شیعہ علماء اور قرآن کریم کے بیچ بحران تحقیقی مقالہ (…

شیعہ علماء اور قرآن کریم کے بیچ بحران تحقیقی مقالہ ( ترجمہ:ابو عبداللہ زبیر بن حسین)

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 10 از 22


إذن المراد بالتنزيل تفسير وشرح آيات القرآن الكريم وبهذا المعني تتضح فداحة الخسارة الكبرى التبي حلت بنا بسبب رفض الخلافة لذلك المصحف مما أدى إلى تغييبه عنا


اس لئے تنزیل کی معنی ہیں قرآن کریم کی آیات کی تفسیر اور شرح۔ اس تناظر میں ہم دیکھ سکتے ہیں کہ خلفاء کی جانب سے انکار جو ہم سے اس کے غائب ہونے کا سبب بنا ۔جس کی وجہ سے ہم کس عظیم چیز سے محرومی برداشت کر رہے ہیں۔


معتبر شیعہ مصنف صالح الوردانی کتاب الخدعہ، رحلتی من السنۃ الی الشیعہ ص ۱۹۷ پر لکھتا ہے


ولا شك أن تجريد المصحف من هذه التفسيرات من شأنه أن يزيد من غموض القرآن وصعوبة فهم نصوصه ويفتح بابا للخلاف حول تفسيره هذه النصوص مما يؤدي إلى الفرقة بين المسلمين وهو ما وقع


اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ تشریحات قرآن کریم سے خارج کرنے سے اس کو اور زیادہ مبھم کردیا اور اس کے ماخذ کو سمجھنا مشکل کردیا جس سے اس ماخذ کی تشریح پر جھگڑے کا دروازہ کھلا جو کہ مسلمانوں کے درمیاں تقسیم کا سبب بنا اور یہ ہوا ہے۔

غیر جانبدار شیعہ قارئین غور کریں کہ اس زہریلے عقیدے پر جو کہ قرآن کریم کو صرف خالی الفاظ سے زیادہ کچھ نہیں سمجھتا ،ان کی قیاس آرائی کے مطابق جب سے خلفاء نے یہ سب سے حذف کردیا، تب سے نہ ہی ہم اس کی صحیح معنی و مفہوم سیکھنے کے قابل ہیں نہ ہی اس کے اصل مطلب تک پہنچتے ہیں ۔
کیا یہ غلیظ عقیدہ آپ کے دل میں قرآن کریم کی محبت اور اس کی معنی پر غور کرنے کا جذبہ پیدا کرسکتا ہے؟ یا پھر یہ جان کر کہ اہل بیت کے دشمنوں نے اس کی خوبصورتی اور کشش حذف کردی ہے، یہ آپ کو اس سے بھی زیادہ قرآن کریم سے الگ کردیتا ہے ؟
چوتھا عقیدہ
جو قرآن کریم خلفاء نے جمع کیا تھا، وہ ابواب اور آیات کے ترتیب میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قرآن سے مختلف تھا۔
یہ عقیدہ شیعہ علماء نے یا تو براہ راست یا پھر بظاہر اپنایا ہوا ہے یا یہ اسے بالواسطہ طور پر بیان کرتے ہیں
الف: ان شیعہ علماء کی مثال جو کہ اس کو کہلے عام قبول کرتے ہیں
شیعہ عالم علی الکورانی کتاب معجم الحدیث المھدی جلد ۳ ص ۱۲۶ باب مھدی کی طرف سے اسلام اور قرآن کی تجدید " میں لکھتا ہے۔


الظاهر أنه يقصد عليه السلام أنهم يعلمونهم القرآن على حدوده كاملة وقد ورد أن القرآن الذي بخط علي ويتوارثه الأئمة عليهم السلام يتفاوت مع القرآن في ترتيب سوره وربما آياته


بظاہر حضرت علی کا مقصد یہ ہے کہ وہ انہیں قرآن کریم اپنے تمام حدودِ کاملہ کے ساتھ سکھائیں اور یہ روایت کیا گیا ہےکہ جو حضرت علی کے ہاتھ کا لکھا قرآن تھا اور جو کہ ائمہ علیہم السلام کو وراثت میں ملا ،وہ آیات اور اجزاء کی ترتیب میں مختلف تھا۔
اس کے علاہ کتاب عصر الظہور ص 88-89 پر لکھتے ہیں


وقد يكون المقصود بالكتاب الجديد القرآن الجديد بترتيب سوره وآياته فقد ورد أن نسخته محفوظة للمهدي عليه السلام مع مواريث النبي صلى الله عليه وآله والأنبياء عليهم السلام وأنه لا يختلف عن القرآن الذي في أيدينا حتى في زيادة حرف أو نقصانه ولكنه يختلف في ترتيب السور والآيات وأنه بإملاء رسول الله صلى الله عليه وآله وخط علي عليه السلام.


