مسئلہ باغ فدک اور اہلِ تشیع کے تضادات - ردِ رافضیت | دفاع…

مسئلہ باغ فدک اور اہلِ تشیع کے تضادات

  توقیر احمد

صفحہ 3 از 19

سورہ اسراء کی اِس آیت سے اہل تشیع باغِ فَدَک کو ہِبہ ثابت کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں، پر افسوس ہمیشہ اُن کے ہاتھ میں خاک ہی آئی ہے۔

اِس آیت کی صرف و نحو کی ترکیب کرتے ہیں تاکہ اس ہِبہ کے دعوے کی ساری ہوا نکل جائے۔ 

اِس آیت کا قواعد نحو کے ذریعے جملہ بناتے ہیں۔ 

الواو استئنافيّة (آت) فعل أمر مبنيّ على حذف حرف العلّة، والفاعل أنت (ذا) مفعول به أوّل منصوب وعلامة النصب الألف (القربى) مضاف إليه مجرور وعلامة الجرّ الكسرة المقدّرة على الألف (حقّه) مفعول به ثان منصوب.. والهاء مضاف إليه الواو عاطفة في المواضع الثلاثة (المسكين، ابن) اسمان معطوفان على (ذا) منصوبان، (السبيل) مضاف إليه مجرور (لا) ناهية جازمة (تبذّر) مضارع مجزوم، والفاعل أنت (تبذيرا) مفعول مطلق منصوب.
جملة: (آت) لا محلّ لها استئنافيّة.
وجملة: (لا تبذّر) لا محلّ لها. معطوفة على الاستئنافيّة

سورہ اسراء کی آیت کی یہ ترکیب ہے۔ اب کوئی بڑے سے بڑا ماہر عربی دان، علمِ صرفِ نحو پر مہارت رکھنے والا ہماری اِس ترکیب کو غلط ثابت کرکے دِکھائے۔

سیدھے الفاظ میں اِس آیت میں جو حکم ذوالقربی حقہ پر ہے وہی مساکین اور ابنِ السبیل کیلئے ہے۔

آیت کا سیاقِ کلام: 

سورہ اسراء کی آیت کو ہِبہ باغ فَدَک مُراد لینے سے چند ایسے ابہام اور پیچیدگیاں پیدا ہوئی ہیں جن کو اہل تشیع مذہب نہ سُلجھانے میں کامیاب ہوئے اور نہ ہی اِس کا کوئی مُدلّل جواب دیا۔ 

مساکین کا کیا حکم ہے۔ ؟؟ 

ابن السبیل کا کیا حکم ہے۔ ؟؟ 

کیا حضور نبی کریم ﷺ پر (نعوذباللہ) ہبہِ فَدَک سے ناانصافی ثابت نہیں آتی۔ ؟؟ 

کیا یہ اللہ کے حکم کے خلاف فیصلہ نہیں ہے کہ یہ مساکین اور ابن السبیل کا بھی حق تھا۔ ؟؟ 

کیا اِس آیت کی تخصیص سے  حضور نبی کریم ﷺ کے معصوم ہونے پر سوال نہیں اُٹھتا کہ اس میں تبذیر سے منع کیا گیا۔ ؟؟ 

کیا یہ نبی کریم ﷺ  کی شان ہے کہ اُن سے فضول خرچی کا گمان کیا جائے۔ ؟؟ 

سیاق کلام کو دیکھیں  تو پہلی آیت میں والدین کا ذکر ہے تو حضور ﷺ کے والدین اُس وقت تک وفات پا چکے تھے تو نبی ﷺ خطاب میں شامل نہیں اب آپ کا دعوی کیسے ثابت ہو سکتا۔ ؟؟ 

جب نبی ﷺ خطاب میں شامل نہیں تو فَدَک وقف کے حکم میں ہے اور یہی اہلسنت کا موقف بھی ہے اور ثابت بھی ہے۔ 

من گھڑت روایت:  

ابو سعید سے منسوب روایت ہے کہ:

(( لَمَّا نَزَلَت ھٰذِہِ الآیَةُ :" وَآتِ ذَا القُربٰی حَقَّہُ))
(بنی إسرائیل17: 26) دَعَا رَسُولُ ﷺ فَاطِمَةَ فَأَ عطَاھَا فَدَکَ )

” جب یہ فرمان باری تعالیٰ نازل ہوا کہ "اپنے عزیز و اقارب کو ان کا حق دیجئے"، تو رسول اللہ ﷺ نے سیدہ فاطمہؓ کو بلا کر باغِ فدک دے دیا۔“ 

(مسند البزّار کشف الأستار 2223) 

روایات کی تدوین: 

اہل تشیع حضرات کا یہ دعویٰ ہے کہ اہل سنت کی کتابوں میں کثرت سے ہبہِ باغِ فدک میں روایات موجود ہیں۔

ہم سنی اور شیعہ روایات کو دھاگہ ڈالتے ہیں اور ان روایات کی اسانید کو یکجا کرتے ہیں۔ 

