شیعہ علماء اور قرآن کریم کے بیچ بحران تحقیقی مقالہ (…

شیعہ علماء اور قرآن کریم کے بیچ بحران تحقیقی مقالہ ( ترجمہ:ابو عبداللہ زبیر بن حسین)

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 15 از 22


ابو بصیر ، ابو جعفر سےروایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا القائم ایک نئی شریعت ، نئے قرآن ، اور نئے ارادے سے ظاہر ہونگے جو کہ عربوں پر سخت ہوگا ، وہ صرف اپنی تلوار استعمال کریں گے اور کسی کی بھی توبہ قبول نہیں کریں گے اور نہ ہی کسی کو سنیں گے سوائے اللہ کے۔
حوالہ جات: غیبت النعمانیہ ص 237 ، بحار الانوار 52/354 ، اثبات الھدات جلد 3 ص 540، معجم الحدیث المھدی جلد 3 ص 235۔
مشہور آیت اللہ محقق المنتظری کتاب دراسات فی الولایت الفقیہ جلد 1 ص 521 پر کہتے ہیں


وفي خبر أبي بصير عن أبي جعفر عليه السلام في أمر القائم عليه السلام : فوالله أنظر إليه بين الركن والمقام يبايع الناس بأمر جديد وكتاب جديد وسلطان جديد من السماء . . . وبالكتاب الجديد القرآن الكريم بشرحه وتفسيره بإملاء رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم وخط أمير المؤمنين عليه السلام كما ورد بذلك أخبار كثيرة


اور ابوبصیر نے امام باقر سے امام قائم کے امر کے متعلق روایت کی ہے کہ " اللہ کی قسم یہ ایسا ہے جیسے میں انہیں (یعنی امام قائم کو) رکن و مقام کے بیچ دیکھ رہا ہوں اور لوگ ان کی ایک نئی شریعت ، نئی کتاب اور نئی آسمانی اختیار پر بیعت کر رہے ہیں ۔۔ اور نئے قرآن کریم سے ان کی مراد شرح اور تفسیر کے ساتھ اور رسول اللہ ﷺ کی طرف سے املاء کرایا گیا اور حضرت علی کے ہاتھوں لکھا گیا قرآن ہے۔ جیسا کہ ہم نے بہت سی روایات میں پڑھا ہے۔
شیخ علی الکورانی کتاب عصر الظہور ص 88-89 پر لکھتے ہیں


وقد يكون المقصود بالكتاب الجديد القرآن الجديد بترتيب سوره وآياته فقد ورد أن نسخة محفوظة للمهدي عليه السلام مع مواريث النبي صلى الله عليه وآله والأنبياء عليهم السلام وأنه لا يختلف عن القرآن الذي في أيدينا حتى في زيادة حرف أو نقصانه ولكنه يختلف في ترتيب السور والآيات وأنه بإملاء رسول الله صلى الله عليه وآله و خط علي عليه السلام ولا مانع أن تكون جدة القرآن بالمعنيين معا


اور نئی کتاب سے ایک نیا قرآن مراد ہوسکتا ہے جو آیات و اجزاء کی نئی ترتیب کے ساتھ ہوگا۔ یہ روایت کی گئی ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اور چیزوں کے ساتھ یہ قرآن کریم بھی مھدی کے پاس محفوظ ہے جو کہ اسے وراثت میں ملا ہے ۔
شیخ عبداللطیف البغدادی کتاب تحقیق فی الامامہ ص 235-236 پر لکھتا ہے


نعم وبقي ذلك القرآن في تفسيره الصحيح عند علي عليه السلام ومن بعده عند الحسن عليه السلام وهكذا صار من المواريث الخاصة بالأئمة الطاهرين وهو الآن عند إمام العصر والزمان مهدي آل محمد عج ومن هنا ورد من الإمام الباقر عليه السلام أنه قال : إذا خرج (أي الإمام المهدي) يقوم بأمر جديد وكتاب جديد وسنة جديدة وقضاء جديد على العرب شديد (المجالس السنية) وعنه في حديث آخر قال : لكأني أنظر إليه بين الركن والمقام يبايع الناس بأمر جديد وكتاب جديد وسلطان جديد من السماء أما إنه لا ترد له راية أبدا حتى يموت . والمراد من الأمر الجديد والكتاب الجديد والسنة الجديدة والقضاء الجديد والسلطان الجديد إنما هو الإتيان بشريعة الإسلام الحقة كما شرعها الله والإتيان بالقرآن في تنزيله وتأويله كما أنزل في تفسيره وبيان أحكامه


