مسئلہ باغ فدک اور اہلِ تشیع کے تضادات - ردِ رافضیت | دفاع…

مسئلہ باغ فدک اور اہلِ تشیع کے تضادات

  توقیر احمد

صفحہ 14 از 19

تمام سنی و شیعہ مورخین، محدثین اور مفسرین اس بات پر متفق ہیں کہ جو عمل رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیاتِ مبارکہ میں کیا وہی عمل تمام خلفائے راشدینؓ نے اپنی حیات میں کیا۔ 

اہل تشیع روایات:

اہل تشیع کی ان تمام روایات میں خلفائے راشدینؓ کا فَدَک کے حِصّے کی تقسیم پر طرزِ عمل بیان کیا گیا ہے۔ 

روایت نمبر 1:

اموال و احوال خودرا از تو مضائقہ ندارم آنچہ خواہی تو سیدہ امت پدرخودی و شجرہ طیبہ از برائے فرزندان خود انکار فضل تو کسے نمے تو اندکرد و حکم تو نافذ است درمال من۔ امادر گفتہ پدر تو نمے تو انم کرد 

ترجمہ:

میں اپنا مال جائیداد دینے میں تم سے دریغ نہیں کرتا،جو کچھ مرضی چاہے لے لجیئے۔ آپ اپنے باپ کی اُمت کی سیدہ ؓ ہیں اور اپنے فرزندوں کے لئے پاکیزہ اصل اور شجرہ طیبہ ہیں۔ آپ کے فضائل کا کوئی انکار نہیں کرتا آپ کا حکم میرے ذات مرے مال میں بلا چوں و چرا جاری و منظور ہے۔ لیکن عام مسلمانوں کے مال میں آپ کے والد بزرگوار ﷺ کے حکم کی مخالفت ہرگز نہیں کرسکتا۔ 

(حق الیقین صفحہ 231) 

روایت نمبر 2

کان رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم یاخذ من فدک قوتکم ویقسم الباقی ویحمل فیہ فی سبیل اﷲ ولک علی اﷲ ان اصنع بہاکما کان یصنع فرضیت بذلک واخذت العہد علیہ بہ وکان یاخذ غلتھا فیدفع الیہم منھاما یکفیہمم ثم فعلت الخلفاء بعدہ ذلک 

(شرح نہج البلاغۃ، جلد 5 صفحہ 7 از ابن میثم البحرانی مطبوعہ تہران) 

ترجمہ:

تم سب سچے ہو۔ مگر اس کاتصفیہ یہ ہے کہ رسول اﷲ ﷺ فَدَک کی آمدنی سے تمہارے گزارے کے لئے رکھ لیتے تھے، اور باقی جو بچتا تھا اس کو تقسیم فرما دیتے تھے اور اﷲ کی راہ میں اس میں سے اٹھا لیتے تھے اور میں تمہارے لئے ﷲ کی قسم کھاتا ہوں کہ فَدَک میں وہی کروں گا جو رسول کرتے تھے تو اس پر فاطمہ راضی ہوگئیں اور فَدَک میں اسی پر عمل کرنے کو ابوبکر سے عہد لے لیا اور ابوبکر فَدَک کی پیداوار کرلیتے تھے اور جتنا اہل بیت کا خرچ ہوتا تھا ان کے پاس بھیج دیتے تھے، اور پھر ابوبکر کے بعد  اور خلفاء نے بھی اسی طرح کیا۔ 

روایت نمبر 3:

عمل أمير المؤمنين، وإنما أمنع أن يكون أمير المؤمنين عليه السلام قد سار علی طريقة الصديق، فإن التاريخ لم يصرح بشئ من ذلك، بل صرح بأن أميرالمؤمنين كان يرى فدك لأهل البيت، وقد سجل هذا الرأي بوضوح في رسالته إلى عثمان بن حنيف  كما سيأتي. فمن الممكن أنه كان يخص ورثة الزهراء وهم أولادها وزوجها بحاصلات فدك، وليس في هذا التخصيص ما يوجب إشاعة الخبر، لأن المال كان عنده وأهله الشرعيون هو وأولاده. كما يحتمل أنه كان ينفق غلاتها في مصالح المسلمين برضى منه ومن أولاده عليهم الصلاة والسلام ، بل لعلهم أوقفوها وجعلوها من الصدقات العامة. 

