مسئلہ باغ فدک اور اہلِ تشیع کے تضادات - ردِ رافضیت | دفاع…

مسئلہ باغ فدک اور اہلِ تشیع کے تضادات

  توقیر احمد

صفحہ 8 از 19

اِس روایت میں ایک قِصّہ بیان کیا گیا ہے کہ جبرئیل علیہ السلام حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پاس آتے ہیں اور اُن سے عرض کرتے ہیں سوار ہوجائیں۔ جبرئیل علیہ السلام اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام فَدک کی طرف روانہ ہوتے ہیں تو زمین کپڑے کی طرح لپیٹ دی جاتی ہے۔ جب جبریل امین اور رسول اللهؐ خیبر کے مضافات تک پہنچتے ہیں تو وہاں کے رہائشی خوفزدہ ہو کر فَدَک کی چابیاں ایک بڑھیا کو دے کر خود پہاڑ کی چوٹی سے یہ منظر دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ تو جبرئیل امین علیہ السلام بڑھیا سے وہ چابی لے کر دروازے اور دار کھولتے ہیں اور رسول اللهؐ کو دے دیتے ہیں اور عرض کرتے ہیں یارسول اللهؐ یہ خاص ہے آپ کیلئے نہ کے عام انسانوں کیلئے۔۔۔  فتح خیبر کے بعد مدینہ واپس آکر رسول اللهؐ حضرت فاطمہؓ کے پاس پہنچے تو فرمایا کہ الله تعالیٰ نے یہ مال فئے دیا جو کہ خاص آپ کیلئے ہے۔ اور رسول اللهؐ نے فرمایا کہ یہ بطورِ حق مہر آپ کی والدہ خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کا ہے۔ اِس سے یہ حِصّہ دیا گیا ہے اِس کو میں نے آپ کیلئے حلال کیا ہے۔ اور یہ آپ کیلئے اور آپ کے بعد آپ کی اولاد کیلئے ہے۔

اِسی روایت میں ایک اور واقعہ پیش آتا ہے جو رسول اللهؐ کے وصال کے بعد کا ہے کہ جب علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ اُم ایمن رضی اللہ عنہا کو بطورِ گواہ پیش کرتے ہیں تو اُم ایمن رضی اللہ عنہا فرماتی ہے کہ اہل فَدَک نے ،24000 دینار سالانہ ادائیگی کا معاہدہ کیا۔

(بحار الأنوار ج‏لد 29 صفحہ 117-116) 
(سرّه في البحار جلد 17 صفحہ 378 حديث 46) 
(إثبات الهداة جلد 2 صفحہ 116 حديث 515) 
(مجمع البحرين جلد 1 صفحہ333) 
(مجمع البحرين جلد 5 صفحہ 127)

   تعارضاتِ روایاتِ اہل تشیع: 

ہِبہ فَدَک پر اختصار کے ساتھ ہم نے اہل تشیع کتابوں سے صرف (4) روایات نقل کی، جن میں موقف ہِبہ فَدَک کے بارے میں واضح طور پر تضاد و تعارض پایا جاتا ہے۔ فَدَک کے معاملے میں اہل تشیع گروہ نے عوام الناس میں جو پروپیگنڈہ اور شور و واویلا کیا اُس کی حقیقت منکشف اور نمایاں ہوگئی کہ یہ باغِ فَدَک کو ہِبہ ثابت نہیں کرسکے۔ 

بقول شاعر

بڑا شور سنتے تھے پہلو میں دل کا

جو چیرا تو اک قطرۂ خوں نہ نکلا

اب ہم اُن تعارضات کا تذکرہ کرتے ہیں جس کو ہر فرد کے علم میں لانے کی اشد ضروت ہے۔ کہ کس طرح اہل تشیع طبقے نے فَدَک کے معاملے میں عوام کو گمراہ کیا۔ 

پہلی روایت میں سورہ اسراء کی جس آیت کو بطورِ حوالہ پیش کیا گیا ہے اِس کے بارے میں ہم ماقبل بیان کرچکے ہیں کہ یہ آیت دس (10) یا  گیارہ (11) نبوی میں نازل ہوئی۔ جب کہ فَدَک سات (7) یا آٹھ (8) ہجری میں حاصل ہوا. 

