شیعہ علماء اور قرآن کریم کے بیچ بحران تحقیقی مقالہ (…

شیعہ علماء اور قرآن کریم کے بیچ بحران تحقیقی مقالہ ( ترجمہ:ابو عبداللہ زبیر بن حسین)

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 13 از 22


تحریف کے بہت سے معنی ہیں تحریف بالترتیب : یعنی ترتیب میں تبدیلی۔ مسلمانوں میں اس بات پر اختلاف نہیں قرآن کریم میں اس طرح کی تبدیلی ہوئی ہے۔ ہر کوئی اس سے متفق ہے کہ موجودہ قرآن کریم اس طرح نہیں لکھا گیا جس طرح نازل ہوا تھا ۔ یہ نزول اور ترتیب کے حساب سے مختلف ہے ۔ یہی وہ بات ہے جس کو قرآن کریم کے علماء نے اپنی کتب میں بیان کیا ہے دیکھئے علامہ سیوطی کی کتاب الاتقان۔ آپ دیکھیں گے کہ انہوں نے اجزاء کے نام بتائے ہیں جو کہ وحی کے مطابق ہیں ،تو انہوں نے یہ کیوں کیا ؟ ان کا کیا مقصد تھا ؟ میں نے آپ کو بتایا کہ ایک تقریر اس کے لئے کافی نہیں ہے۔ آیات و اجزاء کی ترتیب ان کے نزول سے مختلف ہے ۔ آیت المودۃ کی ہی مثال لے لیں (42:23) یہ اپنے اصل مقام سے ہٹا کر دوسرے مقام پر ڈالی گئی ہے ۔ آیت التطہیر (33:33) بھی اپنے اصل مقام سے ہٹا کر دوسرے مقام پر ڈالی گئی ہے۔ سورۃ المائدہ مسلمانوں کے اجماع کے مطابق سب سے آخر میں نازل ہوئی تھی ۔آپ دیکھ سکتے ہیں کہ یہ آخر میں موجود نہیں ہے بلکہ قرآن کریم کے شروع میں موجود ہے۔ اس کا کیا مقصد ہے ؟ یہ بھی تحریف کی ایک قسم ہے اور بے شک یہ ہوا ہے۔
شیعہ کے اس عقیدہ کا خطرہ ظاہر کرنا مسلمانوں کے تمام ذہن اور عقائد کے لئے ضروری ہے۔ وہ خلفاء راشدین پر قرآن کریم کی آیات کےمقامات تبدیل کرنے اور انکےسیاق و سباق تبدیل کرنے کا الزام لگاتے ہیں تاکہ ان آیات کے اصل معنی کو چھپا سکیں جو کہ ان کی قیاس کے مطابق حضرت علی کی امامت اور معصومیت ثابت کرتی ہیں !!! یہ عقیدہ بھی اس طرح خطرناک ہے جس طرح شیعہ کے کچھ عالم کہتے ہیں کہ قرآن کریم میں حذف کی صورت میں تحریف کی گئی تھی کیوں کہ اس کا نتیجہ بالکل ہی ایک جیسا ہے کہ خخلفاء راشدین نے قرآن کریم میں تحریف کی تاکہ مسلمانوں سے امامت کا سچ چھپا سکیں۔ دونوں صورتوں میں سچ کو چھپانے کے لئے قرآن کریم میں ہیرا پھیری اور تبدیلی کا الزام لگایا گیا۔ بس صرف اس کے بیان کرنے کے طریقہ میں فرق ہے ، تو وہ کس کو بیوقوف بنا رہے ہیں۔؟
میں اب امانت دار شیعہ سے مخاطب ہو کر کہتا ہوں۔ کیا آپ کی روح آرام محسوس کرتی ہے جب آپ قرآن پڑھ رہے ہوتے ہیں، یہ جانتے ہوئے کہ جو کتاب آپ کے ہاتھ میں ہے اس میں برائی کے اماموں نے ہیرا پھیری ، تحریف اور تبدیلی کردی ہے؟ کیا آپ آرام محسوس کرتے ہیں کہ یہ جانتے ہوئے کہ جو آپ کے ہاتھوں کے بیچ ہے اللہ تعالی اس سے راضی نہیں ہو نے والا؟
اللہ تعالی کے اس ارشاد کے متعلق کیا خیال ہے ۔
بےشک یہ (کتاب) نصیحت ہمیں نے اُتاری ہے اور ہم ہی اس کے نگہبان ہیں ۔ سورہ الحجر آیت 9
شیعہ علماء کے اقوال کے مطابق اللہ تعالی نے اس کو کتنی حد تک محفوظ رکھا ہے ؟ کہ جب تاولیات و تشریحات مٹا دی گئیں اور پڑھنے اور قرآت کرنے کے طریقے بھی غلط ہیں اور آیات کو الٹ پلٹ کر ملا دیا گیا اور ان کی معنی تبدیل کیے گئے اور سب سے اہم شیعہ عقیدہ کا ستون امامت اور ائمہ کی معصومیت کو چھپا دیا گیا؟
پانچواں عقیدہ
جو قرآن کریم حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جمع کیا تھا، وہ آج کی دنیا میں موجود قرآن کے مقابلے میں تدوین میں معجزانہ طور پر تمام مسائل میں کمال اور درستگی کے رکھتا تھا۔
علامہ محمد ہادی معرفہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حالات و واقعات کو بیان کرتے وقت کتاب تلخیص التھمید ص 152 پر عنوان مصحف علی کے بیان میں لکھتا ہے :