ہاں یہ قرآن کریم اپنی صحیح تشریح کے ساتھ حضرت علی کے پاس رہا ۔ ان کے بعد امام حسن کے پاس رہا اور یوں اماموں کی وراثت کے طور پر چلتا ہوا اب یہ امام العصر و الزمان مہدی ِ آلِ محمد کے پاس ہے۔ باقر علیہ السلام سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا " جب وہ ظاہر ہونگے تو وہ ایک نئی شریعت ، نئی کتاب ، نئی سنت اور نئے حکم سے شروعات کریں گے اور وہ عربوں پر سخت ہونگے۔(المجالس السنیہ) اور امام باقر سے ایک اور روایت ہے : اللہ کی قسم یہ ایسا ہے جیسے میں انہیں (مہدی) کو رکن و مقام کے بیچ دیکھ رہا ہوں، اور لوگ ان کی ایک نئی شریعت ، نئی کتاب اور نئی آسمانی اختیار پر بیعت کر رہے ہیں۔ ان کا جھنڈا ان کی موت تک کبھی بھی نیچے نہیں ہوگا۔ یہاں پر ایک نئی شریعت ، ایک نئی کتاب ، ایک نئی سنت اور نئے حکم اور اختیار سے مراد اسلام کے اصل قوانین لاگو کرنا ہے جو اللہ تعالی چاہتے ہیں اور قرآن کریم کو اس کی تنزیل و تاویل اور اس کی قوانین کی تشریح کے ساتھ واپس لانا ہے۔
میں یہاں پر کہنا چاہتا ہوں کہ یہ دکھ اور ستم ظریفی کی بات ہے کہ یہ لوگ کہ رہے ہیں کہ صحیح مذہب اور صحیح شریعہ اور قوانین صرف مہدی کے ساتھ ظاہر ہونگے ۔ کیا زیادہ دیر نہیں ہوگئی ہے؟ کیا اسے انصاف سمجھا جائے ؟
المرزا محمد تقی الاصفحانی کتاب مکال المکارم جلد 1 ص 184 پر کہتے ہیں


قال الله تعالى (فصلت 40 الآية) قال الطبرسي في مجمع البيان يريد أن قومه اختلفوا فيه أي في صحة الكتاب الذي أنزل عليه . القائم عليه السلام كذلك يختلف في الكتاب معه وهو ما جمعه أمير المؤمنين عليه السلام وهو القرآن التام المدخر عند الحجة عليه السلام . ويدل على ذلك ما في روضة الكافي بإسناده عن أبي جعفر في قوله تعالى ( : فصلت 45) قال : اختلفوا فيه كما اختلفت هذه الأمة في الكتاب وسيختلفون في الكتاب الذي مع القائم الذي يأتيهم به حتى ينكره ناس كثير فيقدمهم ويضرب أعناقهم .


اللہ فرماتے ہیں : اور ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تو اس میں اختلاف کیا گیا (سورہ فصلت ٓایت 45 ) طبرسی مجمع البیان میں کہتے ہیں کہ اس سے مراد ہے کہ انکے لوگ اس کتاب کی صداقت پر اختلاف کریں گے جو ان پر نازل ہوئی ہے۔ اور اس کتاب پر بھی اختلاف ہوگا جو کہ امام قائم لےکر آئیں گے جو مکمل کتاب ہے (الحجہ) مہدی کے پاس محفوظ ہے۔ اس پر جو چیز دلالت کرتی ہے، وہ روضہ الکافی میں امام جعفر کی روایت ہے اللہ تعالی کے قول کے متعلق : اور ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تو اس میں اختلاف کیا گیا (سورہ فصلت ٓایت45 ۔) وہ ابوجعفر کہتے ہیں وہ اس پر اختلاف کریں گے جیسے امت نے اپنی کتاب پر اختلاف کیا اور وہ امام قائم کی کتاب پر اختلاف کریں گے جو وہ اپنے ساتھ لائیں گے بہت سے لوگ اس کا انکار کریں گے اور وہ (امام مہدی) ان سب کو قتل کردیں گے اور ان کے سر الگ کردیں گے۔
وہ اسی کتاب کے صفحہ 197 پر کہتا ہے

صفحہ 15 از 22