مسئلہ باغ فدک اور اہلِ تشیع کے تضادات - ردِ رافضیت | دفاع…

مسئلہ باغ فدک اور اہلِ تشیع کے تضادات

  توقیر احمد

صفحہ 17 از 19

مورخین نے باغ فَدَک کی سالانہ در آمد 70،000 سے 120،000 طلائی سکہ لکھی ہے۔ 

(بحار الانوار ،جلد 29 صفحہ 118) 

روایت نمبر 5:

کہا جاتا ہے کہ جس وقت عمرؓ نے حجاز سے یہودیوں کو نکالنا چاہا تو فَدَک میں موجود نصف درختوں کے مقابلے میں یہودیوں کو 50 ہزار درہم ادا کیا۔  

(جوہری بصری، السقیفۃ و فدک، 14ق، صفحہ 98) 

اہل سنت روایت: 

خیبر کے یہودی زراعت اور باغبانی کے ماہر تھے اگرچہ اُن کی جلا وطنی طے ہو چکی تھی مگر انہوں نے اِس موقع پر تجویز پیش کی کہ انہیں زمین پر صرف کام کرنے کے لیے دیا جائے  پیداوار میں سے نصف ان کا ہوگا اور نصف مسلمانوں کا، حضور اکرم ﷺ نے غور کیا تو اس تجویز میں مصلحت محسوس کی؛ کیوں کہ مسلمانوں کی تعداد اتنی نہیں تھی کہ بیک وقت جہاد بھی کرتے اور زراعت بھی، آپ ﷺ نے مسلمانوں کو جہاد کے لیے فارغ رکھنے کے خیال سے اس تجویز کو منظور فرمالیا مگر یہ واضح فرما دیا کہ جب ہم چاہیں گے یہ معاملہ ختم کردیں گے آپ ﷺ نے خیبر کی پیداوار سے حصہ وصول کرنے کی ذمہ داری عبداللہ بن رواحہؓ کو سونپ دی وہ جب بھی خیبر آتے اتنی دیانتداری اور انصاف سے پیداوار تقسیم کرتے کہ یہودی کہہ اٹھتے کہ "زمین و آسمان ایسے ہی عدل کی وجہ سے قائم ہیں" یہود حضرت عمر فاروقؓ کے دور تک یہیں آباد رہے مگر چونکہ حضور ﷺ کی یہ وصیت تھی کہ جزیرۃ العرب میں دو دین باقی نہ رہنے دیا جائے اور یہود و نصاریٰ کو یہاں سے نکال دیا جائے اس لئے حضرت عمر فاروقؓ نے اپنے دورِ خلافت میں خیبر اور گردونواح سے تمام یہودیوں کو جلاوطن کرکے شام بھیج دیا اور انہیں متبادل زمینیں فراہم کردیں۔ 

(صحیح بخاری حدیث 3169)

سیرۃ ابنِ ہشام جلد 2 صفحہ 338-337)

(طبقات ابنِ سعد جلد 2 صفحہ 201)

(التاریخ الاسلامی العام صفحہ 200)

(المعجم الکبیر الطبرانی جلد 2 صفحہ 108)

(فتوح البلدان علامہ بلاذری صفحہ 42)

(تاریخ الخمیس علامہ دیار بکری جلد 2 صفحہ 64)

(تاریخ کامل ابنِ اثیر جلد 2 صفحہ 85)

(روض الانف علامہ سُہیلی جلد 2 صفحہ 247) 

خلاصہ روایات: 

بستی فَدَک کا نام نوح علیہ السلام کی نسل فَدَک بن حام بن نوح کی وجہ سے فَدَک پڑا جو اِس علاقے کا پہلا آباد کار تھا۔

حضور ﷺ نے محیصہ ابن مسعودؓ کو اسلام کی دعوت دینے کیلئے اہل فَدَک کی طرف بھیجا، تو اہل فَدَک نے باہمی مشورے سے طے کیا کہ مسلمانوں نے خیبر فتح کرلیا ہے آخر ہم کب تک فَدَک کی حفاظت کریں گے، جو کہ ناممکن ہے چنانچہ یوشع بن نون جو اُس وقت فَدَک کا مالک تھا رسول اللہ ﷺ کے سامنے معاہدے کیلئے پیش ہوا اس معاہدے کی بنیادی شق یہ تھی کہ فَدَک بدستور فَدَک کے رہائشیوں کے پاس رہے گا لیکن اس کی نصف سالانہ آمدنی مسلمان کو دی جائے گی۔