شافی میں کوئی روایت سُنیوں کی طرف سے نقل نہیں کی گئی ۔

تلخیص شافی میں بھی کوئی روایت سُنیوں کی طرف سے پیش نہیں کی گئی۔ 

کشف الحق ونہج الصدق میں بھی کوی روایت ذکر نہیں کی گئی۔ 

طرائف میں ایک روایت مقطوع سند ۔واقدی بشر ابن غیاص اور بشر ابن الولید سے ذکر کی ہے 

طرائف میں ابن مردویہ ابوسعید سے منقول کرتے ہیں۔ 

بحار الانوار میں بابِ نزول الآیات فی امر فَدَک

کہتے ہیں کہ اِس آیت کے نزول بہت زیادہ شیعہ اور سنی روایات منقول ہیں لیکن خود صرف ابو سعید کی روایت نقل کرتے ہیں اور اسی پر اکتفا کرتے ہیں۔ 

علامہ طبرسی نے بھی جہاں ذکر کیا ہے ابو سعید سے ذکر کیا ہے۔ 

منہج الصادقین نے دو روایوں کے اضافے سے ابو سعید کی روایت نقل کی ہے۔ 

سعدالسعود میں بھی ابو سعید سے نقل کی گئی ہے۔ 

سعدالسعود میں بیس اسناد ذکر ہیں لیکن تمام ابو سعید کی ہیں ۔ 

احقاق الحق میں بھی واقدی  کی مقطوع سند روایت نقل ہے۔ 

عماد الاسلام میں ایک ابن مردویہ والی روایت ابو سعید سے طرائف کے حوالے کی نقل ہے۔ 

عماد الاسلام میں مقطوع سند کنزالعمال کے حوالے سے روایت مذکور ہے۔ 

عماد الاسلام میں در منثور سے مقطوع سند روایت نقل ہے۔ 

عمادالاسلام میں معارج النبوت کے حوالے سے ابو سعید کی روایت نقل ہے 

شافی اور عماد الاسلام دونوں نے کئی کئی روایات پیش کی اور دعوی کیا کہ یہ روایت کئی طریق سے منقول ہیں لیکن کوئی ایک بھی سند ابو سعید سے ہٹ کر پیش نا کرسکے۔ 

روضةالصفاد معارج نے بھی یہی ابو سعید والی سند ذکر کی ہے۔ 

تشئید المطاعن نے بھی وہی ابو سعید والی روایت نقل کی ہے۔ 

کفایة الموسوم الولایہ میں بھی فَدَک پرتفصیلی بحث کی گئی لیکن روایت وہی ابو سعید والی پیش کی گئی ہیں۔ 

کفایة الموسوم الولایہ میں ثعلنی کی روایت جو سدی ودیلمی سے نقل کی ہے لیکن اس صاحب نے ہبہ ِ فدک اور دعوے فَدَک کو خلط ملط کیا ہے اور کوی نئی سند ذکر نہیں کی۔ 

غایت المرام میں بھی بڑے زور شور سے روایت نقل کی لیکن صرف ثعلبی کی ہی ایک روایت کو نقل کیا ہے باقی گیارہ روایات شیعہ کی نقل کی ہیں۔ 

یہ تمام وہ کتابیں ہیں جو ہبہ ِ فدک میں سنہ 400 ہجری سے اب تک شیعہ کی طرف سے لکھی گئی اور بھی کتابیں ہیں اب جن روایات کو وہ سنیوں کی طرف منسوب کرتے ہیں ان کی اسنانید کو ملایا جائے تو کل

نو (9) روایات بنتی ہیں ان میں چار کی سند مکمل ذکر کی گئی ہیں جبکہ پانچ کی سندیں مکمل نہیں ہیں. چار کی سندیں مکمل ہیں۔

بعض ابو سعید خدری ؓ کی طرف منسوب کی ہیں۔ 

پانچ محذوف السندیں

شیعہ اِن کی نسبت سنیوں کی طرف کرتے ہیں

پہلی: پہلی سند جو کنزل الاعمال عماد الاسلام الحاکم وغیرہ میں ذکر ہے۔

ابراہیم ابن محمد ابن میمون۔علی ابن عابس ابن النجار۔

دوسری: دوسری سند جو عمادالاسلام، درمنثور اور طعن الرماح وغیرہ میں محذوف السند ذکر ہے۔

ابو یعلی ابن حاتم ابن مردوی ابو سعید۔ 

تیسری: تیسری سند جو روایت بحار الانوار میں سنی کتب کی نسبت ذکر ہے۔ 

مامون نے عبیداللہ ابن موسی سے فَدَک کا حال تحریراً دریافت کیا تو اُس نے اُس محذوف سند کو ذکر کیا۔

فضل ابن مرزوق عطیہ عوفی اور ابوسعید 

چوتھی: چوتھی سند وہ جس کی نسبت سنیوں کی طرف ہے محذوف السند۔

واقدی بشر ابن ولید بشرابن غیاث

صفحہ 3 از 19