شیعہ علماء اور قرآن کریم کے بیچ بحران تحقیقی مقالہ (…

شیعہ علماء اور قرآن کریم کے بیچ بحران تحقیقی مقالہ ( ترجمہ:ابو عبداللہ زبیر بن حسین)

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 16 از 22


عزير عليه السلام لما رجع إلى قومه وظهر فيهم قرأ التوراة كما أنزلت على موسى بن عمران عليه السلام . القائم عليه السلام حين يظهر لأهل الأرض يقرأ القرآن كما أنزل على خاتم النبيين صلى الله عليه وآله


جب عزیز علیہ السلام اپنے لوگوں میں واپس آکر ان پر ظاہر ہونگے تو وہ تورات کو اس طرح پڑھیں گے جس طرح موسی بن عمران علیہ السلام پر نازل ہوا تھا ۔ اور امام قائم جب زمین کے لوگوں پر ظاہر ہونگے تو وہ قرآن کریم کو اس طرح پڑھیں گے کہ جس طرح وہ خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ و سلم پر نازل ہواتھا۔
پھر صفحہ نمبر 63 پر کہتا ہے


أقول يمكن أن يكون هذا هو السر في تسمية القائم عليه السلام بالقرآن العظيم باعتبار أنه الآمر به وحامل الناس على قراءته ومظهره ومروجه.


میں کہتا ہوں : اس میں کوئی راز ہوسکتا ہے کہ کیوں امام قائم کو قرآن عظیم کہہ کر پکارا گیا ہے اس اعتبار سے کہ وہ اس کے متعلق حکم دیں گے اور لوگوں کو اس کی قرات پر مجبور کریں گےاور اس پر مجبور کریں گے کہ اس کو ظاہر کریں اور اس کی ترویج کریں۔

تو یہ عقیدہ بھی ویسا ہی ہے جیسے پہلے تھا ۔ شیعوں کو مجبور کرتا ہے کہ اس قرآن کریم کو نظر انداز کریں اور اس پر زیادہ دھیان مت دیں ۔ اس کے برعکس وہ اپنے امام اور نئے قرآن کا انتظار کریں۔ یہ بالکل اس طرح ہے کہ شیعہ کہہ رہے ہیں کہ اس کتاب کو بھول جاؤ جو کہ خلفاء نے جمع کیا ہے ہم سب کو چاہئے کہ مہدی کا انتظار کریں کہ وہ نیا قرآن ظاہر کریں ، ایس مکمل قرآن جو اللہ کی رضا کا سبب بنے اور جو کہ امام غائب کے ساتھ ہے۔
باب 3:
شیعہ کی حقیقت سے اس بحران کے کچھ توضیحات کو پیش کرنا
ایسے عقائد جو کے بیان کرنےکے بعد جوکہ شیعہ کو قرآن کریم پر شک اور اس سے روکتے ہیں اب وقت آگیا ہے کہ بتایا جائے کہ حقیقت میں شیعوں پر یہ عقائد کتنا اثر کرتے ہیں

پہلی وضاحت: ان کا ان لوگوں کے کفر سے انکار جو قرآن کریم میں تحریف کو مانتے ہیں۔
جب شیعہ علماء کی اس جماعت نے فیصلہ کیا کہ وہ قرآن کریم کو تحریف شدہ نہیں مانیں گے ، ان سے توقع تھی کہ وہ ان لوگوں کے خلاف سخت موقف رکھیں گے جو کہ تحریف کے قائل ہیں ، جیسا کہ ان کی تکفیر کرنا ، ان کو مرتد اور منافق کہنا ، ان سے اور ان کے عقائد سے بیزاری ، تاکہ شاید اللہ تعالی قیامت کے دن ان سب کوایک جگہ پر جمع نہ کرے لیکن وہ اپنے کمزور موقف کی وجہ سے ہر کسی کو حیران کئیے ہوئے ہیں جس کے نتیجہ میں ان کا قرآن کریم سے روحانی رشتہ اور کمزور ہوجاتا ہے

مشہور آیت اللہ المرجہ محمد سعید الحکیم کتاب رحاب العقائد جلد 1 ص 149 عنوان جو تحریف کے قائل ہیں ان کے بارے میں صحیح موقف " کے تحت لکھتے ہیں


