مسئلہ باغ فدک اور اہلِ تشیع کے تضادات - ردِ رافضیت | دفاع…

مسئلہ باغ فدک اور اہلِ تشیع کے تضادات

  توقیر احمد

صفحہ 15 از 19

3> اس کے برعکس شیعہ کی معتبر ترین کتابوں میں حضرت فاطمہؓ کی زبانی جناب علی المرتضیؓ سے فَدَک کی وجہ سے سخت ناراضگی ثابت ہے، جس کا ازالہ حضرت علیؓ نے اپنی خلافت میں بھی نہ کیا۔ بلکہ فَدَک کو جناب رسول کریم علیہ الصلوۃ السلام اور خلفائے ثلاثہ (ابوبکرؓ و عمرؓ و عثمانؓ) والے طریقہ پر باقی رکھا اور سابقہ خلفائے راشدینؓ کے طرز عمل میں کسی تغیر و تبدیلی کو جائز نہ سمجھا۔

جناب علی المرتضیؓ جن پر حضرت فاطمہؓ کی ناراضگی شیعہ کے نزدیک یقینی ثابت ہے کہ ان کو حضرت فاطمہؓ نے خود ناراضگی کے سخت الفاظ فرمائے ان کو امام معصوم اور خلیفہ برحق سمجھنا۔ اور ابوبکر صدیقؓ جن پر حضرت فاطمہؓ کی ناراضگی کا کوئی یقینی ثبوت نہیں۔ ان کو ظالم، غاصب سمجھنا کس انصاف اور کس دیانت پر مبنی ہے۔ 

اہل تشیع روایات: 

اہل تشیع کی کتابوں میں حضرت فاطمہؓ کا حضرت ابوبکر صدیقؓ سے راضی ہونا ثابت ہے اور اسی موقف پر اہل سنت و اہل تشیع کتابوں میں روایات موجود ہیں۔ 

روایت نمبر 1:

قال إن لك ما لأبیك کان رسول الله ﷺ یأخذ من فدك فوتکم ویقسم الباقي و یحمل منه في سبیل الله ولك علىٰ الله أن أضع بها کما کان یصنع فرضیت بذلك وأخذت العهد علیه 

ترجمہ: حضرت ابوبکرؓ نے سیدہ فاطمہؓ سے کہاجو آپ کے والد محترم کا تھا وہ آپ کا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم فدک میں سے آپ کیلئے کچھ رکھ لیا کرتے تھے باقی اللہ سبحانہ وتعالی کے راستے میں تقسیم کر دیا کرتے تھے اللہ کی قسم !میں آپ کے ساتھ ویسا ہی کروں گاجیسا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کیا کرتے تھے یہ سُن کر فاطمہؓ خوش ہو گئیں اور اس بات کا آپ سے عہد لے لیا۔

(شرح نہج البلاغۃ جلد 5 صفحہ 7 از ابن میثم البحرانی مطبوعہ تہران) 

روایت نمبر 2:

وذلك إن لك ما لأبیك کان رسول الله ﷺ یأخذ من فدك قوتکم ویقسم الباقي ویحمل من في سبیل الله ولك علىٰ الله أن أصنع بها کما کانا یصنع فرضیت بذلك وأخذت العهد علیه به 

ترجمہ: اور یہ وہی ہے جو آپ کے والد نے کیا کہ خدا کے رسولؐ فَدَک کا بقدرِ ضرورت حصہ لے لیا کرتے تھے۔ اور باقی اللہ تعالیٰ کے راستے میں تقسیم کردیا کرتے تھے اور یہ آپ (رسول صلی الله عليہ وسلم) کیلئے اللہ کی طرف سے تھا، میں بھی وہی کروں گا اس معاملے میں، جیسے وہ کرتے تھے، پس وہ راضی ہوگئیں اور میں نے اس عہد کو اس طرح پورا کیا۔

(کتاب درہ تحفیہ شرح نہج البلاغۃ صفحہ 332-331)
(الشیعہ واہل البیت صفحہ 75) 

روایت نمبر 3: 

إن أبابکر لما رأی أن فاطمة انقبضت عنه وهجرته ولم تتکلم بعد ذلك في أمر فدك کَبُر ذلك عنده فأراد استرضاءها فأتاها فقال لها: صدقت یا ابنة رسو ل الله ﷺ فیما ادعیت ولکنی رأیت رسول الله ﷺ یقسمها فیعطی الفقراء والمساکین وابن السبیل بعد أن یعطی منها قوتکم والصانعین فقالت: افعل فیها کما کان أبي رسول الله ﷺ یفعل فیها. قال أشهد الله علي أن أفعل فیها ما کان یفعل أبوك فقالت: والله لتفعلن فقال والله لأفعلن فقالت اللهم اشهد اللهم اشهد فرضیت بذلك وأخذت العهد علیه وکان أبوبکر یعطیهم منها قوتهم فیعطی الفقرآء والمسکین
(آفتابِ ہدایت صفحہ251) 

