مسئلہ باغ فدک اور اہلِ تشیع کے تضادات - ردِ رافضیت | دفاع…

مسئلہ باغ فدک اور اہلِ تشیع کے تضادات

  توقیر احمد

صفحہ 2 از 19

سیدہ نے فرمایا ابوبکر نے یہ تحریر مجھ کو لکھ کر دی ہے اُنہوں نے کہا مجھے دکھاؤ اُنہوں نے انکار کیا عمر نے سیدہ کے ہاتھ سے تحریر چھین لی اور اُس کو پڑھ کر تھوک سے مٹایا اور پھاڑ ڈالا اور کہا کہ اس علاقے پر تمہارے باپ نے فوج کشی نہیں کی تھی تم ہماری گردن میں رسی ڈال رہی ہو مہدی نے امام موسیٰ کاظم سے پوچھا؟

اِس علاقے کی حدود کیا ہیں؟؟ فرمایا کہ ایک کوہ احد دوسری عریش مصر ہے تیسری سیف البحر ہے اور چوتھی دومۃالجندل ہے اُس نے پوچھا یہ ہے کُل علاقہ؟؟

فرمایا ہاں اِس علاقے پر لڑائی نہیں ہوئی اس نے کہا کہ یہ تو بہت بڑا علاقہ ہے میں غور کروں گا۔

(اصولِ کافی جلد 1 بابِ مال فئے و انفال و تفسیر خمس) 

   من گھڑت اور جھوٹی روایات:  

اہل تشیع مذہب کی کتاب اصولِ کافی کی یہ روایات ، جس میں فَدَک کو سیدہ کا حق قرار دے کر ایک طویل جھوٹ اور افتراء پر مبنی داستان وضع کی گئی۔ یہ داستان لو آپ اپنے دام میں صیاد آگیا کی مِصداق ٹھہری اور یہ دجل اور افتراء کیسے بے حجاب ہوا۔ ملاحظہ فرمائیں۔ 

1) اِس روایت میں امیر المومنین سیدنا علیؓ ہیں۔ جب حضرت علیؓ گواہی کیلئے گئے تو واپس سیدہ فاطمہؓ کے ساتھ کیوں نہیں آئے۔ اور اگر اُن کے ساتھ تھے تو انہوں نے حضرت عمرؓ کے تحریر پھاڑنے کے عمل پر تنبیہہ کیوں نہیں کی۔ کہ عمرؓ آپ نے ایسا کیوں کیا۔ 

2) کچھ وقت کیلئے یہ تسلیم کر لیا جائے کہ حضرت علیؓ راہ میں سیدہ فاطمہؓ کے ساتھ نہیں تھے۔ تو کیا سیدہ فاطمہؓ نے حضرت علیؓ سے اِس کا تذکرہ نہیں کیا کہ وہ تحریر حضرت عمرؓ نے پھاڑ دی جو آپ کی گواہی میں لکھی گئی۔ 

3) دورِ نبوی میں مصر بازنطینی ریاست کا حِصّہ تھا جس کو سیدنا عمرو بن العاصؓ نے 20 ہجری میں سیدنا عمرؓ کے دور میں فتح کیا۔ تو فَدَک کا رقبہ وہاں تک کیسے پہنچا۔ 

4) دومتہ الجندل شام کے شہر دمشق کی سرحد پر واقع ہے۔ یہ مقام دورِ نبوی میں بازنطینی ریاست کا حِصّہ تھا۔ یہاں عرب مسیحی رہائش پذیر تھے۔ جب کہ فَدَک یہودیوں کی رہائشگاہ تھی۔ 

5) دورِ نبوی میں جغرافیائی لحاظ سے مصر، جبل احد، سیف البحر اور دومتہ الجندل کو نقشے میں دیکھا جائے تو اِس کا کُل رقبہ 10,000,000 مربع کلومیٹر (3,861,022 مربع میل) بنتا ہے۔ اِس کی کُل آبادی تقریباً 50,000,000 کے قریب بنتی ہے اور اِس کی کثافت 5/مربع کلومیٹر  (12.9 /مربع میل) کے قریب ہے۔ 

6) امام موسیٰ کاظم کی کوئی ملاقات بنو عباس کے خلیفہ محمد بن منصور (المعروف مہدی عباسی) سے ثابت نہیں۔ جب کہ تواتر کے ساتھ یہ بات ثابت ہے کہ ایک ہی بار مہدی عباسی نے مدینے سے بغداد بُلا کر امام موسیٰ کاظم کو قید سلاسِل کیا تھا۔ اور خلیفہ اُن سے شدید نفرت کرتا تھا۔

 محل وقوع میں تضاد:

اہل تشیع جغرافیہ دان و تاریخ دان نے باغِ فَدَک کی جو کیفیت اور محل وقوع بیان کیا ہے وہ مختلف ہے جبکہ محدثین کا بیان مختلف ہے ۔ جب باغِ فَدَک کے محل وقوع، اُس کی کیفیت، اُس کا ریاستی معاہدہ، آدھا باغ حضرت عمرؓ کے دور حکومت میں ریاست کے خزانے سے خریدنا ہی اِس کو یہ ثابت کرتا ہے کہ یہ ابتداء ہی سے ریاستی تحویل میں تھا اور جس طرح رسول اللہ صلی علیہ وسلم نے باغِ فَدَک میں تصرف کیا اسی پر خلفائے راشدین نے عمل کیا۔

جب تک اِن روایات کو ردّ کرکے متفق علیہ اور واضح محل وقوع سامنے نہیں آتا اُس وقت تک کوئی بھی دعوی قابلِ قبول نہیں ہے۔ عزیزِ مکرم محل وقوع کے بیان میں کتنا دجل وفریب اور تضاد ہے خود فیصلہ کریں۔

محل وقوع کے بیان سے ہی دعوی فَدَک جھوٹ ثابت ہوتا ہے۔ 

اب جس کے جی میں آئے وہی پائے روشنی

 ہم نے تو  دل جلا کے،  سرِ عام  رکھ دیا

فَدَک ہِبہ یا میراث 

ہِبہ زندگی چاہتا ہے جبکہ میراث موت۔

فَدَک کو ہِبہ ثابت کرنے میں اہل تشیع قرانی آیات کو بطورِ دلیل پیش کرتے ہیں اُن کے نزدیک جب سورہ اسراء کی اِن آیات کا نزول ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو باغِ فدک ہِبہ کیا۔ 

وَاخْفِضْ لَـهُمَا جَنَاحَ الـذُّلِّ مِنَ الرَّحْـمَةِ وَقُلْ رَّبِّ ارْحَـمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِىْ صَغِيْـرًا رَّبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَا فِىْ نُفُوْسِكُمْ ۚ اِنْ تَكُـوْنُـوْا صَالِحِيْنَ فَاِنَّهٝ كَانَ لِلْاَوَّابِيْنَ غَفُوْرًا وَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٝ وَالْمِسْكِيْنَ وَابْنَ السَّبِيْلِ وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِيْـرًا
(سورہ الاسراء آیت 26-24) 

ترجمہ: اور ان کے سامنے شفقت سے عاجزی کے ساتھ جھکے رہو اور کہو اے میرے رب جس طرح انہوں نے مجھے بچپن سے پالا ہے اسی طرح تو بھی ان پر رحم فرما۔ جو تمہارے دلوں میں ہے تمہارا رب خوب جانتا ہے، اگر تم نیک ہو گے تو وہ توبہ کرنے والوں کو بخشنے والا ہے اور رشتہ دار اور مسکین اور مسافر کو اس کا حق دے دو اور مال کو بے جا خرچ نہ کرو۔

سورہ اسراء کا تاریخِ نزول: 

اہل تشیع اور اہل سُنت مُفسرین کا اتفاق ہے کہ یہ سورت اور اِس کی تمام آیات مکی ہیں جیسے کہ سورہ کے نام سے ظاہر ہے کہ یہ سورہ واقعہ معراج کو بیان کرتی ہے اور واقعہ معراج نبوت کے دسویں سال پیش آیا جو کہ ہجرت سے تین سال پہلے کا عرصہ ہے۔ جب کہ باغِ فَدَک اور خیبر کا واقعہ محرم 7 ہجری مئی 628 عیسوی کو پیش آیا۔ 

(مغازی جلد 2 صفحہ 637)

(المغازی واقدی جلد 2 صفحہ 700)

(تاریخ ابنِ کثیر جلد 3) 

سوالات: 

ایک سوال تو یہ پیدا ہوا کہ جب ایک چیز کا نام و نشان نہیں تو ہِبہ کیسے ؟؟ 

دوسرا سوال یہ کہ فقہ جعفریہ میں کسی بھی چیز کو اپنی ملکیت میں لینے سے پہلے ہِبہ کیا جا سکتا ہے۔؟ 

کیوں نہ انہی کی تلوار سے انہیں قتل کریں۔

روایت:

محمد بن احمد بن یحیی نے موسی بن عمر سے روایت کیا انہوں نے عباس بن عامر سے روایت کیا انہوں نے ابان سے روایت کیا انہوں نے ابو بصیر سے روایت کیا انہوں نے ابو عبداللہ (امام جعفر صادق) سے روایت کیا

ایک تحفہ کبھی بھی تحفہ نہیں ہوتا جب تک کہ اُسے نہ ملے۔

صدقہ اس کے لئے جائز ہے۔

(الاستبصار جلد 4 صفحہ 107) 

اعتراض:

اہل تشیع یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اگرچہ سورہ اسراء مکی ہے لیکن یہ آیات مدنی ہیں۔

جواب:

اس آیات اور سورت کے مکی ہونے کی روایات خود شیعہ کتب میں موجود ہے۔

(الکافی کتاب الکفر والایمان طبع 4 جلد 3 صفحہ 52) 

ترکیبِ صرف و نحو: 

صفحہ 2 از 19