مسئلہ باغ فدک اور اہلِ تشیع کے تضادات - ردِ رافضیت | دفاع…

مسئلہ باغ فدک اور اہلِ تشیع کے تضادات

  توقیر احمد

صفحہ 12 از 19

تفسیر صافی میں جب وراثت داودؑ کے بارے امام جعفر صادق سے سوال کیا گیا تو انہوں نے بھی مُلک اور نبوت ہی وراثت فرمائی ہے 

(صافی جلد 4 صفحہ59-60)

الکافی کی ایک اور روایت پیش ہے:

قال ابو عبداللہ۔ان سلیمان ورث داود وان محمد ورث سلیمان۔
(الکافی جلد 1 صفحہ 53 طبع۔تہران)  

نتیجہ:

ان تمام روایات سے "ان الانبیاء لم یورثوا" کی بھی تصدیق ہوگئی کہ انبیاءؑ نہ مال کے وارث بناتے ہیں اور نہ ہی مال کے وارث بنتے ہیں 

تضادات: 

1> داودؑ کی دوسری اولادوں اور بیویوں کو وراثت سے کیسے محروم کردیا..؟؟  

2> کیا انبیاءؑ کی وراثت مال ثابت کرتے ہوئے دوسری فرائض سے تعارض پیش نہیں آتا۔.؟؟ 

3> کیا آپ کا یہ استدلال خود آپ کے آئمہ معصومین کی روایات کے خلاف نہیں جنہوں نے مُلک اور نبوت کو وراثت فرمایا ہے..؟؟  

4> الکافی کی روایت کے مطابق رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) سلیمانؑ کے کس چیز میں وارث ہوئے۔۔؟؟ 

دل کے پھپھولے جل اٹھے سینے کے داغ سے

اِس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے

استدلال اہلِ سنت:

جناب انبیاءؑ کی وراثت علوم نبوت ہوتی ہے نہ کہ مالِ دولت۔

علم و علماء کی فضیلت میں الکافی میں کثیر روایات ذکر ہوئی ہیں

ہم الکافی کی اِس روایت سے استدلال کرتے ہیں کہ انبیاءؑ نہ کسی کے مال کے وارث ہوتے ہیں اور نہ ہی کسی کو مال کا وارث بناتے ہیں. 

روایت:

محمد بن الحسن وعلي بن محمد، عن سهل بن زياد، ومحمد بن يحيى، عن أحمد بن محمد جميعا، عن جعفر بن محمد الأشعري، عن عبد الله بن ميمون القداح، وعلي بن إبراهيم، عن أبيه، عن حماد بن عيسى، عن القداح، عن أبي عبد الله عليه السلام قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله: من سلك طريقا يطلب فيه علما سلك الله به طريقا إلى الجنة وإن الملائكة لتضع أجنحتها لطالب العلم رضا به وإنه يستغفر لطالب العلم من في السماء ومن في الأرض حتى الحوت في البحر، وفضل العالم على العابد كفضل القمر على سائر النجوم ليلة البدر، وإن العلماء ورثة الأنبياء إن الأنبياء لم يورثوا دينارا ولا درهما ولكن ورثوا العلم فمن أخذ منه أخذ بحظ وافر.
(الکافی جلد 1 صفحہ 34) 

ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا. جو شخص علم کی طلب میں کسی راستے پر چلا، تو اللہ تعالیٰ اسے جنت کے راستے پر چلائے گا۔ بے شک فرشتے اپنے پروں کو بچھاتے ہیں اس شخص کیلئے جو اللہ کی رضا کیلئے علم حاصل کرتا ہے اور تمام مخلوقات جو آسمانوں میں اور جو زمین میں یہاں تک کے سمندر کی مچھلیاں استغفار طلب کرتی ہیں طالبعلم کیلئے، اور عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہے جیسے چودہویں کے چاند کی تمام ستاروں پر بے شک علمائے کرام انبیاء کے وارث ہیں اور بے شک نہیں بناتے انبیاء وارث کسی کو دینار یا درہم کا، بلکہ ان کی وراثت تو علم ہے۔ اور جو اس سے فائدہ اٹھاتا ہے اسے کافی حصہ ملتا ہے۔ 

تائیدی روایات اہل تشیع: 
روایت نمبر 1:

أبي عبد الله عليه السلام قال: إن العلماء ورثةالأنبياء وذاك أن الأنبياء لم يورثوا درهما ولا دينارا، وإنما أورثوا أحاديث من أحاديثهم، فمن أخذ بشئ منها فقد أخذ حظا وافرا، فانظروا علمكم هذا عمن تأخذونه؟ فإن فينا أهل البيت في كل خلف عدولا ينفون عنه تحريف الغالين، وانتحال المبطلين، وتأويل الجاهلين. 