(شرح نہج البلاغۃ، لابن ابی الحدید جلد 16 صفحہ 208) 

متعلقہ ترجمہ:

اِس روایت میں حضرت علیؓ کے فَدَک کے استعمال کا طریقہ کار بیان کیا گیا ہے ابن ابی حدید نے بتایا کہ جس طریق پر ابوبکر صدیقؓ باغِ فَدَک کو استعمال کرتے تھے اسی طریق پر حضرت علیؓ نے باغ فَدَک کو استعمال کیا ہے۔ 

روایت نمبر 4:

ابوبکرؓ باغِ فدک کے غلہ میں سے اتنا حصہ اہلِ بیت کو دے دیا کرتے تھے جو ان کی ضروریات کے لیے کافی ہوتا۔ باقی سب تقسیم کردیا کرتے تھے، آپ کے بعد عمرؓ بھی ایسا ہی کرتے، عثمانؓ بھی ایسا ہی کیا کرتے اور ان کے بعد علیؓ بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے۔ 

(شرح نہج البلاغۃ، لابنِ ابی الحدید جلد 4 صفحہ 44)
(شرح نہج البلاغۃ، لابنِ میثم  البحرانی جلد 5 صفحہ 107)
(الدرۃ النجفیۃ صفحہ 332)
(شرح نہج البلاغۃ، جلد 55 صفحہ 960 فارسی لعلی نقی مطبوعہ تہران) 

روایت نمبر 5:

زید بن علی بن حسین کہنے لگے: اللہ کی قسم اگر فیصلہ میرے پاس آتا تو میں بھی وہی فیصلہ کرتا جو ابوبکرؓ نے کیا ہے۔ 

(شرح نہج البلاغۃ، لابنِ ابی الحدید، جلد 4 صفحہ 82) 

روایت نمبر 6:

زین العابدین بن حسین بن علی فرماتے ہیں کہ اللہ کی قسم ! اگر فَدَک کی تقسیم کا مقدمہ میری طرف لوٹ کر آتا تو میں بھی اس کا وہی فیصلہ کرتا جو ابوبکر صدیقؓ نےفیصلہ کیا تھا۔ 

(شرح نہج البلاغۃ، لابن ابی الحدید جلد 4 صفحہ 113) 

خلاصہ روایات: 

باغِ فَدَک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم والا طریقہ کار حضرت ابوبکر صدیقؓ، حضرت عمرؓ، حضرت عثمانؓ نے اپنایا، اور پھر حضرت علیؓ اور حضرت حسنؓ کے خلیفہ بننے کے بعد یہی طریقہ کار اپنانے سے یہ بات تو ثابت ہوئی کہ فَدَک مال فئے تھا۔  

تضادات اہل تشیع:

1> حضرت علیؓ نے باغِ فَدَک کے مسئلے میں خلفائے ثلاثہ (ابوبکرؓ و عمرؓ و عثمانؓ) کا طریق کیوں اختیار کیا۔۔؟؟ 

2> حضرت حسنؓ نے خلفائے راشدینؓ کا طریق کیوں اختیار کیا..؟؟ 

3> کیا یہ معقول جواب ہے کہ اہل بیت جو چیز چھوڑ دیں وہ واپس نہیں لیتے۔۔؟؟ 

4> غصب باغِ فَدَک میں جو الزامات خلفائے ثلاثہؓ پر لگائے جاتے ہیں کیا انہیں الزامات کی زد میں حضرت علیؓ اور حضرت حسنؓ نہیں آتے۔۔؟؟ 

5> کیا اِن تمام الزامات کی زد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ کی ذاتِ مبارکہ نہیں آتی۔۔؟؟ 

ناراضگی حضرت فاطمہؓ  

اعتراض اہل تشیع: 

اہل سنت کی کتابوں میں کثرت سے حضرت فاطمہؓ کی ناراضگی کی روایات ہیں۔ 

جواب:

1> حضرت فاطمہؓ اور حضرت صدیقؓ کے متعلق کسی دوسرے شخص کا یہ خیال کہ باہم ناراض تھے۔ اگرچہ وہ شخص بالفرض معصوم بھی ہو۔ یقیناً اس وقت تک صحیح نہیں ہوسکتا جب تک حضرت فاطمہؓ خود بنفس نفیس اپنی زبان سے ناراضگی کا اظہار نہ فرمائیں۔ اور یہ بات قطعاً کسی معتبر کتاب اہل سنت سے ثابت نہیں ہوسکتی۔ 

2> صحیحین میں ناراضگی کی چودہ روایات درج ہیں جن میں چار میں ناراضگی کا لفظ ذکر ہے اور اِن چار روایات کی سب سندیں امام زہری پر جا کر جمع ہوتی ہے تو تواتر کیسا؟؟ اور لفظ قال سے راوی کی زیادتی ثابت ہو رہی ہے۔ جو کہ راوی کا گُمان تھا جبکہ دس روایات میں ناراضگی کا لفظ ذکر نہیں ہے  

صفحہ 14 از 19