Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

حضرت جعفر صادق رحمۃاللہ کا فتویٰ

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

اصولِ کافی صفحہ 554 میں ہے:

عَنْ أَبِی عَبْدِاللَّهِ عَلَيْهِ السَّلام قَالَ لَا تَصْحَبُوا أَهْلَ الْبِدْعَةِ وَلَا تُجَالِسُوهُمْ فَتَصِيرُ وا عِندَ النَّاسِ كَوَاحِدٍ مِنْهُمُ قال رسول اللہﷺ المرء عَلَى دَينِ خَليله وقرينه۔

(سیدنا جعفر صادق رحمۃاللہ سے روایت ہے کہ فرمایا، بدعتی کی صحبت نہ کرو اور نہ ان سے مل کر بیٹھو ورنہ لوگوں میں تم انہیں جیسے ہو جاؤ گے رسول اللہﷺ نے فرمایا ہے، آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے۔

جناب امام نے اس حدیث میں اہلِ بدعت سے برتاؤ کرنے، ان سے دوستی پیدا کرنے ان سے مل کر بیٹھنے سے منع فرمایا ہے اور ظاہر ہے کہ روافض جن کا بھنگ ،شراب وظیفہ ترکِ صلوٰۃ شیوہ اور بزرگانِ دین کو بُرا بھلا کہنا پیشہ ہے، اہلِ بدعت ہیں اس لیے حسبِ فتویٰ حضرت امام ہمام ان سے مسلمانوں کو بائیکاٹ کر دینا چاہیے ورنہ حکیم حدیثِ ہٰذا وہ اُن جیسے سمجھے جائیں گے۔

دوسری حدیث:

اصولِ کافی صفحہ 555 میں ہے:

عن ابی عبدالله عليه السَّلام قَالَ مَنْ قَعَدَ عِنْدَ سَبَّابِ لَأُولياء الله فَقَدْ عَصَى۔

ترجمہ: جو شخص ایسے لوگوں کے پاس نشست و برخاست کرے جو خدا کے دوستوں کو سب کیا کریں، وہ خدا کا سخت نافرمان ہے۔

اس حدیث میں امام ممدوح سبّی شخص کے پاس بیٹھنے سے منع فرماتے ہیں اور ظاہر ہے کہ روافض نہ صرف سبِ خلفاءِ ثلاثہؓ کرتے ہیں بلکہ سبّ اہلِ بیتؓ سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ حتیٰ کہ جناب سیدنا امیرؓ کی سب کرنے کو بوقتِ ضرورت جائز سمجھتے ہیں اس لیے ان سے برتاؤ کرنے والا سیدنا صادقؒ کا نافرمان ہے۔ تحقیقِ بالا سے ثابت ہو گیا کہ روافض کی تکفیر قرآن وحدیث اور اقوالِ ائمہ اہلِ بیتؓ اور فتویٰ علماء ظاہر و باطن کی رُو سے ثابت ہے۔ ان سے کسی قسم کا برتاؤ کرنا خدا و رسول اللہﷺ کی نافرمانی میں داخل ہے ان سے بالکل قطع تعلق کرنا چاہی۔ ان سے مل کر کھانے میں، نشست و برخاست رکھنے، رشتے ناطے کرنے، ان سے محبت و الفت، راہ و رسم رکھنے، ان کے جنازوں میں شامل ہونے ان سے مل کر نماز پڑھنے و دیگر تعلقات رکھنے کی سخت ممانعت ہے مسلمانوں کو اس پر عمل پیرا ہو کر اپنے دین و ایمان کو بچانا چاہیے زمانہ بڑا پر فتن ہے نجات اسی صورت میں ہے کہ سوادِ اعظم مسلمانوں کے بڑے گروہ کی جماعت سے علیحدگی نہ ہو ورنہ دین و ایمان کی خیر نہیں ہے۔

وَمَا علينا الا البلاغ واخر دعوانا ان الحمدلله رَبِّ العالمين والصلوٰة والسلام على سيد المرسلين والٰه واصحابهِ وَعِبَادِ الله الصَّالِحِينَ۔

خاکسار

محمد کرم الدین عفی عنہ، متوطن بہیں، تحصیل چکوال ضلع جہلم

صفر 1344ھ ستمبر 1965ء