یہ بھی اسی حدیث کی تائیدی ہے اور اس میں انما سے حصر ہے اور اہل زبان جانتے ہیں کہ انما اور لکن دونوں استدراک کے لیے ہوتے ہیں اور شک کو دور کرتے ہیں اور مابعد میں داخل ہونے والے شکوک وشبہات کو دور کرتے ہیں. 

روایت نمبر 2:

جعفر، عن أبيه: أن رسول الله صلى الله عليه وآله لم يورث دينارا ولا درهما، ولا عبدا ولا وليدة، ولا شاة ولا بعيرا، ولقد قبض رسول الله صلى الله عليه وآله وإن درعه مرهونة عند يهودي من يهود المدينة بعشرين صاعا من شعير، استسلفها نفقة  

ترجمہ: حضرت ابو جعفر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ بے شک رسول ﷺ نے کسی کو درھم و دینار یا غلام یا باندی یا بکری یا اونٹ کا وارث نہیں بنایا، بلاشبہ آنحضور  ﷺ کی روح اس حال میں قبض ہوئی جب کہ آپ کی زرہ مدینہ کے ایک یہودی کے پاس صاع جو کے عوض رہن تھی، آپ نے اس سے اپنے گھر والوں کے لئے بطور نفقہ یہ جو لئے تھے۔ 

(قرب الاسناد الحمیری القمی صفحہ 92-91)
(بحوالہ المجلسي في البحار جلد 16صفحہ 219) 

روایت نمبر 3:

عَنْ عَلِيٍّ عَنْ أَبِيهِ عَنِ الْقَدَّاحِ عَنِ الصَّادِقِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ آبَائِهِ ع قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ص‏ مَنْ سَلَكَ طَرِيقاً يَطْلُبُ فِيهِ عِلْماً سَلَكَ اللَّهُ بِهِ طَرِيقاً إِلَى الْجَنَّةِ وَ إِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَتَضَعُ أَجْنِحَتَهَا لِطَالِبِ الْعِلْمِ رِضًا بِهِ وَ إِنَّهُ لَيَسْتَغْفِرُ لِطَالِبِ الْعِلْمِ مَنْ فِي السَّمَاءِ وَ مَنْ فِي الْأَرْضِ حَتَّى الْحُوتُ فِي الْبَحْرِ وَ فَضْلُ الْعَالِمِ عَلَى الْعَابِدِ كَفَضْلِ الْقَمَرِ عَلَى سَائِرِ النُّجُومِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ وَ إِنَّ الْعُلَمَاءَ وَرَثَةُ الْأَنْبِيَاءِ إِنَّ الْأَنْبِيَاءَ لَمْ يُوَرِّثُوا دِينَاراً وَ لَا دِرْهَماً وَ لَكِنْ وَرَّثُوا الْعِلْمَ فَمَنْ أَخَذَ مِنْهُ أَخَذَ بِحَظٍّ وَافِرٍ.
(من لا یحضر الفقیہ جلد 2 صفحہ 346)
(بحار الأنوار ، ج‏لد 1، صفحہ 164)
(الکافی جلد 1 صفحہ 34) 

جناب اہل تشیع حضرات اپنی  اِس روایت پر درجنوں اعتراض کرتے ہیں  

اعتراض اہل تشیع:

یہاں سونا چاندی درھم دینار کا ذکر ہے زمین کا ذکر نہیں تو زمین میں وراثت جاری ہوگی۔

جواب:

1> آپ کا اعتراض اصول پر نہیں قیاسِ  باطل پر مبنی ہے کیونکہ لکن و انما حصر کے لیے ہیں۔

اور ما بعد میں پیدا ہونے والے شکوک کو دور کرتے ہیں اصولوں کے مطابق اِس جملے کی نحوی، صرفی و بلاغی ترکیب کریں۔

اور پھر ترجمہ کریں آپ کا اعتراض ہی نہیں بنے گا۔ 

2> استدلال اہل تشیع سے پہلے ہم اس مسئلے پر وضاحت کے ساتھ بیان کر چکے ہیں کہ اہل تشیع کے نزدیک غیر منقولہ جائیداد کی وراثت میں عورت کا حِصہ نہیں ہوتا۔ 

اعتراض اہل تشیع:

جناب آپ نے اِس کا ترجمہ غلط کیا ہے اس سے مراد ہے کہ علماء علم کے وارث اور اہل بیت مال کے وارث ہیں۔ 

جواب:

1> عبارت ان الانبیآء لم یورثوا درھما ودینارا…

صفحہ 12 از 19