مسئلہ باغ فدک اور اہلِ تشیع کے تضادات - ردِ رافضیت | دفاع…

مسئلہ باغ فدک اور اہلِ تشیع کے تضادات

  توقیر احمد

صفحہ 16 از 19

ترجمہ: اپنے رب کی دی ہوئی روزی کھاؤ اور اس کا شکر ادا کرو۔ 

3> اَمْ يَحْسُدُوْنَ النَّاسَ عَلٰى مَا اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِه

ترجمہ: یا یہ لوگوں سے حسد کرتے ہیں اس پر جو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے اُنہیں دے رکھا ہے۔ 

4> وَاللّٰهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلٰى بَعْضٍ فِي الرِّزْقِ

ترجمہ: اللہ تعالیٰ ہی نے تم میں سے ایک کو دوسرے پر رزق میں زیادتی دے رکھی ہے۔ 

5> فَكُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ حَلٰلًا طَيِّبًا١۪ وَّ اشْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ

ترجمہ: جو کچھ حلال اور پاکیزہ روزی اللہ نے تمہیں دے رکھی ہے اسے کھاؤ اور اللہ کی نعمت کاشکر ادا کرو۔ 

6> وَمَا بِكُمْ مِّنْ نِّعْمَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ 

ترجمہ: تمہارے پاس جتنی بھی نعمتیں ہیں سب اللہ ہی کی دی ہوئی ہیں۔ 

احادیث رسول اللہ ﷺ سے دلائل: 

رسول اللہ ﷺ کا ارشادِ عالی ہے:

إن هذا الصدقات إنما هي أوساخ الناس لا تَحل لمحمد ولا لآل محمد ﷺ

ترجمہ: صدقات لوگوں کے ہاتھوں کی میل کچیل ہے جو میرے لیے اور آلِ محمد ﷺ کے لیے حلال نہیں۔

(صحیح مسلم جلد 1 صفحہ 345)

 

اقوالِ فقہاء: 

1> شاہ ولی اللہ فرماتے ہیں: 

وفي هذا الحکم سر آخر و هو أنه ﷺ إن أخذها لنفسه وجوز أخذها لخاصته والذین یکون نفعهم بمنزلة نفعه کان مظنة أن یظن الظانون ویقول القائلون في حقه ما لیس بحق 

ترجمہ:رسول اللہ ﷺ اور آپ کی آل پر صدقہ کے حرام ہونے میں دوسرا راز یہ ہے کہ اگر رسول اللہ ﷺ اپنے مال کو اپنی ذات کے لیے یا اپنے خاص افراد کے لیے جن کا نفع آپ کا اپنا نفع ہے، کے لیےجائز قرار دیتے تو آپ کے خلاف بدگمانی کرنے والوں اور ناحق اعتراض کرنے والوں کو موقع ہاتھ آجاتا کہ یہ نبی دنیا کا کتنا حریص ہے کہ غربا و مساکین کا حق کھانے سے بھی دریغ نہیں کرتا۔

(حجۃ اللہ البالغہ جلد 2 صفحہ 46) 

2> والفرق بین الأنبیآء وغیرهم إن الله تعالىٰ صان الأنبیاء عن أن یورثوا الدنیا لئلا یکون ذلك شبهة لمن یقدح في نبوتهم بأنهم طلبوا الدنیا وورثوها لورثتهم 

ترجمہ: اگر انبیاءؑ کے ترکہ میں عام قانونِ میراث جاری رکھا جاتا تو دشمنانِ نبوت کو یہ اعتراض کرنے کا موقع ہاتھ آجاتا کہ اُنہوں نے اپنے اور اپنے وارثوں کے لیے مال و دولت جمع کرنے کے لیے نبوت کو آڑ لیا ہے تو اللہ تعالیٰ نے «لا نورث ما ترکنا صدقة» کا قانون جاری کروا کر اپنے انبیاءؑ کو اس جاہلانہ اعتراض سے ہمیشہ کے لیے بچالیا۔

(منہاج السنۃ جلد 2 صفحہ 157) 

نتیجہ: 

اِن آیات، احادیث اور  فقہاء کے قول اور اس مفہوم کی دوسری بیسیوں آیاتِ مقدسہ کے مطابق اس دنیا میں انسان کے پاس جو کچھ ثروت و دولت، مال اور زندگی کا دوسرا ساز و سامان ہے۔ اس کا حقیقی مالک صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہے، جو خالق کائنات ہے۔ انسان کے پاس یہ مال و متاع محض چند روز کے لیے بطورِ امانت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل و احسان سے رفع حاجات اور روز مرہ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے یہ چیزیں مستعار عطا فرما رکھی ہیں جن پر ہمارا کوئی ذاتی استحقاق نہیں ہے  

