شیعہ علماء اور قرآن کریم کے بیچ بحران تحقیقی مقالہ (…

شیعہ علماء اور قرآن کریم کے بیچ بحران تحقیقی مقالہ ( ترجمہ:ابو عبداللہ زبیر بن حسین)

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 11 از 22


أما علي وشيعته فقد تصدوا لذلك في العصر الأول وأول شيء دونه أمير المؤمنين كتاب الله عز و جل فإنه بعد فراغه من تجهيز النبي صلى الله عليه وآله وسلم آلى على نفسه أن لا يرتدي إلا للصلاة أن يجمع القرآن فجمعه مرتبا على حسب النزول


جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دفن سے فارغ ہوئے تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ جب تک قرآن کریم جمع نہیں کرلیتے، وہ سوائےنماز کے گھر سے نہیں نکلیں گے ۔ اور انہوں نے اس کو جمع کیا اور اس کی ترتیب نزول کے مطابق رکھی۔
آیت اللہ محمد الحسین التھرانی کتاب انوار الملکوت جلد ۴ ص 344 پر لکھتا ہے


ومن خصائص هذا المصحف مضافا إلى ترتيب السور والآيات حسب ترتيب نزولها


اس قرآن کریم کی خصوصیت یہ ہے کہ ان کی اجزاء و آیات کی ترتیب اس کی تاریخ نزول کے حساب سے ہے۔
اور ہر کوئی جانتا ہے کہ اجزاء میں سے آیات کی ترتیب کو تبدیل کرنے سے اور مکی آیات کو مدنی سے پہلے رکھنے اور ناسخ کو منسوخ سے پہلے رکھنے سے ،ان سب آیات کا سیاق و سباق تبدیل ہوجائے گا کیوں کہ سیاق و سباق ہی کسی آیت کی تشریح کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
آیت اللہ علی المیلانی کتاب آیات التطہیر ص 23 پر لکھتا ہے
علم اصول کے مطابق ہم کہہ سکتے ہیں کہ سیاق و سباق ثبوت ہے مطلب کہ ہم جب کچھ الفاظ یا لفظ کی معنی جاننے کی کوشش کرتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ اس کے آگے پیچھے کیا ہے اور یہ کس سیاق و سباق میں پایا جاتا ہے کیونکہ الفاظ جو کہ اس کے آگے پیچھے ہوتے ہیں اور یہ جملہ کس سیاق و سباق پر مشتمل ہے یہ ہمیں اس لفظ یا جملہ کو سمجھنے میں مدد کرتے ہیں ایسا ہی کچھ ہے جو کہ وہ علم اصول میں بیان کرتے ہیں اور یہ صحیح ہے اس سے کسی کو اختلاف نہیں ہے۔
ان کے علماء کے کچھ الفاظ جو کہ اس حقیقت کو بیان کرتے ہیں علامہ محمد ہادی معرفہ کتاب صیانۃ القرآن من التحریف ص 230 پر کہتے ہیں


والأحاديث بهذا النمط غير قليل وهي إنما تدل على اختلاف ما بين مصحفه عليه السلام والمصحف الحاضر أما أن هذا الاختلاف يعود في نصه أم في نظمه أم في أمر آخر فهذا مما لا تصريح به في تلكم الأحاديث سوى الحديث الأول الذي نوهنا عنه فإنه صريح في وجه الاختلاف وأنه ليس في سوى النظم والتأليف لا شيء سواه فهو خير شاهد على تبيين وجه الختلاف المنوه عنه في سائر الروايات وهذا في مصطلح الأصوليين من الحكومة الكاشفة لمواضع الإبهام في سائر كلام المتكلم الحكيم. على أن نفس الاختلاف في نظم الكلام يكفي وحده سببا لصعوبة التلاوة ولصعوبة فهم المراد من الكلام لأن قوام المعني بذاته رهن النظم القائم بين أجزاء الكلام فلو غُيِّرَ غيَّرَ المعني لا محالة كما أن وضع جمل الكلام الواحد في مواضعها حسب إرادة المتكلم ونطفة خير معين على فهم مراده حيث القرائن الحافة بالكلام إنما تصلح قرائن إذا وضعت حسب وضع المتكلم دون إذا غَيِّرَت عن مواضعها الأولى سواء عن عمد أو عن اشتباه


