کیا سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پر سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو…

کیا سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پر سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو زہر دینے کی تہمت لگانا صحیح ہے؟

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

ابن سعدؒ نے اپنی سند سے روایت نقل کی ہے کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اپنے بیت الخلاء میں داخل ہوئے، پھر نکل کر فرمایا: اللہ کی قسم! ابھی تھوڑی دیر پہلے میرے کلیجے کا ایک ٹکڑا گرا ہے، اپنے ساتھ موجود چھڑی سے میں نے اسے الٹا پلٹا ہے، مجھے کئی بار زہر دیا گیا، لیکن اس طرح کا زہر نہیں دیا گیا۔

(الطبقات تحقیق السلمی: جلد 1 صفحہ 135، اس کی سند ضعیف ہے۔)

نیز ابن سعدؒ نے اپنی سند سے نقل کیا ہے کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے کئی بار زہر دیا گیا، لیکن اس طرح کا زہر نہیں دیا گیا، میرا کلیجہ کٹ کٹ کر گر رہا ہے۔

(الطبقات تحقیق السلمی: جلد 1 صفحہ 338، اس کی سند ضعیف ہے۔)

نیز ابن سعدؒ نے اپنی سند سے نقل کیا ہے کہ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو کئی بار زہر دیا گیا، ہر مرتبہ بچ گئے، تاآنکہ آخری مرتبہ دیا گیا جس میں سیدنا حسنؓ کی وفات ہو گئی، اس کی تکلیف سے آپ کا کلیجہ کٹ کٹ کر پاخانے کے راستے سے نکل رہا تھا۔

(الطبقات تحقیق السلمی: جلد 1 صفحہ 339، اس کی سند ضعیف ہے۔)

(ڈاکٹر خالد الغیث کہتے ہیں:) میں نے اس مسئلہ کے طبی پہلو سے متعلق نصوص کو ڈاکٹر کمال الدین حسین طاہر کے سامنے پیش کیا تو انھوں نے اس طرح جواب دیا:

’’مریض کو ناک اور منہ وغیرہ سے سیال خون کے بہنے کی شکایت نہیں ہوئی، یہ چیز اس بات کو راجح قرار دیتی ہے کہ انھیں کوئی ایسا کیمیائی یا زہریلا مادہ نہیں دیا گیا جس میں خون کے گاڑھا ہونے یا جمنے میں مؤثر چیزوں کی تاثیر کو روک دینے کی قدرت ہوتی ہے، یہ بات معروف ہے کہ بعض کیمیائی و زہریلے مادے ناک و منہ وغیرہ سے خون بہنے کا سبب بن جاتے ہیں، اس کا سبب یہ ہوتا ہے کہ ان مادوں میں خون کے گاڑھا ہونے یا جمنے میں بعض مؤثر چیزوں کی تاثیر کو روکنے کی قدرت ہوتی ہے، اس لیے اس طرح کے بعض مادوں کے استعمال سے جسم کے بہت سارے اعضاء مثلاً آنکھ، ناک، منہ اور معدے سے خون نکلنے لگتا ہے، سیال خون پاخانے کے راستے سے صرف خون کی شکل میں یا پاخانے کے ساتھ مل کر نکلتا ہے، جمے ہوئے یا خون کی سخت یا اسفنجی شکل کے لوتھڑے کی صورت میں یا کلیجہ کے ٹکڑوں کی صورت میں نہیں نکلتا ہے، اس لیے یہ بات بعید از قیاس ہے کہ اس مریض (سیدنا حسنؓ)کو کوئی ایسا کیمیائی یا زہریلا مادہ دیا گیا ہو جس سے خون بہنے لگتا ہے۔‘‘

(مرویات خلافۃ معاویۃ: صفحہ 396)

جمے ہوئے خون کے ان ٹکڑوں(جن کا روایتوں میں ذکر ہے کہ وہ کلیجے کے ٹکڑے تھے) کی کیفیت کے بارے میں ڈاکٹر کمال الدین حسین طاہر کہتے ہیں:

’’کینسر یا معدے کے ورم کی بعض قسمیں(جو ایک جگہ رہتی ہیں یا آنتوں کے ذریعہ سے منتقل ہوتی رہتی ہے) یا بلغمی کینسر کی بعض قسمیں ایسی ہوتی ہیں جن کی وجہ سے جما ہوا خون پاخانے کے راستے سے نکلنے لگتا ہے، جس میں بعض خلیات اور معدے کے اندر کی بعض چیزیں ملی ہوتی ہیں، کبھی وہ چیزیں کلیجہ کے ٹکڑوں کی شکل میں نکلتی ہیں، جیسا کہ روایات میں مذکور ہے، اس لیے میں اس بات کو راجح قرار دیتا ہوں کہ مریض (سیدنا حسنؓ) کو آنتوں کے ورم یا ایک طرح کے کینسر کی بیماری لاحق تھی۔‘‘

(مرویات خلافۃ معاویہ: صفحہ 397) 

اس طبی تحلیل و تجزیہ کا تعلق ضعیف روایتوں سے ہے، اس لیے جس نتیجہ پر وہ پہنچے ہیں اسے تسلیم کرنا مشکل ہے، رہا معاملہ سیدنا حسنؓ کو زہر دینے کا تو ہم اس کا انکار نہیں کرتے، جب یہ بات ثابت ہے کہ سیدنا حسنؓ کی وفات زہر سے ہوئی ہے تو یہ آپ رضی اللہ عنہ کے لیے شہادت و کرامت کی بات ہے۔

(منہاج السنۃ: جلد 4 صفحہ 42)

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور آپ کے بیٹے کو متہم کرنا نہ تو سند کے اعتبار سے ثابت ہے (جیسا کہ گزرا) اور نہ متن کے اعتبار سے، کیا جعدہ بنت اشعث بن قیس کو کسی شرف یا مال کی ضرورت تھی (جیسا کہ بعض روایتوں میں ہے) کہ وہ یزید کی اس چاہت کو جلدی سے نافذ کر کے اس کی بیوی بن جائیں؟ کیا جعدہ پورے قبیلۂ کندہ کے سردار اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ کی بیٹی نہیں تھیں؟ پھر کیا ان کے شوہر سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما نہیں تھے جو بالاتفاق عزوشرف اور مقام و مرتبہ کے اعتبار سے لوگوں میں سب سے افضل تھے؟ آپ کی والدہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور نانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے اور یہ بات سیدنا حسنؓ کے لیے فخر کے لیے کافی تھی، آپ کے والد علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ تھے جو ان خوش نصیب صحابہ کرامؓ میں سے ایک ہیں جنھیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت کی خوشخبری دی ہے، اور چوتھے خلیفۂ راشد ہیں، ایسی صورت میں ایسا خطرناک کام انجام دے کر جعدہ کیا حاصل کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔

(مواقف المعارضۃ فی خلافۃ یزید بن معاویۃ: صفحہ 123)

بہت سارے لوگ اسلامی اتحاد کے دشمن تھے، سیدنا حسنؓ کے کارنامہ نے ان کی دشمنی اور غصے میں اور اضافہ کر دیا، اس بات پر ان کا یقین قوی تھا کہ آپ کا زندہ رہنا امت کے امن وامان کی ضمانت ہے، آپ امت کے اتحاد و اتفاق کے امام تھے، اس لیے حالات کے خراب ہونے اور پہلے کی طرح فتنوں کے واپس آ جانے کے لیے ان کا خاتمہ اور صفایا کر دینا ضروری تھا، اس لیے میری نظر میں اولاً متہم عبداللہ بن سبا کے متبعین ہیں جنھیں سیدنا حسنؓ نے بہت سخت طمانچہ رسید کیا تھا، جب سیدنا معاویہؓ کے حق میں خلافت سے دست بردار ہوگئے اور باہمی لڑائی کو روک دیا… دوسرے نمبر پر وہ خوارج ہیں جنھوں نے امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کو قتل کر دیا تھا، اور یہ وہی ہیں جنھوں نے آپ سیدنا حسنؓ کی ران پر حملہ کر کے زخمی کر دیا تھا، ہو سکتا ہے کہ نہروان وغیرہ میں اپنے مقتولین کا بدلہ لینا چاہا ہو۔

(مواقف المعارضۃ: فی خلافۃ یزید بن معاویۃ: صفحہ 124)


صفحہ 2 از 2