شیعہ علماء اور قرآن کریم کے بیچ بحران تحقیقی مقالہ (…

شیعہ علماء اور قرآن کریم کے بیچ بحران تحقیقی مقالہ ( ترجمہ:ابو عبداللہ زبیر بن حسین)

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 12 از 22


آج ہم نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کر دیا اور اپنی نعمتیں تم پر پوری کر دی اور تمہارے لئے اسلام کو دین پسند کیا (سورۃ مائدۃ ، آیت 3) یہ آیت حضرت علی علیہ السلام کی امامت کے بارے میں نازل ہوئی جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں امت پر خلیفہ نامزد کیا لیکن آیت کا سیاق و سباق اس تشریح کو رد کرتا ہے، کیونکہ سیاق میں امامت کے موضوع کی طرف کوئی اشارہ نہیں ملتا ۔پس اس لئے انہوں نے خلفاء کو مورد الزام ٹھرایا کہ انھوں نے اس آیت کا مقام تبدیل کردیا تاکہ امامت پر اسکی دلالت کو چھپایا جائے- یہ کیوں جائز نہیں کہ یہ آیت یہاں سے شروع ہو کر الْيَوْمَ يَئِسَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ دِينِكُمْ (ترجمہ صحیح کرنے کی ضرورت ہے) یہاں تک وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإسْلامَ دِينًا (تمہارے لئے اسلام کو دین پسند کیا) ایک مستقل آیت ہو، جس کا کسی اور آیت سے کوئی ربط نہ ہو۔ یہ آیت اکیلی غدیر کے دن نازل ہوئی تھی۔ اس کے بعد لوگوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں اس کو اس مبارک آیت کے بیچ میں ڈال دیا اور اس کی وجہ ان کی کچھ غرض تھی یا پھر ان کی جہالت تھی یا پھر اس کے علاوہ کچھ اور۔
علامہ باقر مجلسی بھی آیت تطہیر کے متعلق اسی طرح کا دعوی رکھتے ہیں ۔
اے پیغمبر کے اہل بیت ! خدا چاہتا ہے کہ تم سے ناپاکی کا میل کچیل دور کردے اور تمہیں بالکل پاک صاف کردے۔ سورہ الاحزاب آیت ۳۳
کیوں کہ اس آیت کا مکمل سیاق و سباق اس کے عقیدےکے مطابق یہ آیت ولی اور اس کی اولاد کے لئے نازل ہوئی ہے، اس کے خلاف ہے۔ اس لئے بحار الانوار جلد 35 ص 234 پر لکھتا ہے


لعل آية التطهير وضعوها في موضع زعموا أنها تناسبه أو أدخلوها في سياق مخاطبة الزوجات لبعض مصالحهم الدنيوية


ہو سکتا ہے کہ آیت تطہیر اس جگہ پر ڈالی گئی ہو جہاں پر یہ کہتے ہیں کہ مناسب ہے یا پھر انھوں نے اس کو ان آیات کے بیچ ڈال دیا جو کہ ازواج کو خطاب کرتی ہیں۔
آیت اللہ علی المیلانی کتاب محاضرات فی الاعتقادات جلد 2 590-591 پر لکھتا ہے


إن للتحريف معاني عديدة : التحريف بالترتيب : هناك معني للتحريف لا خلاف بين المسلمين في وقوعه في القرآن الكريم يتفق الكل على أن القرآن الموجود ليس تدوينه بحسب ما نزل يختلف وضع الموجود عن تنزيله وترتيبه في النزول وهذا ما ينص عليه علماء القرآن في كتبهم فراجعوا إن شئتم كتاب الإتقان لجلال الدين السيوطي ترونه بذكر أسامي السور سور القرآن الكريم بحسب نزولها . وأي غرض كان عندهم من هذا الذي فعلوا ؟ لماذا فعلوا هكذا؟ هذا بحث يجب أن يطرح فقد قلت لكم إن المجلس الواحد لا يكفي . ترتيب السور و ترتيب الآيات يختلف عما نزل عليه القرآن الكريم ترون آية المودة مثلا وضعت في غير موضعها آية التطهير وضعت في غير موضعها ترون آية (أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ) وضعت في غير موضعها سورة المائدة التي هي بإجماع الفريقين آخر ما نزل من القرآن الكريم ترونها ليست في آخر القرآن بل في أوائل القرآن ما الغرض من هذا؟ فهذا نوع من التحريف لا ريب في وقوعه وقد اتفق الكل على وقوعه في القرآن

صفحہ 12 از 22