ایک عجیب حکایت
مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہاسی کتاب غائة المقصود کے صفحہ 70 71 میں ایک عجیب حکایت لکھی ہے، جو قاضی نور اللہ شوستری کی مجالس المؤمنین سے نقل کی گئی ہے:
کہ ایک اجل فاضل اہل سنت جو علامہ حلی کے استاذوں میں سے تھا، اس نے مذہب شیعہ امامیہ کے رد میں ایک مبسوط کتاب لکھی تھی اور وہ کتاب مختلف مجالس میں سنا کر شیعوں کو پھسلاتا تھا اور اس خوف سے کہ کوئی شیعہ اس کی تردید نہ کر دے، کسی شیعہ عالم کے ہاتھ میں وہ کتاب نہ دیتا تھا۔ شیخ حُلی ہمیشہ اس کوشش میں رہتے تھے کہ وہ کتاب ہاتھ آئے تاکہ اس کی تردید کی جائے ایک روز استادی شاگردی کا وسیلہ پیش کر کے کتاب عاریہ دینے کی استدعا کی استاد نے کہا! صرف ایک رات کے لیے کتاب دے سکتا ہوں شیخ نے اس کو بھی غنیمت سمجھا اور کتاب لے لی اور اپنے گھر میں لے گئے تا کہ کچھ نہ کچھ رات میں نقل کر لیں جب لکھنے لگے تو نیند نے غلبہ کیا اور سو گئے جناب مہدی علیہ السلام نمودار ہو گئے اور شیخ کو فرمانے لگے کہ کتاب مجھے دے دو اور تم سو رہو جب شیخ نیند سے جاگے تو دیکھا کہ کتاب ساری لکھی ہوئی موجود ہے حالانکہ وہ کتاب ایک سال سے کم عرصہ میں نہ لکھی جا سکتی تھی یہ حکایت فارسی میں ہے۔ میں نے سہولت ناظرین کے لیے اس کا ترجمہ بجنسہ اُردو میں لکھ دیا ہے جو چاہے اصل کتاب دیکھ سکتا ہے۔
اس قسم کی حکایات عجیب و غریب اس لیے وضع کی گئی ہیں کہ شیعوں کا اس بات پر اعتماد جما رہے کہ ضرور امام مہدی علیہ السلام اس وقت موجود ہیں اور کبھی کبھی خاص لوگوں کو ان کی زیارت ہو جایا کرتی ہے میں کہتا ہوں کہ اگر یہ باتیں درست ہیں تو اس وقت شیعیانِ علیؓ کیوں کوشش نہیں کرتے کہ مل کر شب بیداری کریں اور مناجاتیں کر کے امام کی زیارت سے مستفید ہوں اور منت و خوشامد سے عرض و معروض کریں کہ حضرت جی اس وقت بڑا آزادی کا وقت ہے آپ ظہور فرمائیں تو کوئی شخص آپ کا بال بیکا بھی نہیں کر سکتا اور لاکھوں کی تعداد میں لٹھ بند شیعہ جو گنگا باز بھی ہیں آپ کی امداد میں موجود ہوں گے، تشریف لا کر شیعیت کی اشاعت فرمائیں اور اگر آپ خود تشریف نہیں لا سکتے تو قرآن تو ہمیں مرحمت فرمائیں تاکہ مخالفین کو دکھا کر ہم سرخروئی حاصل کریں اور مخالفین کے قرآن کے رہین منت نہ رہیں۔ شیعوں کے قبلہ و کعبہ سرکار شریعت مدار ہی اپنی روحانی کشش سے حضرت امام کو بلا لیں، لکھنؤ کے بڑے بڑے مجتہدین شیعہ کوئی حیلہ کریں اور نہیں تو ایران کے بڑے بڑے جبہ پوش مشائخ شیعہ ہی جدوجہد کریں اگر ایسا نہیں کر سکتے اور ہرگز نہیں ہو سکتا تو روز روشن کی طرح واضح ہو جائے گا کہ اس وقت ان ہزاروں لاکھوں نمائشی شیعوں میں خالص مخلص اصلی شیعہ ایک بھی نہیں۔ شیعوں کوشش کرو اپنے سے یہ دھبہ دُور کرو ورنہ ان عقائد شیعہ سے باز آ جاؤ ضد چھوڑ دو آخر مرنا ہے اور خدا کے ہاں جواب دینا ہے بزرگان دین کی سب وشتم سے باز آ جاؤ اسی قرآن کے کامل و مکمل ہونے کے قائل ہو جاؤ طریق اہل سنت اختیار کر کے مسلمانوں کے سواد اعظم میں مل جاؤ تاکہ نجات حاصل ہو۔
وَمَا عَلَيْنَآ إِلَّا الْبَلٰغُ الخ.
(سورة يس: آيت 17)
ہمارا کام کہہ دینا تھا یارو
ہو تم مختار مانو یا نہ مانو
کتاب بہت طویل ہو گئی ہے اب ختم کرتا ہوں اور صدق دل سے درگاہ الٰہ العالمین میں دعا کرتا ہوں کہ میری اس ناچیز تحریر کو قبول عامہ کا شرف عطاء ہو اور قیامت میں مغفرت کا وسیلہ ہو۔ آمین ثم آمین
یہ کتاب ان ناپاک حملوں کی مدافعت میں ایک زبردست حربہ ثابت ہو اور مسلمان بھائی اس کو پڑھ کر فائدہ اُٹھائیں۔
اللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَى وَلَاسْتَاذِي وَلَجِمْعِ الْمُؤْمِنِينَ والمؤمِنَاتِ آمين بِرَحْمَتِكَ يآ ارحم الرّاحمين
راقم خاکسار
ابوالفضل محمد كرم الدین عفی عنہ دبیر
متوطن بھیں تحصیل چکوال ضلع جہلم (پنجاب) 28 اگست 1925ء)