نظم اردو
مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہنماز ایک جس شخص نے ترک کی
تو خوں اس نے اپنا کیا بے چھری
اگر دو نمازوں کا تارک ہوا
تو گویا کہ خوں اک نبی کا کیا
ہوئی تین وقتوں کی جس سے قضاء
تو کعبہ کو اس شخص نے ڈھا دیا
دیا چار وقتوں کو گر ہاتھ سے
تو ایسا ہے جیسا کہ اس شخص نے
زنا اپنی مادر سے ہفتاد بار
کیا عین کعبے میں اے ہوشیار
جو تارک ہوا بنچ اوقات کا
بیاں کیا کروں اس کے حالات کا
ندا اس کو کرتا ہے یوں بے نیاز
یہ تو نے جو کی ترک میری نماز
ہوا میری طاعت سے بیزار تو
غضب کا ہوا اب سزاوار تو
بہت میں بھی بیزار ہوں تجھ سے اب
خدا اور اپنے لیے کر طلب
میرے آسمان و زمیں سے نکل
کہیں اور رہ جا کے اے با عمل
یہ ارشاد کرتے ہیں شاہ حجاز
سبک اور ضائع کرے جو نماز
نہیں مجھ سے اور میری اُمت سے وہ
بہت دور ہے حق کی رحمت سے وہ
یہ تو شیعہ کی کتابی باتیں ہیں لیکن عملی حالت سخت قابلِ افسوس ہے جہاں کہیں شیعوں کی آبادی ہے مساجد ویران، دارے آباد ہیں ہم نے دو جلسے مناظرہ کے دیکھے ایک کندیاں ضلع میانوالی میں، دوسرا چک بیلی خان تحصیل گوجر خان میں ظہر کی نماز کا وقت میدانِ مناظرہ میں آیا۔ تمام مسلمانوں نے نماز باجماعت پڑھی مگر شیعہ کے علماء اور مقتدی سب یوں ہی کھڑے رہے کسی ایک متنفس نے بھی نماز ادا نہ کی لیکن شیعہ کو تکلیف برداشت کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی صرف متعہ جیسا کار ثواب کرنے سے سیدنا حسنؓ سیدنا حسینؓ سیدنا علیؓ اور رسول اللہﷺ کا درجہ مل جاتا ہے عید غدیر کا ہی شیعہ کے ہاں (18 ذی الحجہ) روز متبرک ایسا آ جاتا ہے کہ شیعانِ علیؓ اس روز تمام صغیرہ و کبیرہ گناہ بخشے جاتے ہیں اور نویسندگانِ اعمال کو حکم ہوتا ہے کہ شیعانِ علیؓ اور محبانِ اہلِ بیتؓ کے گناہ تین روز تک نہ لکھو یعنی اٹھارویں سے بیسویں تک۔
(تحفۃ العوام: جلد، 2 صفحہ، 161)