مسئلہ باغ فدک اور اہلِ تشیع کے تضادات - ردِ رافضیت | دفاع…

مسئلہ باغ فدک اور اہلِ تشیع کے تضادات

  توقیر احمد

صفحہ 9 از 19

جب کہ ہم ماقبل بیان کرچکے ہیں کہ، ہِبہ اور میراث دو متضاد دعوے ہیں، ہِبہ زندگی چاہتا ہے اور میراث موت۔

اور اِس کے ساتھ ساتھ ہم شیعہ کتب سے یہ حوالے بھی بیان کرچکے ہیں کہ ہِبہ کی ہوئی چیز میراث نہیں ہوسکتی۔ 

مذہبِ اہل تشیع میں غیر منقولہ جائیداد میں عورت کا حِصّہ نہ ہونا:

ہم آپ کے سامنے ایک مسئلے کو پیش کریں گے جس کہ تحت اہل تشیع مذہب میں غیر منقولہ جائیداد میں عورت کا کوئی حِصّہ نہیں ہوتا۔

الکافی نے اس موضوع پر باب باندھا ہے اور گیارہ (11) روایات نقل کی لیکن ہم نے بطورِ اختصار صرف دو (2) روایات نقل کی ہیں۔ جبکہ اصولِ اربعہ میں اِس مسئلے پر کثیر روایات موجود ہیں۔ 

روایت نمبر 1:

علي بن إبراهيم، عن محمد بن عيسى، عن يونس، عن محمد بن حمران، عن زرارة عن محمد بن مسلم، عن أبي جعفر عليه السلام قال: النساء لا يرثن من الأرض ولا من العقار شيئاَ 

ترجمہ: 

ابو جعفر نے فرمایا عورتیں زمین اور رہائشی عمارت میں وارث نہیں ہوتیں. 

روایت نمبر 2:

 عن أبي عبد الله عليه السلام قال: سألته عن النساء ما لهن من الميراث؟ قال: لهن قمية الطوب والبناء والخشب والقصب، وأما الأرض والعقارات فلا ميراث لهن فيها، قال: قلت: فالثياب؟ قال: الثياب لهن نصيبهن قال: قلت: كيف صار ذا ولهذه الثمن ولهذه الربع مسمى؟ قال: لأن المرأة ليس لها نسب ترث به۔ 

ترجمہ:

ابو عبد اللہ سے روایت ہے کہ: میں نے ان سے پوچھا کہ عورتوں کے پاس وراثت میں سے کیا ہے؟  انہوں نے کہا: ان کے پاس اینٹوں، عمارت، لکڑی اور بانس کی قیمت ہے، زمین اور رہائشی امِلاک میں ان کی کوئی میراث نہیں ہے، میں نے کہا: کپڑے؟ انہوں نے فرمایا: کپڑوں کا اپنا حِصّہ ہے، میں نے کہا: کیسے؟ یہ اتنا اور اس کی قیمت، اور اس کو چوتھائی حصہ کہا انہوں نے کہا اس لئے کہ خواتین کو میراث دینے کا کوئی نسب نہیں ہے۔ 

(الکافی جلد 7 صفحہ 127۔130) 

تعارضات:

ایک کہاوت مشہور ہے کہ آسمان سے گِرا کھجور میں اٹکا۔

فَدَک کے دعوے پر یہ مثال اہل تشیع پر ثابت آتی ہے کہ جب ہِبہ سے بھاگے میراث کی طرف، تو معصومین کے فرمان کے مطابق غیر منقولہ جائیداد کی وراثت میں عورت کا حِصّہ ہی نہیں۔ تو اب دعویٰ کیا رہ گیا۔ ؟؟

اہل تشیع کی دِلی تسلّی اور اہل سُنّت کی دلجوئی کیلئے، ہم اُن قرانی آیات جن کو اہل تشیع فَدَک کے میراث ہونے پر پیش کرتے ہیں 

فَدَک میراث کیسے ؟
اہل تشیع کا قران مجید سے استدلال: 

يُوْصِيْكُمُ اللّـٰهُ فِىٓ اَوْلَادِكُمْ ۖ لِلـذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَيَيْنِ ۚ فَاِنْ كُنَّ نِسَآءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَـهُنَّ ثُلُثَا مَا تَـرَكَ ۖ وَاِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَـهَا النِّصْفُ ۚ وَلِاَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْـهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَـرَكَ اِنْ كَانَ لَـهٝ وَلَـدٌ ۚ فَاِنْ لَّمْ يَكُنْ لَّـهٝ وَلَـدٌ وَّوَرِثَهٝٓ اَبَوَاهُ فَلِاُمِّهِ الثُّلُثُ ۚ فَاِنْ كَانَ لَـهٝٓ اِخْوَةٌ فَلِاُمِّهِ السُّدُسُ ۚ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّـةٍ يُّوْصِىْ بِـهَآ اَوْ دَيْنٍ ۗ اٰبَآؤُكُمْ وَاَبْنَـآؤُكُمْۚ لَا تَدْرُوْنَ اَيُّـهُـمْ اَقْرَبُ لَكُمْ نَفْعًا ۚ فَرِيْضَةً مِّنَ اللّـٰهِ ۗ اِنَّ اللّـٰهَ كَانَ عَلِيْمًا حَكِـيْمًا
(سورہ النساء آیت 11) 