جیسا کہ ہم ماقبل اہل سنت اور اہل تشیع روایات سے بیان کر چکے ہیں کہ اہل فَدَک سالانہ 24،000 دینار ادا کیا کرتے تھے۔ اور اس رقم کی وصولی کیلئے حضرت عبداللہ بن رواحہؓ جایا کرتے تھے یہ ایک ہنگامی جنگی معاہدہ تھا جو کہ رسول اللہ ﷺ کے دور میں، اور پھر اس کے بعد حضرت ابوبکر صدیقؓ کے دور میں بھی اسی انداز میں قائم رہا۔ لیکن جب حضرت عمر فاروقؓ کا دورِ خلافت آیا تو رسول اللہ ﷺ کے اِس فرمان کے مطابق کہ جزیرۃ العرب سے غیر مسلموں کو نکال دیا جائے، تو حضرت عمر فاروقؓ نے اپنے دورِ خلافت میں باغِ فَدَک اور اُس سے ملحقہ جائیداد کو 50،000 درہم میں خریدا۔

جناب ان تمام روایات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ کوئی خاندانی، انفرادی یا ذاتی معاہدہ نہیں تھا، بلکہ یہ ایک ریاستی، ہنگامی جنگی معاہدہ تھا جس میں صرف اور صرف 24،000 دینار سالانہ یا فَدَک کی نصف آمدنی سالانہ کی ادائیگی مسلمانوں کو کی جاتی تھی۔ 

نتیجہ: 

نتیجے کے طور پر یہ بات سامنے آئی کہ باغِ فَدَک نہ کسی کی ذاتی ملکیت، نہ مکمل حاصل ہوا، نہ کسی کی ملکیت میں دیا گیا، اور نہ ہی وصالِ رسول ﷺ کے بعد کسی کو اس کا مالک بنایا جا سکتا تھا، بلکہ یہ تو ایک ریاستی معاہدہ تھا جیسا کہ نجران وغیرہ کے علاقوں کے معاہدے ہوئے۔

چنانچہ جس فرد نے باغِ فَدَک کی اصلی حیثیت کو سمجھا کہ رسول اللہ ﷺ کے دور میں اِس کی حیثیت کیا تھی، پھر حضرت ابوبکرؓ و عمرؓ کے دور میں کیا حیثیت تھی وہ اہل تشیع کے باغِ فَدَک کے بارے میں تمام مکر و فریب کو یقینی طور پر سمجھ جائے گا۔ رسول اللہ ﷺ کے دور میں ان معاہدوں میں حاصل ہونے والے اموال کے مصارف اللہ رب العزت نے قرانِ مجید میں خود بیان فرمائے ہیں تو اِن اموال کو اسی طریق پر تقسیم کیا جائے گا۔ اور یہ تمام اموال وقف کے حکم میں ہیں۔ 

دعوے جھوٹے، دلیلیں جھوٹی

وعدے جھوٹے، قسمیں جھوٹی

ہم    نے   جن   کو   سچا  جانا

نکلی  وہ  سب  باتیں   جھوٹی

 

"مالِ فئے انفال اور اس کی تقسیم" 

مالِ غنیمت کا حلال ہونا: 

رسول اکرم ﷺ فرمایا: فُضِّلْتُ عَلَى الْأَنْبِيَاءِ بِسِتٍّ."

اللہ رب العزت نے مجھے چھ چیزیں وہ عطا فرمائی ہیں جو گزشتہ انبیاء علیہم السلام کو عطا نہیں فرمائیں۔ ان میں سے ایک چیز "أُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ" ہے کہ اللہ نے میرے لیے میدان جنگ کے مال، مالِ غنیمت کو حلال قرار دیا ہے۔ 

(صحیح مسلم رقم :523) 

سابقہ شرائع اور مال غنیمت:

گزشتہ انبیاء علیہم السلام کے لیے مالِ غنیمت حلال نہیں تھا یعنی ان انبیاء علیہم السلام کے لیے مالِ غنیمت کا استعمال کرنا ٹھیک نہیں تھا، جب جہاد میں نکلتے تھے اور میدان جنگ میں کفار کا مال جمع ہوتا تو اس مال کو کھلے میدان میں رکھ دیا جاتا تھا، آسمان سے آگ آتی اور اس مالِ غنیمت کو کھا جاتی۔ اگر وہ مال غنیمت آسمانی آگ کھا جاتی تو یہ اس بات کی علامت تھی کہ اللہ تعالیٰ نے جہاد کو قبول فرمالیا اور اگر آگ اس مال کو نہ کھاتی تو اس بات کی علامت ہوتی تھی کہ یہ جہاد قبول نہیں ہوا۔

لیکن رسول اکرم ﷺ کا یہ فرمان ہے کہ اللہ نے مجھے یہ اعزار بخشا ہے کہ مالِ غنیمت کو میرے لیے حلال کر دیا گیا ہے۔ اب اُمت جہاد کرے اور میدان جنگ میں کفار سے مال چھینے، اب آگ کے ذریعے اسے جلانے کی ضرورت نہیں، یہ اسے اپنے حلال اور پاکیزہ رزق کے طور پر استعمال کرسکتے ہیں یعنی یہ ہمارےنبی ﷺ ایک اعجاز ہے۔ 

ہمارے نبی ﷺ کا دائرہ نبوت غیر محدود ہے:

صفحہ 17 از 19