 دوسری روایت میں بھی یہی ذکر کیا گیا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی۔ جبکہ آیت کے نزول کے وقت فَدَک موجود ہی نہیں تھا۔ 

 قران نے جو مصارف بیان کیے ہیں اُن میں مساکین کی تاویل حضرت فاطمہؓ کے بیٹوں سے کردی۔ اور ابنِ السبیل کی تاویل آلِ رسولؐ اور آلِ فاطمہؓ سے کردی۔

تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ تاویل کس قرینے اور کس اشارے کے تحت کی گئی ہے۔ جب کہ آیت میں کوئی اشارہ، کنایہ اور قرینہ موجود نہیں ہے۔ 

 تیسری روایت میں اِس آیت کے شانِ نزول میں یہ ذکر کرتے ہیں کہ فاطمہؓ کو فَدَک حضرت خدیجہؓ کے حق مہر کے عوض دیا گیا اور بطورِ وراثت۔ تو جناب اِس روایت نے تو فَدَک کے ہِبہ ہونے کے تمام دعووں کو جھوٹ اور کھوکھلا ثابت کردیا اور پھر یہاں فَدَک کو میراث کہا گیا ہے۔ 

چوتھی روایت اوّل تو، کِذب، دروغ گوئی، افتراء اور مکر کے ستونوں پر کھڑی ہے۔ لیکن اگر بالفرض اِس روایت کو سچ مان لیتے ہیں تو جن شیعہ محققین نے واٰت ذی القربی کے شانِ نزول کو مدنی کہا۔ پھر وہ سب جھوٹ ہے 

چوتھی روایت میں ایک باقاعدہ قِصّہ گھڑا گیا ہے کہ جب واٰت ذی القربی آیت نازل ہوئی تو حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام جبرئیل علیہ السلام کے ساتھ فدک کی طرف روانہ ہوتے ہیں۔

جبکہ دوسری مرتبہ فتح خیبر کے موقع پر فَدَک کی طرف روانہ ہوتے ہیں۔

ساتھ ساتھ اِس روایت میں یہ بھی مرقوم ہے کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے فَدَک کو مالِ فئے کے طور پر حضرت فاطمہؓ کیلئے مخصوص کیا۔ جبکہ اِن کا یہ دعویٰ تمام شیعہ روایات سے متصادم و متعارض ہے جو روایات ماقبل بیان کی جاچکی ہیں کہ فَدَک اُس وقت ہِبہ ہوا جب آیت واٰت ذی القربی نازل ہوئی۔ 

چوتھی روایت ہی میں ایک اور تعارض سامنے آیا کہ جب حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ، اُم ایمن رضی اللہ عنہا کو بطورِ گواہ پیش کرتے ہیں تو فَدَک کے ہِبہ ہونے کے بجائے 20،000 دینار سالانہ ادائیگی کا معاہدہ ہوا۔ 

"نتیجہ"

 اہل تشیع نے فَدَک کے محل وقوع میں جو روایات پیش کی ہیں اُن روایات ہی میں تضاد ہے۔ 

 ہِبہ فَدَک میں جس آیت سے استدلال کیا ہے اُس کے تاریخِ نزول میں بھی اہل تشیع روایات میں تضاد ہے۔ 

اہل سُنّت کی طرف ہِبہ فَدَک میں جن روایات کے کثیر ہونے کا دعویٰ کیا ہے وہ بھی خبرِ واحد ہے۔ 

 ہبہ فَدَک میں جس راوی کی یہ روایات ہیں جرح و تعدیل میں اُس کی صورتحال انتہائی دگرگوں ہے۔ 

 یہ تمام روایات محدثین کے طبقہ اولٰی اور ثانیہ سے منقول نہیں ہیں۔ 

جب تک کسی شے کی ملکیت ثابت نہ ہو، ہِبہ نہیں کی جاسکتی۔ بروایت اہل تشیع 

ہِبہ فَدَک میں اہل تشیع روایات میں کثیر تضاد ہے۔ 

 اہل تشیع نے واٰت ذی القربی کے شانِ نزول میں جو روایات پیش کی ہیں اُن میں ہِبہ اور میراث دونوں کا دعویٰ کیا ہے۔ 

باغِ فَدَک کے بارے میں بروایت اہل تشیع:

اُمِّ ایمن رضی اللہ تعالیٰ عنہا  فرماتی ہیں کہ فَدَک 20،000 دینار سالانہ دینے کا معاہدہ تھا نہ کہ کوئی باغ یا زمین۔ 

اِن تمام متون کے بعد ہم اِس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ باغِ فَدَک کے ہِبہ ہونے میں جتنی بھی اہل سنت اور اہل تشیع روایات پیش کی جاتی ہیں وہ سب من گھڑت، جھوٹ اور دَجَل پر مبنی ہے۔ لہذا ہم تو یہی عرض کرتے ہیں

ہزار دام سے نکلا ہوں ایک جنبش میں

جسے غرور ہو آئے کرے شکار مجھے.

اہل تشیع حضرات نے باغِ فَدَک کو باطل تاویلات، جھوٹی روایات اور من گھڑت قِصّوں سے ہِبہ ثابت کرنے کی کوشش کی لیکن جب ان سب میں ناکام ہوئے تو انہوں نے اونٹ کو دوسری کروٹ بٹھایا کہ فَدَک میراث ہے۔

صفحہ 8 از 19