نعم لا يحسن الإغراق في النيل ممن يذهب للتحريف فإنهم وإن وقعوا في خطأ فادح إلا أنه خطأ علمي يبتني على الغفلة لا يسقط الحرمة ولا يوجب كفرا


ہاں جو تحریف کے قائل ہیں، ان پر حد سے زیادہ تنقید کرنا اچھا نہیں ہے۔ چاہے انہوں نے بہت ہی بڑی غلطی کی ہے لیکن یہ غفلت برتنے کے نتیجہ میں ایک علمی غلطی مانی جائے گی اور یہ ان کے اس حق کو ختم نہیں کرتا کہ ان سے مسلمانوں کی طرح برتاؤ کیا جائے۔ انہیں کافر کہنے کی ضرورت نہیں ہے٭

شیعوں کے ایک بہت ہی بڑا عالم مرزا النوری الطبرسی جو کہ قرآن کریم کو منحرف مانتا ہے، اس نے ایک قرآن کریم کو تحریف شدہ ثابت کرنے کے لئے پوری کتاب لکھی تھی، جو فصل الخطاب فی اثبات تحریف کتاب رب الارباب کے نام سے جانی جاتی ہے۔ موصوف اس کتاب کی تعارف میں ص 2 پر فرماتے ہیں
هذا كتاب لطيف وسفر شريف عملته في إثبات تحريف القرأن وفضائح أهل الجور والعدوان وسميته فصل الخطاب في تحريف كتاب رب الأرباب
یہ ایک درست کتاب اور عظیم تالیف ہے جو کہ میں نے قرآن کریم کو تحریف شدہ ثابت کرنے اور ظالم اور جابر لوگوں کو ذلیل کرنے کے لئے لکھی ہے۔
صحیح العقیدہ مسلمانوں کے مطابق اس بدمعاش شخص کے کفر میں کوئی شک نہیں ۔تاہم شیعوں نے اس کی تعریف کرنے کا فیصلہ کر لیا اور اس کی مذمت کرنے کے بجائےاس کی تعظیم کی ۔ شیخ علی بن حس البلادی انوار البدریان ص 129-130 پر اس کے بارے میں کہتا ہے
اس زمانے کا ایک اور عظیم ،اسلام کا قابل اعتماد شخص اور روایات کو نقل کرنے میں مہارت رکھنے والا عالم المرزا حسین النوری الطبرسی اللہ تعالی کی اس پر رحمت ہو :- بہت سی قیمتی کتب کے مصنف تھے جیسا کہ نفس الرحمن فی فضائل سلمان ، فصل الخطاب ، جنت الماوی ، مستدرک الوسائل و مستنبات ال دلائل ، اور دیگر قیمتی کتب ہیں۔ یہ شیخ مطالعہ ، جانچ ، تحقیق ، کے لحاظ سے اللہ تعالی کے دلائل میں سے ایک دلیل تھا ۔ جیسا کہ مولانا مجلسی۔ کی تقوی اور متشکي پن ۔۔۔۔ ،
آیت اللہ علی المیلانی الطرسی کے بارے میں المحاضرات فی الاعتقادات جلد 2 ص 602 پر لکھتا ہے


صحيح أن الميرزا النوري من كبار المحدثين إننا نحترم الميرزا النوري. الميرزا النوري رجل من كبار علمائنا ولا نتمكن من الاعتداء عليه بأقل شيء ولا يجوز وهذا حرام إنه محدث كبير من علمائنا


یہ یقینا صحیح ہے کہ مرزا نوری کا شمار بڑے محدثین میں ہوتا ہے۔بے شک ہم مرزا نوری کی عزت کرتے ہیں ، مرزا نوری ہمارے بڑے علماء میں شامل ہیں اور ہمارے لئے ناممکن ہے کہ ہم اس کے تھوڑے سے بھی مخالف ہوں اور نہ ہی اس کی اجازت دی جاسکتی ہے۔ ایسا کرنا حرام ہے۔ وہ ہمارے علماء میں سے بڑے محدث ہیں۔
اور مرزا نوری کے دفاع میں مزید ص 608 پر لکھتے ہیں


أما ان نكفره ونطرده عن طائفتنا ونخرجه عن دائرتنا كما يطالب بعض الكتاب المعاصرين من أهل السنة فهذا غلط وغير ممكن أبدا

صفحہ 16 از 22