مسئلہ باغ فدک اور اہلِ تشیع کے تضادات - ردِ رافضیت | دفاع…

مسئلہ باغ فدک اور اہلِ تشیع کے تضادات

  توقیر احمد

صفحہ 4 از 19

اس کو شوستری نے احقاق الحق میں ذکر کیا ہے۔

پانچویں: پانچویں سند وہ جو معارج النبوت اور مقصد اقصی میں عماد الاسلام کی محزوف السند ذکر ہے 

یہ وہ کُل سرمایہ ہے شیعہ کا جس کی نسبت وہ سنیوں کی طرف کرتے ہیں

اور اس کا اصل پودہ ابو سعید اور عطیہ عوفی ہے جس کے یہ پھل پھول ہیں

 ایک بات تو یہ ثابت ہوئی کہ یہ خبر واحد ہے جس کو نقل در نقل کی صورت میں لوگ متواتر سمجھتے ہیں۔۔

اب ہم بحث کریں گے ابو سعید اور عطیہ عوفی کے بارے میں۔ یہ کون ہیں تاکہ پتہ چلے یہ جھوٹ کا ٹوکرا کس کا ہے۔ 

جرح و تعدیل راوی سعید محمد ابن سائب الکلبی: 

سعید محمد بن اول درجے کی جھوٹے، حدیثیں گھڑنے والا شیعہ تھا۔

علامہ سخاوی نے رسالہ منظومہ جزری میں لکھا ہے،

ان من امثلة ( ای من له اسماء مختلفة ونعوت متعددة ) محمد بن سائب کلبی المفسر ھو ابو النضر الذی روی عنه ابن اسحاق وھو حماد بن سائب روی عنه ابو اسامه وھو ابو سعید الذی روی عنه عطیة الکوفی موھما انه الخدری وھو ابو ھشام روی عنه القاسم بن الولید۔

ترجمہ: کہ ان لوگوں میں سے جن کے مختلف نام، اور متعدد کنیتیں اور لقب ہیں، ایک محمد بن سائب کلبی مفسر ہیں، اِس کی کنیت ابو نضر ہے، اور اِس کنیت سے ابن اسحاق اِن سے روایت کرتے ہیں، اور اسی کا نام حماد بن سائب بھی ہے، اور ابواسامہ اسی نام سے اِن سے روایت کرتے ہیں، اور اسی کی کنیت ابو سعید ہے، اور اسی کنیت سے عطیه عوفی اِس سے روایت کرتا ہے، تاکہ لوگوں کو اس شبہ میں ڈالیں، کہ یہ ابوسعید الخدریؓ ہیں، اور انہی کی کُنیت ابو ہشام بھی ہے، اور اِس کنیت سے قاسم بن الولید ان سے روایت کرتے ہیں۔

تقریب التہذیب میں اِن حضرت کے بارے میں یوں لکھا ہے،

محمد بن سائب بن بشیر الکلبی ابو نضرالکوفی النسابه المفسر متھم باالکذب ورمی باالرفض من السادسه مات سنة ماة وست اربعین۔

ترجمہ: محمد بن سائب بن بشیر الکلبی ابوالنضر الکوفی نسبت جاننے والے اور تفسیر لکھنے والے جھوٹ اور رِفض سے متہم ہیں، اِس کی وفات سن 146 ہجری میں ہوئی۔ 

میزان الاعتدال میں ان صاحب کے متعلق عربی کی طویل عبارت لکھی ہوئی ہے اِس لئے صرف ترجمہ پیش کرتا ہوں۔

محمد بن سائب کلبی جن کی کنیت ابو النضر ہے، وہ کوفی ہیں، اور مفسر اور نسب جاننے والے اخباری ہیں۔ 

امام ثوری اِس کی نسبت کہتے ہیں، کہ کلبی سے بچنا چاہئے، اس پر کسی نے اِن کو کہا، کہ آپ تو خود اِس سے روایت کرتے ہیں، تو انہوں نے جواب دیا، میں اُس کے جھوٹ کو اُس کے سچ سے جدا کرنا جانتا ہوں۔ 

امام بخاری نے کہا ہے، کہ یحیٰی اور ابنِ مہدی نے اس کی روایت قابل ترک بتلائی ہے، اور امام بخاری نے یہ بھی کہا ہے، کہ علی نے یحیٰی سے اور انہوں نے سفیان سے بیان کیا ہے، کہ ابو صالح سے جو میں تم سے بیان کروں، وہ جھوٹی ہے، اور یزید بن زریع نے کلبی سے روایت کیا ہے، کہ وہ عبداللہ بن سبا کے فرقے کا تھا۔ 

