سیدنا معاویہ و حسن رضی اللہ عنہما کے مابین امیر المؤمنین…

سیدنا معاویہ و حسن رضی اللہ عنہما کے مابین امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہنے کا معاملہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 4

نیز ان کا قول ہے: مسلمانوں کے بادشاہوں میں کوئی بھی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے بہتر نہیں تھا اور کسی بھی بادشاہ کے زمانے کے لوگ سیدنا معاویہؓ کے زمانے کے لوگوں سے بہتر نہیں تھے۔

(منہاج السنۃ: جلد 6 صفحہ 232)

2۔ ابن کثیر رحمۃاللہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی سوانح میں لکھتے ہیں: 41ھ میں تمام لوگوں نے سیدنا معاویہؓ کی بیعت پر اجماع کر لیا، اسی سال سے لے کر اپنی وفات کے سال تک خلیفہ رہے، دشمنوں کے علاقوں میں جہاد جاری رہا، اللہ کا کلمہ سر بلند رہا، اطراف و اکناف سے اموالِ غنیمت آتے رہے، سیدنا معاویہؓ کے زمانے میں مسلمانوں کو پورا آرام، عدل و انصاف اور عفو و درگزر حاصل تھا۔ 

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 8 صفحہ 122)

3۔ ابن ابوالعز حنفی کا قول ہے: مسلمانوں کے سب سے پہلے بادشاہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ ہیں اور وہ مسلمانوں کے بادشاہوں میں سب سے بہتر ہیں۔

(شرح العقیدۃ الطحاویۃ: صفحہ 722) 

4۔ ذہبی رحمۃاللہ نے سیدنا معاویہؓ کی سوانح میں لکھا ہے: أمیر المؤمنین ملک الإسلام 

(سیر أعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 120)

 (یعنی مسلمانوں کے بادشاہ) تھے نیز انھی کا قول ہے: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ ان اچھے بادشاہوں میں سے تھے جن کا عدل و انصاف ان کے ظلم پر غالب تھا۔

(سیر أعلام النبلاء: صفحہ 371)

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں مذکورہ باتیں ثابت ہیں، اور جس کی یہ سیرت ہو نہایت محال ہے کہ وہ لوگوں کو منبروں سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ جیسے صاحب فضیلت پر لعنت بھیجنے کے لیے ابھارے، اس کا مطلب یہ ہو گا کہ سلف صالحین اور ان کے بعد کے اہل علم جنھوں نے ان کی جم کر تعریف کی ہے ظلم و زیادتی میں ان کا تعاون کیا ہے اور سب غلطی پر ہیں۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 8 صفحہ 138)

اور یہ صحابہ کرامؓ، تابعین عظامؒ اور ان کے نقشِ قدم پر چلنے والے علمائے ربانیین پر بہت بڑی تہمت ہو گی۔ جو حکومت سے متعلق سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی سیرت اور رعایا کے حق میں آپ کے مشہور حلم و بردباری، عفو و درگزر اور حسنِ سیاست سے واقف ہو گا اسے بآسانی معلوم ہو جائے گا کہ یہ بہت بڑا جھوٹ ہے، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ حلم و بردباری میں ضرب المثل اور آنے والی نسلوں کے قدوہ و نمونہ تھے، ذیل میں بعض مثالیں پیش ہیں:

1۔ عبدالملک بن مروانؓ کے پاس معاویہ رضی اللہ عنہ کا ذکر ہوا تو انھوں نے کہا: حلم و بردباری، قوتِ برداشت اور عالی ظرفی میں میں نے ان کے جیسا کسی کو نہیں دیکھا۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 8 صفحہ 138)

2۔ قبیصہ بن جابر کا قول ہے: میں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے زیادہ بردبار، ان سے بڑا سردار، ان سے زیادہ باوقار، نرم اور بھلائی میں آگے رہنے والا نہیں دیکھا۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 8 صفحہ 138)

3۔ ابن کثیرؒ نے نقل کیا ہے کہ ایک شخص نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو بہت برا بھلا اور سخت و سست کہا۔ ان سے کہا گیا: کاش آپ اس پر چڑھ بیٹھتے تو انھوں نے کہا: میں اس بات پر اللہ سے شرماتا ہوں کہ رعایا میں سے کسی کی غلطی پر میری بردباری جواب دے جائے۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 8 صفحہ 138)