اہل سنت روایت:

والله ما تركت الدار والمال والأهل والعشيرة إلا ابتغاء مرضاة الله ، ومرضاة رسوله ، ومرضاتكم أهل البيت . ثم ترضاها حتى رضيت . وهذا إسناد جيد قوي
(البدایہ والنہایۃ جلد 5 صفحہ 289 عمادالدین بن کثیر) 

ترجمہ:

اللہ کی قسم ! میں اپنا گھر بار مال اور اہل و عیال، قوم برادری، سب کچھ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول علیہ السلام کی رضاجوئی اور تم اہلبیت نبوت کی رضاجوئی کے لئے چھوڑ چھاڑ آیا تھا جس سے سیدہؓ کو خوش کیا تو سیدہؓ نہایت راضی خوش ہوگئیں اس روایت کی سند نہایت عمدہ، صحیح اور معتبر و مضبوط ہے۔ 

تعارضات: 

1> کیا حضرت ابوبکر صدیقؓ کا کامل الایمان ہونا ثابت نہیں ہوتا، بوجہ اِس کے حضرت فاطمہؓ کے سوال کرنے پر فرمایا کہ انبیاء کی وراثت نہیں ہوتی، انبیاء جو کچھ چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے۔ اور فَدَک اور دوسرے اموالِ وقف میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا طریق اختیار کرنے کا حکم فرمایا۔ 

2> حضرت فاطمہؓ کی ناراضگی کی وجہ کیا تھی،  فرمانِ رسولؐ کا سنایا جانا، یا فرمانِ رسولؐ کی وجہ سے مال کا نہ ملنا یا کہ فرمانِ رسولؐ کے بارے میں علم نہ ہونا؟؟ کیا حضرت فاطمہؓ کی ناراضگی بہر صورت رسول علیہ الصلوٰۃ والسلام کی طرف نہیں لوٹتی ؟؟ 

نتیجہ:

 یہی وہ نقطہ ہے جس پر مشہور بریلوی عالم ڈاکٹر اشرف جلالی صاحب دامت برکاتہم عالیہ پر ایف۔آئی۔آر درج کروائی گئی۔

جس کے ضمن میں اہل تشیع اور کچھ درباری مُلاؤں کی طرف سے یہ الزام لگایا گیا کہ اشرف جلالی نے حضرت فاطمہؓ کی شان میں گستاخی کی ہے۔ جو کہ معصوم ہیں۔

عِصمت کی جس تعریف پر اہل تشیع نے اجماع کیا ہے۔ مُلا باقر مجلسی نے عِصمت کی جو تعریف کی ہے اس پر اہل تشیع کا اجماع ہے۔ وہ کہتا ہے کہ 

"جان لو امامیہ کا اتفاق ہے کہ ائمہ صغیرہ اور کبیرہ گناہوں سے معصوم ہیں اُن سے اصلاً گناہوں کا صدور ممکن ہی نہیں ہے۔ وہ عمداً، نسیاناً، خطاً، تاویل یا تفسیر میں غلطی کرنا یا اللہ کو اُن کا بھلا دینا تو ایک طرف رہا" 

(بحار الانور جلد 25 صفحہ 211)
(مراۃ العقول جلد 4 صفحہ 352) 

یہ دعویٰ تو عِصمت کی اس تعریف کا کر بیٹھے لیکن اس کو کسی بھی صورت ثابت نہیں کرسکتے جیسا کہ انبیاء علیہم السلام کے نسیان اور خطا اجتہادی کے بہت سارے واقعات اہل تشیع نے اپنی تفاسیر میں ذکر کیے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ سہو، نسیان اور خطا اجتہادی کے بارے میں احادیث کی کتابوں میں ابواب باندھے ہیں اور فقہ کی کتابوں میں سہو اور نسیان کے باقاعدہ مسائل پیش کیے ہیں۔ 

چنانچہ اہل تشیع کی عِصمت کی اس تعریف کے مطابق اگر حضرت فاطمہؓ کا ناراض ہونا تسلیم کرتے ہیں تو ان کا معصوم ہونا ثابت نہیں ہوتا، اور اگر ناراض ہونا تسلیم نہیں کرتے تو ہمارا موقف ثابت. 

انبیاء کی وراثت مال نہ ہونے کی حکمت: 

قران مجید سے دلائل: 

1> اَللّٰهُ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَّشَآءُ  يَقْدِرُ

ترجمہ: اللہ جس کی روزی چاہتا ہے بڑھا دیتا ہے اور جس کی چاہتا ،گھٹا دیتا ہے۔ 

2> كُلُوْا مِنْ رِّزْقِ رَبِّكُمْ وَ اشْكُرُوْا لَهٗ

صفحہ 15 از 19