شیعہ کا حضرت حسن رضی اللہ عنہ سے سلوک
مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہجو سلوک شیعہ حضرات نے حضرت امام حسنؓ سے کیا، اس کا ذکر جلاء العیون جلد اوّل، صفحہ، 76 میں امام ممدوح کی زبانی یوں ہے:
یہ لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم شیعہ ہیں اور میرا ارادہ قتل کیا، میرا مال لوٹ لیا بخدا! اگر میں حضرت امیرِ معاویہؓ سے عہد لے لوں اور اپنے خون کی حفاظت کر لوں اور اپنے اہل و عیال میں ایمن ہو جاؤں، تو یہ اس سے بہتر ہے کہ یہ لوگ مجھے قتل کر دیں۔
اسی کتاب کے صفحہ 277 میں ایک شیعہ کی گستاخی کا حال یوں درج ہے:
شیخ کشی نے بسندِ معتبر سیدنا محمد باقرؒ سے روایت کی ہے کہ ایک روز سیدنا حسنؓ اپنے گھر کے دروازے پر بیٹھے تھے ناگاہ ایک سوار آیا، جسے سفیان بن لیلیٰ کہتے تھے۔ اس نے کہا: السلام علیکم، اے ذلیل کنندہ مومنان!
اسی کتاب کے صفحہ 268 میں لکھا ہے کہ جب آنجناب سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے سیدنا امیرِ معاویہؓ سے صلح کا ارادہ کیا تو شیعہ چراغ پا ہو گئے سب اٹھ کھڑے ہوئے اور کہا (معاذ اللہ) یہ شخص مثلِ پدر کافر ہو گیا ہے۔ یہ کہہ کر بلوہ کیا اور حضرت حسنؓ کا اسباب لوٹ لیا، یہاں تک کہ جائے نماز آپ کے پاؤں کے نیچے سے کھینچ لی اور ردائے مبارک دوش سے اتار لی۔
یہ حضرت حسینؓ کے بڑے بھائی کے ساتھ دعویدارانِ حبِ حسینؓ کا سلوک تھا۔