4۔ ایک شخص نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے کہا: میں نے تم سے زیادہ خسیس اور کمینہ نہیں دیکھا، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں اس طرح کے سلوک کے ساتھ لوگوں سے کون پیش آئے گا۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 8 صفحہ 138)

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ امیر المؤمنین ہیں، احمق قسم کے لوگ انھیں گالی گلوچ دیتے ہیں، پھر بھی آپؓ ان کے ساتھ حلم وبردباری سے پیش آتے ہیں تو کیا اس کے بعد بھی یہ بات عقل میں سماتی ہے کہ وہ خلیفۂ راشد علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ پر منبروں سے لعنت بھیجنے کا حکم دیں گے، اور تمام علاقوں کے گورنروں کو اس کا حکم دیں گے، اور یہ لعنت و ملامت جاری رہے گی تاآنکہ عمر بن عبدالعزیز رحمۃاللہ آ کر اسے ختم کریں؟ ہر صاحب عقل و فہم اس بارے میں فیصلہ کر سکتا ہے۔

(الانتصار للصحب والآل: صفحہ 372)

اس افتراء پردازی اور تہمت کی دلیل میں شیعہ صحیح مسلم کی جو روایت پیش کرتے ہیں اس میں ان کے زعم باطل کی کوئی دلیل نہیں:

فَعَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِیْ وَقَّاصٍ عَنْ أَبِیْہِ قَالَ: أَمَرَ مُعَاوِیَۃُ بْنُ أَبِیْ سُفْیَانَ

سَعْدًا فَقَالَ: مَا مَنَعَکَ أَنْ تَسُبَّ أَبَا تُرَابٍ؟ فَقَالَ: أَمَا مَا ذَکَرْتُ ثَلَاثًا قَالَہُنَّ لَہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلي الله عليه وسلم فَلَنْ أَسُبَّہُ لَأَنْ تَکُوْنَ لِیْ وَاحِدَۃً مِنْہُنَّ أَحَبُّ إِلَیَّ مِنْ حُمُرِ النَّعَمِ۔

(صحیح مسلم: کتاب فضائل الصحابۃ: جلد 4 صفحہ 1871)

’’عامر بن سعد بن ابی وقاص رحمۃاللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سعد رضی اللہ عنہ کو گورنر بنایا توان سے پوچھا: کیا چیز ابو تراب علی(رضی اللہ عنہ) کو برا بھلا کہنے سے تمھیں روکتی ہے؟ جواب دیا: جن تین باتوں کا میں نے ذکر کیا ہے جنھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں کہا ہے تو میں(ان کے باعث) انھیں ہرگز برا بھلا نہیں کہوں گا، ان میں سے ایک بات بھی میرے لیے ہوتی تو وہ میرے لیے سرخ اونٹوں سے بہتر ہوتی۔‘‘

امام نووی رحمۃاللہ کہتے ہیں:

’’سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے اس قول میں اس بات کی صراحت نہیں کہ انھوں نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کو انھیں برا بھلا کہنے کا حکم دیا تھا، بات صرف اتنی تھی کہ انھوں نے ان سے صرف اس سبب کے بارے میں سوال کیا جو انھیں برا بھلا کہنے سے روکنے والا تھا، گویا وہ کہہ رہے تھے کیا احتیاط کے سبب برا بھلا نہیں کہتے ہو یا خوف کے سبب یا کسی دوسری چیز کے سبب، اگر ایسا احتیاط اور اکرام و احترام کے سبب ہے تو تمھارا ایسا کرنا درست ہے، اور اگر کسی دوسرے سبب سے ہے تو اس کا دوسرا جواب ہو گا، شاید سعد رضی اللہ عنہ کچھ ایسے لوگوں کے ساتھ تھے جو برا بھلا کہتے تھے، لیکن وہ برا بھلا کہنے میں ان کا ساتھ نہیں دیتے تھے، انھیں روکنے سے عاجز تھے، یا روکتے تھے، اس پر انھوں نے ان سے یہ سوال کیا تھا۔

صفحہ 2 از 4