ترجمہ: 

اللہ تمہاری اولاد کے حق میں تمہیں حکم دیتا ہے، ایک مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر ہے، پھر اگر دو سے زائد لڑکیاں ہوں تو ان کے لیے دو تہائی حصہ چھوڑے گئے مال میں سے ہے، اور اگر ایک ہی لڑکی ہو تو اس کے لیے آدھا ہے، اور اگر میت کی اولاد ہے تو اس کے والدین میں سے ہر ایک کو کل مال کا چھٹا حصہ ملنا چاہیے، اور اگر اس کی کوئی اولاد نہیں اور ماں باپ ہی اس کے وارث ہیں تو اس کی ماں کا ایک تہائی حصہ ہے، پھر اگر میت کے بھائی بہن بھی ہوں تو اس کی ماں کا چھٹا حصہ ہے، (یہ حصہ ہوگا) اس کی وصیت یا قرض کی ادائیگی کے بعد، تمہارے باپ یا تمہارے بیٹے، تم نہیں جانتے کہ ان میں سے کون تمہیں زیادہ نفع پہنچانے والے ہیں، اللہ کی طرف سے یہ حصہ مقرر کیا ہوا ہے، بے شک اللہ خبردار حکمت والا ہے۔ 

 استدلال اہل تشیع: 

اہل تشیع اِس آیت سے استدلال کرتے ہیں کہ انبیاء کی دنیاوی وِراثت ہوتی ہے۔  تو سب سے پہلی بحث یہ ہے کہ  اِس آیت کے تحت رسول اللہ ﷺ خطاب میں شامل ہیں یا نہیں ؟؟

تو جناب اہل تشیع حضرات کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ خطاب میں شامل ہیں۔ 

اعتراض اہل سنت: 

بالفرض ہم یہ تسلیم کرلیتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اِس خطاب میں شامل ہیں تو اس نتیجے میں دوسرے حقائق کو ماننا پڑے گا، جو مندرجہ ذیل ہیں. 

1> دوسری آیاتِ وراثت میں بھی رسول اللہ ﷺ کو شاملِ خطاب کرنا ہوگا۔ 

2> اِس آیت کے تحت رسول اللہ ﷺ کی دوسری بیٹوں، ماں باپ اور بہن بھائیوں کا وارث ہونا لازم آئے گا۔ جبکہ رسول اللہ ﷺ کے زیادہ تر رشتہ دار حیات نہیں تھے۔ تو پھر رسول اللہ ﷺ خطاب میں شامل کیسے؟؟  

3> قران مجید میں بیوی کی وراثت جو کہ دلالت نص اور قطعی الدلالہ ہے تو پھر رسول اللہ ﷺ کی زوجہ یعنی امہات المؤمنین رضی اللّٰہ عنہما بھی میراث کے خطاب میں شامل ہیں۔ اس پر قران مجید کی یہ آیت اور دوسری آیات بطورِ دلیل ہیں۔ تو امہات المؤمنین رضی اللہ عنہما کو خطاب سے کس دلیل سے علیحدہ کریں گے؟؟ جس کیلئے سورہ النساء کی آیت 12 پیش ہے۔ 

تَرَكْتُم مِّن بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ وَإِن كَانَ رَجُلٌ يُورَثُ كَلَالَةً أَوِ امْرَأَةٌ
(سورہ النساء آیت 12) 

ترجمہ:

اور جو مال تم (مرد) چھوڑ مرو۔ اگر تمہارے اولاد نہ ہو تو تمہاری عورتوں کا اس میں چوتھا حصہ۔ اور اگر اولاد ہو تو ان کا آٹھواں حصہ۔ 

4> ایک سوال اور پیدا ہوتا کہ سورہ النساء کی آیت نمبر میں 3 میں رسول اللہ ﷺ میں شامل ہیں یا نہیں؟

اگر شامل ہیں تو دلیل کیا ہے؟  اور اگر شامل نہیں ہیں تو دلیل کیا ہے؟؟  

وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَىٰ فَانكِحُوا مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاءِ مَثْنَىٰ وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ذَٰلِكَ أَدْنَىٰ أَلَّا تَعُولُوا
(سورہ النساء آیت 3) 

ترجمہ:

صفحہ 9 از 19