مسئلہ باغ فدک اور اہلِ تشیع کے تضادات - ردِ رافضیت | دفاع…

مسئلہ باغ فدک اور اہلِ تشیع کے تضادات

  توقیر احمد

صفحہ 18 از 19

اس کی وجہ کیا ہے کہ پہلے انبیاء علیہم السلام کے لیے تو مالِ غنیمت حلال نہیں تھا۔ہمارے پیغمبر ﷺ کے لیے مال غنیمت حلال کیوں ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ پہلے انبیاء علیہم السلام کا دائرہ نبوت محدود تھا، ہمارے نبی ﷺ کا دائرہ نبوت غیر محدود ہے، پہلے نبیوں نے ایک بستی میں رہنا ہے، ایک قوم میں رہنا ہے، ایک گاؤں میں رہنا ہے اور ایک خاص وقت تک اس نبی کی نبوت ہے، ہمارے نبی ﷺ کی نبوت کا دائرہ محدود نہیں ہے بلکہ پوری دنیا میں حضور ﷺ کی نبوت ہے اور رسول اللہ ﷺ کی امت نے پوری دنیا میں جانا بھی ہے۔ 

اگر مال غنیمت حلال نہ ہو:

اب اگر یہاں سے چلیں اور دنیا کے کسی دوسرے کونے جا کر جہاد کریں اور مالِ غنیمت بھی ان کے لیے حلال نہ ہو تو پھر کھانے کی دو صورتیں ہیں:

1) کمائیں اور کھائیں

2) مرکز سے مال لائیں اور کھائیں 

میدان جہاد میں جاکر کمانا شروع کردیں تو یہ جہاد نہیں کر سکیں گے اور اگر مرکز سے مال لانا چاہیں تو دور ہونے کی وجہ سے مال لا بھی نہیں سکتے۔ تو یہ امت آگے کیسے بڑھے گی؟ اس کے لیے اللہ رب العزت نے ختم نبوت کی برکت سے اعزاز دیا ہے کہ تم بڑھتے چلے جاؤ، کمانا کافر نے ہے اورکھانا تم نے ہے۔

تمہیں کمانے کی ضرورت نہیں ہے، کافر کمائے گا اور تم کھاؤ گے اور یہ کھانا حلال بھی ہوگا اور طیب بھی ہوگا۔ 

مال کی تین اقسام:

میدان جنگ میں جو مال حاصل ہوتا ہے اس کی تین اقسام ہیں: 

1> مالِ غنیمت:

مالِ غنیمت کا معنی کیا ہے؟ میدان جنگ میں گئے اور کفار سے مقابلہ ہوا اور مقابلے کے بعد آپ کو جو مال ملا اسے مالِ غنیمت کہتے ہیں۔ 

2> مالِ فئے:

بغیر جنگ لڑے کافر خود کو آپ کے حوالے کردے، اس سے جو مال ملتا ہے، اسے مالِ فئے کہتے ہیں۔ تو جو جنگ کے ذریعے مال ملے وہ ”مال غنیمت اور“ بغیر جنگ لڑے ملے تو ”مال فئے“ ہے. 

3> انفال:

انفال عربی زبان کا لفظ ہے جو نفل کی جمع ہے، نفل کے لفظی معنی زائد، فضل، احسان اور اللہ کا کرم بھی ہے انفال کو محدثین اور مفسرین نے تھوڑا عام رکھا ہے۔

مالِ غنیمت اللہ اور رسول کا ہے:

﴿یَسۡـَٔلُوۡنَکَ عَنِ الۡاَنۡفَالِ قُلِ الۡاَنۡفَالُ لِلہِ وَ الرَّسُوۡلِ اللہ رب العزت فرماتے ہیں:﴿یَسۡـَٔلُوۡنَکَ عَنِ الۡاَنۡفَالِ﴾

اے میرے پیغمبر! یہ صحابہ آپ سے پوچھتے ہیں کہ مال غنیمت کا کیا کرنا ﴿قُلِ الۡاَنۡفَالُ لِلہِ وَ الرَّسُوۡلِ﴾

آپ فرمادیں یہ مال غنیمت اللہ کے حکم سے آپ کو ملا ہے اور اللہ کے حکم کے مطابق اور پیغمبر کے بتائے ہوئے طریقے سے تقسیم ہوگا، اس لیے تمہاری مرضی اور تمہاری رائے کو اس مال غنیمت کی تقسیم میں کوئی بھی دخل نہیں ہے۔ 

وَمَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَىٰ رَسُولِهِ مِنْهُمْ فَمَا أَوْجَفْتُمْ عَلَيْهِ مِنْ خَيْلٍ وَلَا رِكَابٍ وَلَٰكِنَّ اللَّهَ يُسَلِّطُ رُسُلَهُ عَلَىٰ مَنْ يَشَاءُ ۚ وَاللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ

ترجمہ: اور جو (مال) خدا نے اپنے پیغمبر کو ان لوگوں سے (بغیر لڑائی بھڑائی کے) دلوایا ہے اس میں تمہارا کچھ حق نہیں کیونکہ اس کے لئے نہ تم نے گھوڑے دوڑائے نہ اونٹ لیکن خدا اپنے پیغمبروں کو جن پر چاہتا ہے مسلط کردیتا ہے۔ اور خدا ہر چیز پر قادر ہے

(سورۃ الحشر آیت 6) 

مَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَىٰ رَسُولِهِ مِنْ أَهْلِ الْقُرَىٰ فَلِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ كَيْ لَا يَكُونَ دُولَةً بَيْنَ الْأَغْنِيَاءِ مِنْكُمْ  وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا  وَاتَّقُوا اللَّهَ ۖ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ  

ترجمہ: جو مال خدا نے اپنے پیغمبر کو دیہات والوں سے دلوایا ہے وہ خدا کے اور پیغمبر کے اور (پیغمبر کے) قرابت والوں کے اور یتیموں کے اور حاجتمندوں کے اور مسافروں کے لئے ہے۔ تاکہ جو لوگ تم میں دولت مند ہیں ان ہی کے ہاتھوں میں نہ پھرتا رہے۔ سو جو چیز تم کو پیغمبر دیں وہ لے لو۔ اور جس سے منع کریں (اس سے) باز رہو۔ اور خدا سے ڈرتے رہو۔ بےشک خدا سخت عذاب دینے والا ہے۔

(سور الحشر آیت 7) 

انفال کی ملکیت کے حصہ دار: 

1 اللہ عزوجل

2 نبی ﷺ

3 نبی ﷺ کے قرابت دار

4 یتیم

5 حاجتمند

6 مسافر 

مال کی تقسیم کا طریقہ کار: 

جب میدان جنگ میں جائیں اور مال غنیمت ملے تو اس مال غنیمت کے پانچ حصے ہوتے ہیں۔ ان میں ایک حصہ جسے ”خمس“ کہتے ہیں یہ تو بیت المال میں جمع ہوتا ہے اور چار حصے ان مجاہدین کے درمیان تقسیم ہوتے ہیں جو جہاد میں شامل ہوتے ہیں، کبھی ان چار حصوں کو ”مال انفال“ کہتے ہیں اور کبھی میدان جنگ میں امیر لشکرکہتا ہے کہ جس شخص نے فلاں کافر

کو قتل کیا تو اس کافر کا مال اس قاتل کو دیں گے تو اس مال کو بھی نفل کہتے ہیں۔ اور کبھی جو پانچواں حصہ بیت المال میں جمع ہوا ہے اسی مال میں سے امیر المجاہدین کسی مجاہد کے خاص کارنامے کی وجہ سے اس مجاہد کو بطور اکرام کے دیتا ہے اس مال کو بھی ”مال انفال“ کہتے ہیں اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ جو مالِ خمس (پانچواں حصہ) بیت المال میں جمع ہوا ہے ایک شخص میدان جنگ میں تو نہیں گیا لیکن مجاہدین کی خدمت کرتا ہے، اس خدمت کرنے والے کو بھی امیر لشکر اس خمس میں سے کچھ مال دیتا ہے تو اس مال کو بھی “مال انفال“ کہتے ہیں۔

تعارضات: 

فَدَک مال فئے تھا یا ذاتی مال تھا ؟؟

جواب: باغِ فَدَک بھی دوسرے اموال کی طرح مالِ فئے ہی تھا اور فَدَک کے مال فئے ہونے میں کسی کا کوئی اختلاف نہیں۔  

مال فئے والانفال پر رسول اللہ ﷺ کے بعد تصرف کس کا ہوگا ؟؟ 

جواب: مالِ فئے کو انفال میں شمار کیا جاتا ہے اور انفال کے بارے میں سورہ انفال کی پہلی آیت میں صراحت کے ساتھ وارد ہوا ہے کہ انفال فقط اللہ اور اس کے رسولؐ کا ہے۔ انفال میں کسی غیر کا کسی قسم کا کوئی حق موجود نہیں۔ پس مالِ فئے چونکہ انفال میں سے ہے اس لیے یہ اموال رسول اللہؐ کے ساتھ مختص ہیں اور ان کی رحلت کے بعد ان کے برحق جانشین یاقائم مقام کے سپرد ہوگا۔

(شیح طوسی، محمد بن حسن، المبسوط فی فقہ الامامیۃ، جلد 2، صفحہ 64)   

(علامہ حلی، حسن بن یوسف، تذکرة الفقہاء، جلد 9 صفحہ 119) 

"فما كان لله فهو لرسوله يضعه حيث يشاء وهو للامام من بعد الرسول" 

صفحہ 18 از 19