سیدنا معاویہ و حسن رضی اللہ عنہما کے مابین امیر المؤمنین…

سیدنا معاویہ و حسن رضی اللہ عنہما کے مابین امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہنے کا معاملہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 4

لوگوں کا کہنا ہے کہ ایک دوسری تاویل کا احتمال ہے کہ اس کے معنیٰ یہ ہوں: کون سی چیز مانع ہے کہ تم ان کی رائے اور اجتہاد کو غلط قرار دو اور ہماری اچھی رائے اور اجتہاد کا اور ان کی غلطی کا لوگوں میں اعلان کرو۔‘‘

(شرح صحیح مسلم: جلد 15 صفحہ 175)

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے سامنے ضرار صدائی نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے اوصاف بیان کیے اور ان کی تعریف کی، اس پر معاویہ رضی اللہ عنہ رو پڑے اور ضرار کی باتوں کی تصدیق کی۔ اس پر صاحب ’’المفہم‘‘ ابوالعباس قرطبی تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں: 

’’یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی فضیلت، قدر و منزلت، ان کے عظیم حق اور بلند مقام و مرتبہ کا اعتراف تھا، ایسی صورت میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے بعید تھا جب کہ ان میں عقل، دین، حلم اور اچھے اخلاق کے اوصاف تھے کہ وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر لعنت بھیجنے اور انھیں برا بھلا کہنے کے لیے صریح حکم دیتے، اس سلسلے میں ان سے جو کچھ مروی ہے اس کی اکثریت سراسر جھوٹ ہے، اس سلسلے میں صحیح ترین بات سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے ان کا سوال کرنا ہے کہ ابوتراب علی(رضی اللہ عنہ) کو برا بھلا کہنے سے تمھیں کون سی چیز روک رہی ہے؟ یہ برا بھلا کہنے کا صریح حکم نہیں ہے، یہ تو صرف ان کے برا بھلا نہ کہنے کے سبب کے بارے میں سوال تھا، تاکہ اس سلسلے میں ان کی مثبت یا منفی رائے کو جان لیں، جیسا کہ ان کے جواب سے ظاہر ہے، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے جب یہ جواب سنا تو مطمئن ہوگئے اور اسے قبول کر لیا، اور مستحق کے حق کا اعتراف کر لیا۔‘‘

(المفہم للقرطبی: جلد 6 صفحہ 278)

بہترین کتاب ’’الانتصار للصحب و الآل من افتراءات السماوی الضال‘‘ کے مؤلف ڈاکٹر ابراہیم رحیلی کہتے ہیں: 

’’اس سلسلے میں، واللہ اعلم، جو میں سمجھتا ہوں وہ یہ کہ سیدنا معاویہؓ نے سعد رضی اللہ عنہ کی چٹکی لیتے ہوئے ان سے سوال کیا تھا، اس سے آپ کا مقصد تھا کہ وہ سیدنا علیؓ کے بعض فضائل کا اظہار کریں، بلاشبہ سیدنا معاویہؓ بہت ذہین اور ہوشیار تھے، لوگوں سے سوال و جواب کرنا اور اس کے ذریعہ سے ان کی رائے معلوم کر لینا پسند کرتے تھے، چنانچہ آپ نے چاہا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں سعد رضی اللہ عنہ کی رائے معلوم کر لیں، چنانچہ ان سے اس برانگیختہ کرنے والے اسلوب میں سوال کیا، ان کا یہ قول اس قول جیسا ہے جیسے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا تھا: کیا آپ علی(رضی اللہ عنہ) کے طور طریقے پر ہیں؟ تو ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے انھیں جواب دیا: عثمان(رضی اللہ عنہ) کے طور طریقے پر بھی نہیں ہوں، میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طور طریقے پر ہوں۔‘‘

(الإبانۃ لابن بطۃ: جلد 1 صفحہ 355، شرح أصول اعتقاد: اللألکائی: جلد 1 صفحہ 94)

ظاہر سی بات ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے چٹکی لیتے ہوئے کہی تھی، اسی طرح سعد رضی اللہ عنہ سے جو با ت کہی تھی وہ بھی اسی قبیل سے تھی۔

شیعوں کا یہ دعویٰ کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے برا بھلا کہنے کا حکم دیا تھا، سیدنا معاویہؓ کی جانب سے اس طرح کے حکم کا صادر ہونا بعید از قیاس ہے۔

(الانتصار للصحب و الآل: صفحہ 374)

اور اس طرح کے حکم کے صدور سے درج ذیل باتیں مانع ہیں:

1: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ بذات خود سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو برا بھلا نہیں کہتے تھے تو دوسرے کو اس کا حکم کیسے دیں گے، بلکہ وہ تو ان کی تعظیم کرتے تھے، ان کی فضیلت اور اسلام میں سبقت کا اعتراف کرتے تھے، جیسا کہ ان کے اقوال ان چیزوں پر دلالت کرتے ہیں۔

ا: ابن کثیرؒ کا قول ہے: کئی طرق سے یہ بات وارد ہے کہ ابو مسلم خولانیؒ اور ان کے ساتھ کچھ اور لوگ سیدنا معاویہؓ کے پاس گئے اور ان سے کہا: آپ علی رضی اللہ عنہ سے لڑتے ہی ہیں یا آپ ان کے جیسے ہیں؟ جواب دیا: اللہ کی قسم میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ وہ مجھ سے بہتر اور افضل ہیں، اور خلافت کے مجھ سے زیادہ حقدار ہیں۔

(البدایۃ و النہایۃ: جلد 8 صفحہ 133)

ب: نیز ابن کثیر رحمۃاللہ نے جریر بن عبدالحمید کی روایت نقل کی جسے وہ مغیرہ سے روایت کرتے ہیں کہتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ تک پہنچی تو رونے لگے، اس پر ان کی بیوی نے کہا: آپ ان پر رو رہے ہیں جب کہ آپ نے سیدنا علیؓ سے جنگ کی ہے؟ کہا: تیرا ستیاناس ہو، تجھے معلوم نہیں کہ لوگوں نے کس فضل، فقہ اور علم کو کھو دیا ہے۔

 (البدایۃ و النہایۃ: جلد 8 صفحہ 133)

تو کیا کوئی صاحبِ عقل و دین اس بات کو قبول کرے گا کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہیں، بلکہ لوگوں کو اس پر ابھاریں جب کہ وہ ان کے بارے میں اس طرح کا اعتقاد رکھتے ہوں۔

(الانتصار للصحب والآل: صفحہ 375)

2۔ کسی صحیح روایت سے ثابت نہیں کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو ان کی زندگی میں اور ان سے برسرپیکار رہتے ہوئے برا بھلا کہا ہو، تو کیا یہ بات معقول ہے کہ لڑائی ختم ہو جانے اور ان کی وفات پاجانے کے بعد ان کو برا بھلا کہیں گے، یہ عقلاء کے نزدیک بہت ناممکن ہے اور اس سے زیادہ ناممکن یہ ہے کہ وہ لوگوں کو ان کے سبّ و شتم پر ابھاریں۔

3: سیدنا معاویہؓ نہایت ہوشیار اور عقلمندی اور زیرکی میں مشہور تھے۔ اگر وہ لوگوں کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہنے پر ابھارنا ہی چاہتے تو کیا سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ جیسے شخص سے اس کا مطالبہ کرتے جب کہ وہ نہایت بہادر، صاحب فضل اور پرہیزگار تھے، فتنے میں بالکل شامل ہی نہیں تھے، یہ تو معمولی عقل و خرد والا شخص بھی نہیں کرتا چہ جائے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کریں۔

صفحہ 3 از 4