محدث مرزا حسین نوری اللہ تعالی ان کے مقبرے کو روشنی سے بھردے۔
شیعوں کا ایک اور بڑا عالم محمد باقر بن محمد تقی مجلسی بحار الانوار کا مصنف جس نے کتاب مراۃ العقول جلد 12 ص 525 پر قرآن کریم کےمنحرف ہونے کا لکھا ہے
اور یہ حدیث صحیح ہے اور یہ کوئی راز نہیں ہے کہ یہ روایت اور بہت سی صحیح روایات واضع طور پر بیان کرتی ہیں کہ قرآن کریم میں کمی اور ہیرا پھیری ہوئی ہے۔ اس بارے میں ، میں نے یہ روایات متواتر پائی ہیں (یعنی بہت سے راویوں نے بیان کی ہیں) اور ان سب کا انکار کا مطلب ہے کہ پھر کسی بھی روایات پر انحصار نہیں کیا جا سکتا۔ اس سے بھی آگے یہ میرا عقیدہ ہے کہ اس بارے میں (یعنی قرآن کریم کے منحرف ہونے کے بارے میں) جو روایات ہیں وہ امامت کی روایات سے کم درجےکی نہیں ہیں۔ تو وہ ان روایات پر انحصار کر کہ امامت کو کیسے ثابت کرسکتے ہیں ؟
نجف کے حوزہ امامیہ کے رہنما اور موجودہ دور کے بہت ہی بڑے عالم آیت اللہ ابوالقاسم الخوئی نے اس کی تعریف میں اپنی کتاب معجم الرجال الحدیث میں بہت سی جگہوں پر لکھا ہے جیسا کہ جلد 15 ص 221 پر کہتا ہے

9940 - محمد باقر بن محمد تقي:


قال الشيخ الحر في تذكرة المتبحرين (733): " مولانا الجليل محمد باقر ابن مولانا محمد تقي المجلسي: عالم، فاضل، ماهر، محقق، مدقق، علامة، فهامة، فقيه، متكلم، محدث، ثقة ثقة، جامع للمحاسن والفضائل، جليل القدر، عظيم الشأن، أطال الله بقاءه.
له مؤلفات كثيرة مفيدة، منها: كتاب بحار الأنوار في أخبار الأئمة الأطهار، يجمع أحاديث كتب الحديث كلها، إلا الكتب الأربعة، ونهج البلاغة، فلا ينقل منها إلا قليلا، مع حسن الترتيب وشرح المشكلات، وهو خمسة وعشرون مجلدا، وكتاب جلاء العيون، وكتاب حياة القلوب، وكتاب عين الحياة، وكتاب مشكاة الأنوار في فضل قراءة القرآن فارسي، وكتاب حلية المتقين، وكتاب تحفة الزائر، وكتاب ملاذ الأخيار في شرح تهذيب الاخبار، وكتاب مرآة العقول في شرح الكافي، وكتاب الفوائد الطريفة في شرح الصحيفة الشريفة، ورسالة في الرجعة، ورسالة في اختيار الساعات، وجوابات المسائل الطوسية، وشرح روضة الكافي، ورسالة في المقادير، ورسالة في الرجال، ورسالة في الاعتقادات، ورسالة في مناسك الحاج، ورسالة في السهو والشك وغير ذلك، وهو من المعاصرين، نروي عنه جميع مؤلفاته وغيرها إجازة ".
وقال الأردبيلي في جامعه: " محمد باقر بن محمد تقي بن المقصود علي، الملقب بالمجلسي مد ظله العالي: أستاذنا وشيخنا، وشيخ الاسلام والمسلمين، خاتم المجتهدين، الإمام العلامة، المحقق المدقق، جليل القدر، عظيم الشأن، رفيع المنزلة، وحيد عصره، فريد دهره، نقة، ثبت، عين، كثير العلم، جيد التصانيف، وأمره في علو قدره، وعظم شأنه، وسمو رتبه، وتبحره في العلوم العقلية والنقلية، ودقة نظره، وإصابة رأيه، وثقته وأمانته، وعدالته أشهر من أن يذكر، وفوق ما يحوم حوله العبارة، وبلغ فيضة وفيض والده رحمه الله تعالى دينا ودنيا لأكثر الناس من العوام والخواص، جزاه الله تعالى أفضل جزاء المحسنين، له كتب نفيسة جيدة، قد أجازني دام بقاؤه وتأييده أن أروي عنه جميعها، منها: كتاب بحار الأنوار

 

9940- محمد باقر محمد تقی: شیخ الحر تذكرة المتبحرين ص 733 پر کہتے ہیں ہمارے مولانا جلیل القدر محمد باقر بن مولانہ محمد تقی المجلسی جو کہ عالم، فاضل، ماہر، محقق، مدقق، علامة، فهم رکھنے والا ،فقيه، متكلم، محدث، ثقة ثقة، تمام اچھی خصلتوں اور فضائل کے مالک، ایک بہت ہی قابل قدر آدمی تھے ( اللہ تعالی اس پر ہمیشہ رحمت قائم رکھے)۔
الاردبیلی اس کے بارے میں جامع الروات میں کہتے ہیں : محمد الباقر بن محمد تقی بن مقصود علی جو کہ مجلسی کے نام سے مشہور ہیں اللہ ان پر اپنا سایا اور بڑھائے ، ہمارے شیخ ، ہمارے عالم ، مسمانوں اور اسلام کے عالم ، مجتہدین کے خاتم اور ایک علماء کے امام ۔ محقق ، مدقق اس سب میں بہت اعلی درجے پر تھے اور اپنے زمانے میں بے مثال اور منفرد تھے اللہ تعالی انہیں بھلائی کرنے والوں میں سب سے اچھا اجر دے ان کے بہت سے قیمتی کتب تھے اور انہوں نے مجھے اجازت دی کہ میں ان سے سب کچھ روایت کروں جیسا کہ بحار الانوار۔
مشہور آیت اللہ خمینی کتاب الاربعون الحدیث ص 143 پر اس کے بارے میں کہتے ہیں


يقول المحقق الخبير والمحدث المنقطع النظير مولانا المجلسي

صفحہ 17 از 22