مسئلہ باغ فدک اور اہلِ تشیع کے تضادات - ردِ رافضیت | دفاع…

مسئلہ باغ فدک اور اہلِ تشیع کے تضادات

  توقیر احمد

صفحہ 19 از 19

پس جو اللہ کا ہے وہ رسول کا ہے جیسے چاہیے تصرف کرے اور اس کے بعد امام کا ہے 

(العیاشی جلد 2 صفحہ، 35-36-37)

(بحارالانوار جلد 20 صفحہ 53-54-55)

(البرھان جلد 2 صفحہ 61-62-63)

(الوسائل جلد 2 ابواب الانفال)

 (تفسیر القمی جلد 1 صفحہ 254-255) 

"هو لله وللرسول وبعده للقائم

مقامه يصرفه حيث يشاء من مصالح نفسه ومن يلزمه مؤنته ليس لأحد فيه شئ"

(التبیان جلد 5 صفحہ 83) 

"هي لله وللرسول، وبعده لمن قام مقامه، فيصرفه حيث شاء"

(البیان جلد 4 صفحہ 424) 

"وهي لله ولرسوله ولمن قام مقامه بعده"

(تفسیر الآصفی جلد 1 صفحہ 423) 

"وھو للأمام بعد الرسول"

(الکافی جلد 1 صفحہ 28 روایات باب الفئی الانفال) 

حضرت فاطمہؓ نے کس حق سے مال فئے والانفال یعنی مال وقف کا سوال کیا جب کہ ماقبل تمام روایات بتا رہی ہیں کہ مال وقف پر حق اللہ اور رسولؐ کا ہے اس کی تقسیم کا طریقہ کار خود اللہ نے بیان فرما دیا اور رسولؐ کے بعد اس پر تصرف امام یا قائم مقام کا ہے۔ 

کیا فاطمتہ الزہرہؓ رسول تھیں ؟؟ امام تھیں ؟؟ خلیفہ تھیں ؟ یا رسولؐ کی قائم مقام تھیں ؟؟ 

فَدَک کا حِصّہ اہل بیت کو ملنا  

روایت نمبر 1: 

ابوبکرؓ فَدَک کا غلہ وصول کرتے اور اہل بیت کو ان کی ضرورت کے مطابق دے دیتے۔ان کے بعد حضرت عمرؓ بھی فَدَک کواسی طرح تقسیم کیا کرتے تھے،اس کے بعد عثمانؓ بھی فَدَک اسی طرح تقسیم کیا کرتے تھے،اس کے بعد علیؓ بھی فَدَک کو اسی طرح تقسیم کیا کرتے تھے۔ 

(حجج النھج صفحہ 266) 

روایت نمبر 2: 

سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے مناسب ترین فیصلہ فرمایا کہ کسی کو مالکانہ حقوق دیے بغیر ان جائیدادوں کے متولی کی حیثیت سے ان کی آمدن اہل بیت پر خرچ کرنے کا سلسلہ جاری رکھا اسی میں اہل بیت و سادات کرام کی مصلحت بھی تھی کیونکہ چند افراد کو مالکانہ حقوق مل جاتے تو ممکن تھا چند پُشتوں بعد یہ ذریعہ آمدن ختم ہو جاتا اور بعد والے سادات کو اس سے حصہ نہ ملتا۔اِس جائیداد کے سرکاری سرپرستی میں محفوظ ہونے کا نتیجہ یہ نکلا کہ تقریباً دو صدیوں تک اہل بیت کی آل اولاد  کو اِن اموال سے حِصہ پہنچتا رہا اور وہ معاشی طور پر فارغ البال رہے۔ 

(سنن الکبریٰ للبیہقی حدیث 12734) 

نتیجہ: 

> اہل تشیع کا محل وقوع کا دعوی ان کی اپنی کتابوں سے متضاد ہے۔ 

> اہل تشیع کا ہِبہ کا دعوی جھوٹا، خود ساختہ اور خود اپنی روایات سے متضاد اور دجل پر مبنی ہے 

> اہل تشیع کا وراثت کا دعوی  بھی جھوٹ پر مبنی ہے کیونکہ وراثت ثابت ہونے کی صورت میں فرائض کی آیات سے تعرض پیش آتا ہے  

> اہل تشیع کا باغِ فَدَک کی ملکیت رسول اللہ ﷺ یا فاطمہؓ کے لیے جھوٹ ہے کیونکہ فَدَک کی نصف پیداوار سالانہ کا معاہدہ تھا جوکہ ریاستی تھا اہل تشیع نے صحابہؓ پر الزام ثابت کرنے کے لیے خود اپنے استدلالی اصولِ فقہی اور دوسرے ہر قسم کے اصول کو روند دیا لیکن دجل وفریب کے سوا کچھ ثابت نہیں کر سکے۔ 

ظالم جفا جو چاہے سو کر مجھ پہ تو ولے

پچھتاوے پھر تو آپ ہی ایسا نہ کر کہیں

 


صفحہ 19 از 19