شاید نئی کتاب سے مراد یا سورتوں اور آیات کی ترتیب ساتھ ایک نیا قرآن ہے کیونکہ مروی ہے کہ مھدی علیہ السلام کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وراثت کے ساتھ ساتھ ایک محفوظ نسخہ بھی ہے اور یہ ہمارے آج کل کے قرآن سے مختلف نہین ہے یا اس میں کوئی بھی لفظ اضافی یا حذف شدہ نہیں ہے۔ بس یہ صرف آیات اور اجزاء کی ترتیب کے حساب سے مختلف ہے جو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے املاء کرائی تھیں اور حضرت علی نے لکھیں تھیں۔
آیت اللہ شیخ ابو طالب التجلیل التبریزی کتاب تنزیۃ الاثنی عشریہ عن الشبہات الواہیہ جلد ۲ ص 526 پر لکھتا ہے


أقول : . . .أما القرآن الكريم فلا يكون جديداً إلا في ترتيب سوره أو تفسير آياتها


میں کہتا ہوں ۔۔۔ جہاں تک قرآن کریم کی بات ہے تو یہ صرف آیات و اجزاء کی ترتیب اور تشریح کے حساب سے نیا ہوگا۔
آیت اللہ علی المیلانی کتاب عدم تحریف القرآن ص 38 پر کہتا ہے


ويختلف عن القرآن الموجود في أن عليا قد أضاف في هوامش الآيات بعض الفوائد التي سمعها من النبي والمتعلقة بتلك الآيات ذكرها في الهوامش . . . غاية ما هناك أنه يختلف مع هذا القرآن الموجود في الترتيب وفي أن فيه إضافات أمير المؤمنين تتعلق بالآيات وقد سمعها من النبي فكتبها في هوامش تلك الآيات


اور ساتھ میں یہ اس قرآن کریم سے ترتیب میں بھی مختلف تھا اور اس میں اضافہ تھا جو کہ امیر المومنین علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان آیات کے بارے میں سنے تھے، وہ انہوں نے اس میں حاشیوں کی صورت میں لکھ دئیے۔
ب: جنھوں نے عمل کر کےاس عقیدہ کو قبول کیا
وہ اسے یہ کہتے ہوئے قبول کر تے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ نے اسے ترتیب نزول کے حساب سےلکھا تھا اور انہوں نے ناسخ آیات منسوخ سے پہلے لکھی تھیں سو اس کو یقناَ ہمارے موجودہ قرآن کریم سے دیکھنے میں اور سمجھنے میں مختلف ہونا چاہئے۔

ہم کچھ مثال دے دیتے ہیں۔
المفید جو کہ اپنے زمانے میں شیعوں کا رہنما تھا کتاب المسائل السروریہ ص 79 پر لکھتا ہے


وقد جمع أمير المؤمنين عليه السلام القرآن المنزل من أوله إلى آخره وألفه بحسب ما وجب من تأليفه فقدم المكي على المدني والمنسوخ على الناسخ


اور امیر المومنین علیہ السلام نے نازل شدہ قرآن کریم کو اول سے آخر تک جمع کیا تھا اور اسے اس طرح مرتب کیا جس طرح اسے کرنا چاہئے۔ انہوں نے مکی سورتوں کو مدنی سورتوں سے پہلے رکھا اور منسوخ آیات کو ناسخ آیات سے پہلے رکھا۔
علامہ محمد حسین طباطبائی کتاب القرآن فی الاسلام ص 137 پر لکھتے ہیں۔


والإمام أمير المؤمنين عليه السلام بالرغم من أنه كان أول من جمع القرآن على ترتيب النزول


اور امام امیر المومنین اگرچہ وہ پہلےفرد تھے جنھوں نے قرآن کریم جمع کیا اور اس کو ترتیب نزول کے حساب سے مرتب کیا۔

مشہور آیت اللہ عبدالحسین شرف الدین الموسوی کتاب المراجعات ص 411 پر لکھتے ہیں

صفحہ 10 از 22