شیعہ علماء اور قرآن کریم کے بیچ بحران تحقیقی مقالہ (…

شیعہ علماء اور قرآن کریم کے بیچ بحران تحقیقی مقالہ ( ترجمہ:ابو عبداللہ زبیر بن حسین)

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 14 از 22


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وفات کے بعد ان کے حکم سے سب سے پہلے جو قرآن کریم کو جمع کرنے کے لئے اٹھے وہ حضرت علی بن ابی طالب تھے جو کہ اپنے گھر میں قرآن کریم کو نزول کے مطابق ترتیب دینے ساتھ تاویل و تشریح ،آیات کے مبہم حصوں اور ان کے اسباب نزول اور ان کے نازل ہونے کی جگہ کو وضاحت سے جمع کرنے میں مصروف تھے یہاں تک کہ انھوں نے اس کو شاندار انداز میں ختم کیا۔
اور وہ صیانۃ القرآن ص 229 پر کہتے ہیں


وقد ذكرنا في مصحف علي عليه السلام أنه كان على أتم تأليف وفق ما أنزل الله الأول فالأول لم يشذ عنه شيء من ذلك وقد ورثه الأئمة يدا بيد حتى يظهره الله على يد وليه صاحب الأمر عجل الله فرجه الشريف


کیوں کہ امام امیر المومنین علیہ السلام کا نسخہ بغیر کسی تبدیلی کے بالکل اسی ترتیب کے مطابق جمع کیا گیا تھا جس طرح اللہ تعالی کی طرف سے نازل ہوا تھا۔ انہوں نے اس کی کسی بھی چیز کو پیچھے نہیں چھوڑا۔ اور ان سے ائمہ کو وراثت میں ملا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کو اپنے ولی صاحب الامر عجل اللہ فرجہ کے ہاتھ پر ظاہرفرمائے گا۔
شیعہ عالم علی الکورانی العاملی کتاب تدوین القرآن ص 254-255 پر کہتا ہے


أما نحن الشيعة فنعتقد بأن ذلك حدث وأن نبينا صلى الله عليه وآله قد ورث علومه ونسخة القرآن المؤلفة تأليفا يؤثر تاثيرا معجزا في المادة والروح ويظهر بها إعجاز القرآن وتأويله إلى علي والحسن والحسين . . . إلى أن وصلت إلى يد خاتمة الأوصياء الموعود على لسان خاتم الأنبياء الإمام المهدي أرواحنا فداه ونور نواظرنا بطلعته المباركة . وماذا نصنع إذا كانت النصوص في مصادرنا تصرح بذلك


جہاں تک ہم شیعوں کی بات ہے ، ہم اس پر یقین رکھتے ہیں کہ یہ وقوع پذیر ہوا تھا اور ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا علم اور قرآن کریم کا نسخہ وراثت کے طور پر حضرت علی، حضرت حسن اور حضرت حسین کو دیا تھا ، جو کہ اس معجزانہ طریقے سے مرتب کیا گیا تھا جو روح اور جسم کو چھو جاتا ہے اور قرآن کریم کی معجزانہ طاقت اور تشریح کو ظاہر کرتا ہے ۔۔۔ یہاں تک یہ خاتم پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے وعدے کے مطابق خاتم الائمہ کے امام المھدی کے پاس پہنچا۔ اور ہم کر ہی کیا سکتے ہیں جبکہ ہمارے مصادر یہی بتا تے ہیں ۔
یہاں پر مسلمانوں کے قرآن پر خفیہ حملے کو غور سے دیکھیں کہ علی رضی اللہ عنہ کا قرآن کمال و درستگی اور روح تک پہنچنے کی معجزانہ صلاحیت کے ساتھ ہمارے قرآن کریم سے مختلف تھا ۔ اس کو بیان کرنے میں کس طرح مبالغہ آرائی سے کام لیا جاتا ہے کہ یہ کتنا یکتا و عظیم تھا اور کس طرح ، بغیر کسی تبدیلی و ترمیم کے اس کا لفظ لفظ اس طریقے سے لکھا گیا ہے جو کہ اللہ تعالی کو راضی کرتا ہے۔ ہم ان سے پوچھتے ہیں کہ کیا یہ سب چیزیں ہمارے آج کے موجودہ قرآن کریم میں موجود ہیں؟ کیا یہ وضاحتیں ہمارے آج کے قرآن کے لئے بھی ہیں ؟ اگر اس کا جواب ہاں ہے تو پھر کس طرح آپ ان کو خصوصیات کی طور پر ذکر کرتے ہیں جو کہ دوسرے قرآن سے مختلف ہیں اور اس کی انفرادیت ظاہر کرتی ہیں۔ محترم قارئین ان شیعہ علماء نے اللہ تعالی کی کتاب کی اہمیت کم کرنے کے لئے یہی زہریلی حکمت عملی اپنائی ہوئی ہیں ۔
آخر میں ابو محمد الخاقانی کتاب مع الخطوط العریضہ لمحب الدین الخطیب ص 51 پر فرماتے ہیں