ابو معاویہ کہتے ہیں، کہ اعمش نے کہا ہے، کہ اِس سبائیہ فرقہ سے بچنا چاہئے، کیونکہ وہ کذاب ہوتے ہیں۔ 

ابنِ حبان نے کہا، کہ کلبی سبائی تھا، یعنی ان لوگوں میں سے جو کہتے ہیں، کہ علی رضی اللہ عنه فوت نہیں ہوئے، اور پھر وہ دنیا کی طرف رجعت کریں گے، اور اسے انصاف سے اس طرح بھر دیں گے، جیسے کہ وہ ظلم سے بھری ہوئی تھی، اور جب بھی وہ بادل کو دیکھتے، تو کہتے کہ امیرالمؤمنین (علی رضی الله عنہ) اِسی میں ہیں۔   

ابو عوانہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں، کہ میں نے خود کلبی کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ جبرائیل علیہ السلام رسول اللہ صلٰی اللہ علیه وسلم پر وحی بیان کرتے، اور ایسا اتفاق ہوتا، کہ آپ رفع حاجت کے لئے بیت الخلاء تشریف لے جاتے، تو جبرائیل علیہ السلام، علی رضی الله عنہ پہ اس وحی کو املا کرواتے۔ (یعنی وحی حضرت علی پہ نازل کی جاتی)۔ 

احمد بن زہیر کہتے ہیں، میں نے امام احمد بن حنبل سے پوچھا، کہ کلبی کی تفسیر دیکھنا درست ہے؟ انہوں نے کہا نہیں۔ 

جوزجانی وغیرہ نے کہا، کہ کلبی بڑا جھوٹا ہے، اور دارقطنی اور ایک جماعت نے کہا، کہ وہ متروک ہے، یعنی اِس کی روایت لینے کے لائق نہیں ہے، 

ابنِ حبان کہتے ہیں، اِس کا جھوٹ ایسا ظاہر ہے، کہ بیان کرنے کی حاجت نہیں، اور اِن حضرت کی صفات میں سے ایک صفت یہ بھی بیان کی گئی ہے، کہ وہ تفسیر کو ابو صالح سے اور ابو صالح کی روایت ابن عباس سے بیان کرتےہیں، حالانکہ نہ ابو صالح نے ابنِ عباس کو دیکھا، اور نہ ہی کلبی نے ایک حرف بھی ابو صالح سے سنا ہے، مگر جب بھی ان کو تفسیر میں کچھ بیان کرنے کی حاجت ہوتی، تو اپنے دل سے نکال لیتے، ایسے کا ذکر کرنا بھی کتاب میں جائز نہیں، کجا یہ کہ اس کی سند (کوئی روایت) لینا۔ 

تذکرة الحفاظ (حفاظ الحدیث کا تذکرہ) میں امام ذہبی نے اِن کے فرزند ارجمند ہشام بن کلبی کا جہاں تذکرہ کیا ہے، وہاں ان کے پدر بزرگوار "محمد بن سائب کلبی" کو رافضی لکھا ہے، اور اِن کے فرزند ارجمند کو حفاظ الحدیث میں داخل بھی نہیں کیا۔ 

معجم الادبا میں یاقوت حموی نے جہاں محمد بن جریر طبری کی کتابوں کا تذکرہ کیا ہے، وہاں لکھا ہے، کہ طبری نے غیر معتبر تفسیر اپنی تفسیر کی کتاب میں بیان نہیں کی، اسی لئے کتاب میں کچھ بھی محمد بن سائب کلبی، مقاتل بن سلیمان، اور محمد بن عمر واقدی کی کتابوں میں سے نہیں لیا، کیونکہ یہ لوگ اس کے نزدیک مشکوک میں سے ہیں۔ 

امام محمد طاہر نے "تذکرة الموضوعات" میں کلبی صاحب کے بارے میں فرمایا ہے،

قد قال احمد فی تفسیر الکلبی من اوله الی آخره کذب لایجعل النظر فیه

ترجمہ:امام احمد نے تفسیر کلبی کے بارے میں کہا ہے، کہ تفسیر کلبی اول تا آخر جھوٹ ہے، اس کی طرف نظر بھی نہیں کرنی چاہئے۔ 

فریب عیاں ہوا:

یہ حالت ہے جناب "ابو سعید" کی جن کو ابو سعید الخدری (صحابی رسولؐ) کہہ کے پیش کیا جارہا ہے،

صفحہ 4 از 19