. وَ مَا اَسْـَٔلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِيَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ

ترجمہ: میں تمہیں جو تبلیغ کررہا ہوں، اس کا کوئی اجر تم سے نہیں مانگتا بلکہ اس کا اجر ربّ العالمین ہی کے ذمہ ہے جوقیامت کو وہ عطا فرمائے گا۔

۔ قُلْ لَّا اَسْـَٔلُكُمْ عَلَيْهِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبٰى

ترجمہ: آپ کہہ دیجئے میں اس (تبلیغ) پر تم سے کوئی بدلہ نہیں چاہتا مگر محبت رشتہ داری

انبیاءؑ اپنی اپنی اُمت کے روحانی باپ ہوتے ہیں۔ نبی کا یہ روحانی رشتہ ہرفرد بشر سے ہوتا ہے۔ ہر کالے گورے اور سرخ و سپید پر برابر کی شفقت ہوتی ہے۔ اس لیے نبی کا ترکہ تمام اُمت پر صدقہ ہوتا ہے جو بلا کسی امتیاز کے آقا و غلام، مرد و زن، بُرے بھلے، صالح و فاسق، قریب و بعید اور ہر خاص و عام تمام مسلمانوں کے مشترکہ مصالح پر صرف کیا جاتا ہے۔ پس اگر نبی کا ترکہ صرف اُس کے اُصول و فروع پر ہی تقسیم کیا جاتا تو اس کے اقربا کے ساتھ تعلق و شفقت کا خاص ظہور ہوتا جو اُمت کے دوسرے افراد سے بے رخی اور ان کی دل شکنی کامظہر ہوتا جو کہ شفقت عام کے سراسر منافی ہے۔ فافهم ولا تکن من القاصرین 

اور مذکورہ بالا احادیث میں فرمایا :«ماترکنا فهو صدقة» ان دونوں احادیثِ صحیحہ کو باہم ملانے سے ثابت ہوا کہ انبیاءؑ کا ترکہ اُن کے ورثا پر حرام ہے کیونکہ وہ صدقہ ہے۔

اگر انبیاءؑ کے ترکہ میں عام رائج قانونِ میراث جاری رکھا جاتا تو ممکن تھا کہ بشری تقاضوں اور دنیا کی حرص کی وجہ سے ان کے ورثا اُن کی موت کا انتظار کرنے لگے جاتے جو ان کے حق میں وَبال ثابت ہوتا۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے نبی کے ورثا کی بہتری کے پیش نظر ان کو ترکہ سے محروم کرکے دنیا کا عارضی نقصان برداشت کروا کر آخرت کے وبالِ عظیم اور ہمیشہ کی ہلاکت سے بچالیا۔ میرے علم کے مطابق یہ وہ حکمتیں ہیں جن کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ کے ترکہ میں قانونِ وراثت جاری نہیں فرمایا گیا۔

فَدَک کی حیثیت  

اہل تشیع روایات: 

روایت نمبر 1:

فَدَک اطراف خیبر کی ایک آباد و زرخیز و وسیع سرزمین تھی اور اس کے نخلستان خیبر سے زیادہ تھے۔ فَدَک میں چند یہودی زندگی بسر کرتے تھے کہ جو خیبریوں سے ارتباط میں تھے اور ان کا رئیس ایک یوشع بن نون نام کا آدمی تھا۔سب سے پہلا شخص جس نے اس زمین پر سکونت اختیار کی تھی فَدَک بن حام تھا لہذا یہ سرزمین اسی کے نام سے معروف ہے۔ 

(معجم البلدان ،جلد 4 ،صفحہ 238) 

روایت نمبر 2:

جب علی المرتضیؓ اُم ایمنؓ کو بطورِ گواہ پیش کرتے ہیں تو اُم ایمنؓ فرماتی ہیں کہ اہل فَدَک نے 24،000 دینار سالانہ ادائیگی کا معاہدہ کیا۔ 

(بحار الأنوار ج‏لد 29 صفحہ 117-116)

(سرّه في البحار جلد 17 صفحہ 378 حديث 46)

(إثبات الهداة جلد 2 صفحہ 116 حديث 515)

(مجمع البحرين جلد 1 صفحہ 333)

(مجمع البحرين جلد 5 صفحہ 127) 

روایت نمبر 3:

پیغمر اکرم ﷺ کے زمانے میں فَدَک کی سالانہ آمدنی کا 24 سے 70 ہزار دینار تک کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ 

(قطب راوندی، الخرائج و الجرائح، جلد 1 صفحہ 113)

(سفینۃ البحار، جلد 2 صفحہ 351)

(ناسخ التواریخ، حضرت فاطمہ زہراؑ صفحہ 121) 

صفحہ 16 از 19