اس مسئلہ کو بیان کرنےوالی روایات کم نہیں ہیں اور وہ ہمیں بتاتی ہیں حضرت علی علیہ السلام کے قرآن کریم اور ہمارے قرآن کریم میں فرق ہے۔ کیا یہ فرق متن میں ہے یا ترتیب میں یا پھر کچھ اور فرق بھی ہے؟ یہی چیز ہے جو کہ یہ روایات نہیں بتاتیں سوائے پہلی حدیث کے جس کو ہم نے بیان کیا، یہ واضح کرتی ہے کہ کیا فرق ہے یعنی صرف ترتیب میں فرق ہے اور کس طرح مرتب ہوا، اس میں فرق ہے۔ صرف اکیلے متن میں ہی فرق قرآت میں مشکل کرنے کے لئے کافی ہے۔ یہ معنی کو سمجھنے میں مشکل کرتا ہے کیوں کہ معنی کو سمجھنا متن کے ترتیب میں ہونے سے منسلک ہے۔ اگر اس کو تبدیل کردیا جائے تو یقیناَ معنی بھی تبدیل ہوجاتے ہیں۔ اس کے علاوہ بولنے والے کی مرضی کے مطابق جملے کو رکھنا اس کی اصل معنی سمجھنے میں آسانی کردیتا ہے کیوں کہ بولنے والے کے ارد گراف کا سیاق و سباق صرف اشارہ کے طور پر استعمال ہوتا ہے اگر اس کو اس طرح رکھا جائے جیسے بولنے والا چاہتا ہے نہیں تو اسی صورت میں یہ جان بوجھ کر یا غلطی سے تبدیل کیا جاتا ہے۔ (ترجمہ میں تصحیح ضروری ہے)
اس عقیدہ کا مطلب ہے کہ خلفاء نے لوگوں سے سچ چھپانے اور ان کو گمراہ کرنے کے واسطے قرآن کریم کی آیات اور اجزاء کی ترتیب اپنی خواہش کے مطابق تبدیل کردی دوسرے الفاظ میں موجودہ قرآن کریم میں آیات کے مقامات میں تبدیلی کر کے تحریف کی گئی ہے جو کہ لوگوں کو اللہ تعالی جو چاہتا ہے اس سے مختلف مفہوم بتاتی ہے۔ہم اس کی کچھ مثال دیتے ہیں شیعہ علماء کی جانب سے۔
مشہور آیت اللہ عبدالحسین شرف الدین الموسوی مصنف کتاب المراجعات ص 63 دین کی تکمیل کی آیت کے بارے میں لکھتا ہے


الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإسْلامَ دِينًا) نزلت بشأن الإمامة بعد نصب النبي صلى الله عليه وسلم لعليا خليفة للمسلمين وهو ما يأباه السياق إذ لم يرد في سياق الآيات أي إشارة إلى موضوع الإمامة كي يحملوها عليه فكان المخرج لهم بذلك الحمل هو اتهام الخلفاء بتحريفهم للقرآن عن طريق وضع الآية في غير موضعها كي يخفوا دلالتها على الإمامة فيقول ولماذا لا يجوز أن يكون قوله تعالى (الْيَوْمَ يَئِسَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ دِينِكُمْ) إلى قوله (وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإسْلامَ دِينًا) آية مستقلة بنفسها لا ربط لها بغيرها نزلت على حدة يوم الغدير ثم أقحمها الناس على عهد عثمان وزجوها في وسط تلك الآية الكريمة لغرض لهم أو لجهل بهم أو لغير ذلك

صفحہ 11 از 22