وعلى هذا الأساس لم يشترك في تصحيح قرآن عثمان ما دام عنده القرآن المصحح والمجموع على ما أنزل على النبي صلى الله عليه وآله وسلم ووجود قرآن علي لا يحط من قيمة القرآن الذي هو أحسن ما يمكن جمعه بعد قرآن علي عليه السلام ووجود الأحسن لا يرفع قيمة الحسن


اور اسی بنیاد پر حضرت علی نے حضرت عثمان کی طرف سے قرآن کریم کو درست کرنے میں حصہ نہیں لیا کیونکہ حضرت علی نے قرآن کریم کو درست طریق سے جمع کیا تھا جیسے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا تھا ، اور علی علیہ السلام کے قرآن کی وجہ سے اس قرآن کریم کی حیثیت کم نہیں ہوتی کیونکہ کہ علی رضی اللہ عنہ کے قرآن کی موجودگی کی وجہ سے اس قرآن کی قدرو قیمت میں کچھ کمی نہیں آتی جو کہ تدوین کے حساب سےحضرت علی کے قرآن کے بعد سب سے بہتر ہے۔ اور بہترین کے وجود سے اچھے کی حیثیت میں کمی نہیں ہوتی۔
آپ دیکھ سکتے ہیں کہ وہ بالواسطہ دوہرے طریقوں سے مسلسل ہمارے قرآن کریم پر حملے کرتے رہےہیں۔ اگرچہ مصنف آخر میں محتاط تھا اور وہ مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس نہیں پہنچانا چاہتا تھا۔ تب اس نے کہا کہ اگرچہ ہمارا قرآن کریم اچھا ہے لیکن حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مکمل قرآن کریم سے مطابقت نہیں رکھتا جس کو اس نے بہتر کہہ کر پکارا،اور حضرت علی کے قرآن کوبہترین قرار دیا۔
وہ مسلسل آپ کو بتانا چاہتے ہیں کہ وہ قرآن کریم کتنا خوبصورت اور منفرد تھا جب کہ بالواسطہ ہمیں بتا رہے ہیں کہ ان معجزانہ خصوصیات میں سے ایک بھی ہمارے قرآن کریم میں موجود نہیں ہے۔ ہم معتدل شیعوں سے پوچھتے ہیں، کیا آپ کے دل اس قرآن کریم کی طرف مڑ سکتے ہیں؟ یا اس قرآن کریم کی جانب جو کہ مھدی کے پاس ہے جس میں وہ سب منفرد معجزانہ خصوصیات موجود ہیں؟
چھٹا عقیدہ
حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قرآن جو کہ چھپے ہوئے بارہویں امام ظاہر کریں گے وہ ایک بالکل نیا قرآن ہے جو کہ اس سے مختلف ہے جو آج کل مسلمانوں کے ہاتھ میں ہے۔ اس کا سبب اس کی معجزانہ طاقت اور مختلف تشریح اور اس کی تدوین میں درستگی ہے ۔
جب کہ حضرت علی کے قرآن میں وہ سب منفرد پہلو موجود تھے جو کہ لوگوں کی دلوں کو چھو جانے کا سبب ہیں ۔ قرآن کریم کی حقیقی معجزانہ طاقت ظاہر کرتے ہیں ، اور جو اللہ تعالی چاہتا ہے، اسی مناسبت سے سمجھا جائے وغیرہ ۔ تب انہوں نے اپنی روایات میں اس کو نیا قرآن کہنا شروع کردیا جیسا کہ محمد بن ابراہیم النعمانی کی حدیث ہے


عن أبي بصير قال : قال أبو جعفر عليه السلام : يقول القائم بأمر جديد وكتاب جديد وقضاء جديد على العرب شديد ليس شأنه إلا السيف ولا يستتيب أحدا ولا تأخذه في الله لومة لائم

صفحہ 14 از 22