امتاز مصحفه عليه السلام :
الف ۔ بترتيبه الموضوعي على ترتيب النزول الأول فالأول في دقة فائقة
ب. إثبات نصوص الكتاب كما هي من غير تحوير أو تغيير أو أن تشذ منه كلمة أو آية
ج. إثبات قراءته كما قرأه رسول الله صلى الله عليه وآله حرفا بحرف
د. اشتماله على توضيحات – على الهامش طبعا – وبيان المناسبة التي استدعت نزول الآية والمكان الذي نزلت فيه والساعة التي نزلت فيها والأشخاص الذين نزلت فيهم
ھ. اشتماله على الجوانب العامة من الآيات بحيث لا تخص زمانا ولا مكانا ولا شخصا خاصا فهي تجري كما تجري الشمس والقمر وهذا هو المقصود من التأويل في قوله عليه السلام : ولقد جئتهم بالكتاب مشتملا على التنزيل والتأويل.
فالتنزيل هي المناسبة الوقتية التي استدعت النزول والتأويل هي بيان المجري العام.
كان مصحف علي عليه السلام مشتملا على كل هذه الدقائق التي أخذها عن رسول الله صلى الله عليه وآله من غير أن ينسى منها شيئا أو يشتبه عليه شيء


ائمہ کرام کا قرآن ان وجوہات میں ممتاز تھا:
الف: موضوعی ترتیب نزول کی ترتیب کے حساب سے ہونا
ب: نصوصِ کتاب کا اثبات بغیر کسی تبدیلی اور تغیر کےہونا
ث: اس کی قرآت کا اثبات حرف بحرف رسول اللہ ﷺ کی قرات کے موافق ہونا
ج: اس کا توضیحات پر مشتمل ہونا اور اس کی مناسبت کا بیان نزیل کے مطابق اور جگہ کے مطابق جہاں یہ نازل ہوئی، اور جس وقت یہ نازل ہوا، اور جن لوگوں کے بارے میں یہ نازل ہوئی۔
د: اس میں آیات کے عام پہلو موجود تھے جو کہ کسی آدمی ، وقت یا جگہ کے لئے مخصوص نہیں تھے۔ یہ سورج اور چاند کی طرح بہتا چلتا تھا ۔ اور امام کے کلام میں تاویل سے مراد یہی چیز ہے۔" میں ان کے پاس ایک کتاب لے کر آیا جو کہ تنزیل اور تاویل پر مشتمل تھی۔
تو تنزیل اس واقعے کو کہا جاتا ہے جس کی وجہ سے آیات نازل ہوئیں اور تاویل آیت کے عام پہلو کو واضح کرتی ہے ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے نسخے میں یہ سب باریکیاں وضاحت سے موجود تھیں جو کہ انہوں نے کسی قسم کی بھول چوک یا الجھن کے بغیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سیکھیں تھیں ۔
وہ صفحہ نمبر 148-149 پر لکھتے ہیں


أول من تصدى لجمع القرآن بعد وفاة النبي صلى الله عليه وآله مباشرة وبوصية منه هو علي بن أبي طالب عليه السلام قعد في بيته مشتغلا بجمع القرآن وترتيبه على ما نزل مع شروح وتفاسير لمواضع مبهمة من الآيات وبيان أسباب النزول ومواقع النزول بتفصيل حتى أكمله على هذا النمط البديع

صفحہ 13 از 22