مسئلہ باغ فدک اور اہلِ تشیع کے تضادات - ردِ رافضیت | دفاع…

مسئلہ باغ فدک اور اہلِ تشیع کے تضادات

  توقیر احمد

صفحہ 13 از 19

جہالت کی حد ہے جو لوگ عربی قواعد کو جانتے ہیں وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ جو ترجمہ اہل سنت نے کیا وہ درست ہے اور اہل تشیع ترجمہ کی وجہ سے عوام کو دھوکا دینا چاہتے ہیں وہ غلط ہے۔

مثال:  واللہ یدعوا الی دارالسلام 
 واللہ یدعوا الی دارالسلام 

ان دونوں عبارتوں میں لفظ احداً مفعول، محزوف اورعام یا نکرہ ہے۔ 

تو جو ترجمہ ہم نے کیا وہ درست اور اہل تشیع کا غلط ہے۔ 

2> کتاب اہل تشیع تنزیہ الانبیاء صفحہ 45 حدیث کے اِس حصے کا اہل تشیع کا کیا ہوا فارسی ترجمہ ملاحظہ کریں۔

البتہ میراث انبیاء درہم ودینار نبودہ بلکہ علوم واخلاق ومقامات وصفات مرضیہ ایشاں بودہ است

یہ اہل تشیع کی اپنی کتاب کا کیا ہوا ترجمہ ہے کاش کہ اعتراض کرنے والے جانتے کہ اہل تشیع نے بھی وہی ترجمہ کیا جو ہم نے کیا ہے۔

تو اعتراض ختم۔۔!!

پہلے اِس کا جواب دیں جو اہل تشیع علماء نے ترجمہ کیا ہے. 

اعتراض اہل تشیع:

اہل سنت لم یورثوا کو فعل مجہول پڑھتے ہیں جبکہ لم یورثو فعل معروف ہے۔ اِس صورت میں لم یورثو کا فاعل علماء ہونگے، علماء انبیاء کے علم کے وارث ہونگے اور اہل بیت مال کے وارث ہونگے۔ 

جواب:

اہل بیت اطہار ہر مرد و زن سے بڑھ کر کون عالم ہے اور آئمہ اہل بیت سے روایات موجود ہیں۔ 

روایت نمبر 1:

وفي الكافي عنه عليه السلام إنما نحن الذين يعلمون وعدونا الذين لا يعلمون وشيعتنا أولوا الألباب وعن الصادق عليه السلام لقد ذكرنا الله وشيعتنا وعدونا 
(الکافی کی روایت بحوالہ تفسیر صافی جلد 4 صفحہ 216) 

اِس آیت کے بارے میں امام باقر فرماتے ہیں جو جانتے ہیں وہ ہم ہیں اور جو نہیں جانتے وہ ہمارے دشمن۔ 

اِس کے ہم معنی اور بہت ساری روایات موجود ہیں۔ 

روایت نمبر 2:

لأمالي للصدوق

فِي خُطْبَةٍ خَطَبَهَا أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ ع بَعْدَ فَوْتِ النَّبِيِّ ص‏ وَ لَا كَنْزَ أَنْفَعُ مِنَ الْعِلْمِ. الأمالي للصدوق ن، عيون أخبار الرضا عليه السلام فِي كَلِمَاتِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ ع بِرِوَايَةِ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْحَسَنِيِ‏قِيمَةُ كُلِّ امْرِئٍ مَا يُحْسِنُهُ. 
(بحارالانوار جلد 1 صفحہ 165) 

روایت نمبر 3:

عَنْ عَلِيٍّ ع قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ص‏ لَا خَيْرَ فِي الْعَيْشِ إِلَّا لِرَجُلَيْنِ عَالِمٍ مُطَاعٍ أَوْ مُسْتَمِعٍ وَاعٍ. نَوَادِرُ الرَّاوَنْدِيِّ، بِإِسْنَادِهِ عَنْ مُوسَى بْنِ جَعْفَرٍ عَنْ آبَائِهِ ع عَنِ النَّبِيِّ ص قَالَ: لَا خَيْرَ فِي الْعَيْشِ إِلَّا لِمُسْتَمِعٍ وَاعٍ أَوْ عَالِمٍ نَاطِقٍ. وَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ص‏ أَرْبَعٌ يَلْزَمْنَ كُلَّ ذِي حِجًى وَ عَقْلٍ مِنْ أُمَّتِي قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا هُنَّ قَالَ اسْتِمَاعُ الْعِلْمِ وَ حِفْظُهُ وَ نَشْرُهُ عِنْدَ أَهْلِهِ وَ الْعَمَلُ بِهِ. الخصال مَاجِيلَوَيْهِ عَنْ عَمِّهِ عَنِ الْبَرْقِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عِدَّةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ يَرْفَعُونَهُ إِلَى أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع أَنَّهُ قَالَ:مَنْهُومَانِ لَا يَشْبَعَانِ مَنْهُومُ عِلْمٍ وَ مَنْهُومُ مَالٍ. بيان قال الجوهري النهمة بلوغ الهمة في الشي‏ء و قد نهم بكذا فهو منهوم أي مولع به وفِي الْحَدِيثِ‏ مَنْهُومَانِ لَا يَشْبَعَانِ مَنْهُومٌ بِالْمَالِ وَ مَنْهُومٌ بِالْعِلْمِ‏ 
(بحار الانوار ج‏لد 1 صفحہ 168) 

یہ تمام روایات مطلقاً اہل بیت کے علم کے بارے میں مذکور ہیں۔ تو اب یا تو آپ کی سوچ فاسد ہے، یا یہ روایات۔ 

اعتراض اہل تشیع:

یہ حدیث (لم یورثو) اِن قرانی آیات کے خلاف ہے. 

 يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ ۖ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ ۚ فَإِن كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ ۖ وَإِن كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ ۚ وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِن كَانَ لَهُ وَلَدٌ ۚ فَإِن لَّمْ يَكُن لَّهُ وَلَدٌ وَوَرِثَهُ أَبَوَاهُ فَلِأُمِّهِ الثُّلُثُ ۚ فَإِن كَانَ لَهُ إِخْوَةٌ فَلِأُمِّهِ السُّدُسُ ۚ مِن بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِي بِهَا أَوْ دَيْنٍ ۗ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ لَا تَدْرُونَ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ لَكُمْ نَفْعًا ۚ فَرِيضَةً مِّنَ اللَّهِ ۗ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا
(سورہ النساء آیت 11) 
وَلِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِيَ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ ۚ وَالَّذِينَ عَقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ فَآتُوهُمْ نَصِيبَهُمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدًا
(سورہ النساء آیت 33) 
لِّلرِّجَالِ نَصِيبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ وَلِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ أَوْ كَثُرَ ۚ نَصِيبًا مَّفْرُوضًا
(سورہ النساء آیت 7) 
وَوَرِثَ سُلَيْمَانُ دَاوُودَ وَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنطِقَ الطَّيْرِ وَأُوتِينَا مِن كُلِّ شَيْءٍ إِنَّ هَٰذَا لَهُوَ الْفَضْلُ الْمُبِينُ
(سورہ النمل آیت 16) 
 يَرِثُنِي وَيَرِثُ مِنْ آلِ يَعْقُوبَ  وَاجْعَلْهُ رَبِّ رَضِيًّا
(سورہ مریم آیت 6) 

جواب: 

1> پہلی تین آیات میں وراثت کا ذکر ہے لیکن مخاطب اُمت ہے نبیؑ نہیں اور کوئی اشارہ، کنایہ اور قرینہ بھی نہیں ہے۔

جبکہ آخری دو آیتوں میں انبیاءؑ کا ذکر ہے مالی وراثت کا ذکر نہیں اِن کی تفصیل استدلال اہل تشیع میں بیان کرچکے ہیں 

2> ما قبل بیان کی جانی والی الکافی، بخاری اور تائیدی روایات "لم یورثو" اِن آیات کی تفسیر کرتی ہیں کہ انبیاءؑ کی وراثت مال نہیں ہوتا اور یہ روایات قران کے مخالف نہیں بلکہ اہل تشیع کی کج عقل کے خلاف ہے۔

باغِ فَدَک میں خلفائے راشدینؓ کا طریق

جو عمل اور طریقہ جناب رسول پاک ﷺ نے اموالِ فئے فدک وغیرہ کے متعلق اپنے عہد مبارک اور حیات طیبہ میں مقرر اور جاری فرمایا تھا وہی تمام خلفائے راشدینؓ کی خلافت، حتیٰ کہ حضرت علیؓ اور حضرت حسنؓ کے دور تک اِس میں کسی قسم کا کوئی تغیر و تبدل واقع نہ ہوا۔

صفحہ 13 از 19