مسئلہ باغ فدک اور اہلِ تشیع کے تضادات - ردِ رافضیت | دفاع…

مسئلہ باغ فدک اور اہلِ تشیع کے تضادات

  توقیر احمد

صفحہ 11 از 19

جس آیت سے اہلِ تشیع استدلال کرتے ہیں، اُس میں حضرت زکریاؑ اللہ تعالیٰ سے اپنے لئے وارث طلب کرتے ہیں اور اُن کے وارث حضرت یحییٰؑ ہوتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ زکریاؑ نے کن اوصاف کا ذکر کر کے اپنے لئے وارث طلب کیا۔ 

يَرِثُنِىْ وَيَرِثُ مِنْ اٰلِ يَعْقُوْبَ ۖ وَاجْعَلْـهُ رَبِّ رَضِيًّا
(سورہ مریم آیت 6) 

ترجمہ:

جو میرا اور یعقوبؑ کے خاندان کا بھی وارث ہو، اور میرے رب اسے پسندیدہ بنا۔

يَا يَحْيٰى خُذِ الْكِتَابَ بِقُوَّةٍ ۖ وَّاٰتَيْنَاهُ الْحُكْمَ صَبِيًّا
(سورہ مریم آیت 12)

ترجمہ:

اے یحیٰی کتاب کو مضبوطی سے پکڑ، اور ہم نے اسے بچپن ہی میں حکمت عطا کی۔

ثُمَّ اَوۡرَثۡنَا الۡکِتٰبَ الَّذِیۡنَ اصۡطَفَیۡنَا مِنۡ عِبَادِنَا
(سورہ فاطر آیت 32) 

ترجمہ:

پھر ہم نے اپنی کتاب کا ان کو وارث بنایا جنہیں ہم نے اپنے بندوں میں سے چن لیا۔ 

تضادات: 

1> یہاں قواعد کیسے بدل گئے کیا زکریاؑ کو مال کی زیادہ فکر تھی..؟؟

جب کہ سارے قرینے آپ کے استدلال کے خلاف ہیں۔۔؟؟ 

2> کیا زکریاؑ کو اللہ کے حکم کا علم نہیں تھا کہ رشتے دار بھی مال کے وارث ہوتے ہیں۔۔؟؟

جب کہ اللہ تعالیٰ نے رشتے داروں کو مالی وارث بنایا ہے۔ 

3> اہلِ تشیع کے استدلال کے مطابق تمام انبیاءؑ تو امت کی بھلائی کی فکر کریں اور حضرت زکریاؑ مال کی فکر کریں۔ 

4> کیا "مِنۡ وَّرَآءِیۡ" کا جو مفہوم آپ نے لیا ہے وہ قران کی دوسری آیات سے متصادم نہیں۔جو انبیاءؑ کی اُمت کی فکر میں بیان کی گئی ہیں..؟؟ 

5> فرائض کی دوسری آیات جن کا ماقبل ذکر کیا گیا ہے، کیا تمام قرینے علومِ نبوت پر دلالت نہیں کرتے..؟؟

اہل تشیع کا تیسرا استدلال: 

وَوَرِثَ سُلَيْمَانُ دَاوُوْدَ ۖ وَقَالَ يَآ اَيُّـهَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنْطِقَ الطَّيْـرِ وَاُوْتِيْنَا مِنْ كُلِّ شَىْءٍ ۖ اِنَّ هٰذَا لَـهُوَ الْفَضْلُ الْمُبِيْنُ
(سورہ النمل آیت 16) 

ترجمہ: اور سلیمان داؤد کا وارث ہوا، اور کہا اے لوگو ہمیں پرندوں کی بولی سکھائی گئی ہے اور ہمیں ہر قسم کے ساز و سامان دیے گئے ہیں، بے شک یہ صریح فضیلت ہے۔ 

استدلال اہل تشیع:

اِس آیت سے شیعہ حضرات نے انبیاءؑ کی وراثت مال ہونا ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔

کہ داودؑ کے وارث سلیمانؑ ہوئے ہیں۔ 

اعتراض اہل سنت:

جناب حضرت داودؑ کی سلیمانؑ کے علاوہ بھی اولادیں تھیں. 

اولادِ داودؑ:

(1) یہ داودؑ کے بیٹے ہیں جو حبرُون میں اُس سے پَیدا ہُوئے ۔پہلا امنون یزرعیلی اخِینُو عم کے بطن سے تھا. 

2) دوسرا دانی ایل کرمِلی ابِیجیل کے بطن سے تھا۔ 

3) تیسرا ابی سلوم جو جسُور کے بادشاہ تلمی کی بیٹی معکہ کا بَیٹا تھا۔ 

4) چَوتھا ادُونیاہ جو حجِیّت کا بَیٹا تھا۔ 

5) پانچواں سفطیاہ ابی طال کے بطن سے تھا. 

6) چھٹا اِترعام اُن کی بِیوی عِجلہ سے تھا۔

(کتاب سموئیل آیت 1:3) 

اِس کے علاوہ یروشلم میں پیدا ہونے والی داودؑ کی دیگر اولادیں تواریخ کی روشنی میں مندرجہ ذیل ہیں۔ 

1) سِمعا، سُوباب، ناتن اور سُلیمان۔ یہ چاروں عمّی ایل کی بیٹی بت سُوع کے بطن سے تھے۔  

2) اِبحار، الِیسمع، الِیفلط، نُجہ، نفج، یفِیعہ، الِیدع اور الِیفلط۔  یہ سب حرموں کے بطن سے تھے اور تمر اِن کی بہن تھی۔

(تواریخ اول باب سوم آیت ۔۔5۔9) 

حضرت داودؑ کی ننانوے (99) بیویاں تھیں اور بیس (20) کے قریب بیٹے بیٹیوں کا ذکر ملتا ہے

یہاں بھی اہل تشیع اپنی روایتی مکر و فریب کے ذریعے سے باطل تاویل اور استدلال کرتے ہوئے صرف سلیمانؑ کو وارث بنا کے دیگر بیٹے، بیٹیوں اور بیویوں کو محروم کررہے ہیں۔ 

اعتراض اہلِ تشیع:

اہلسنت  کی طرف سے لفظ وارث کو مجاز کے بجائے اصل معنی میں کیوں مراد نہیں لیاجاتا اور مجاز میں استعمال کی دلیل کیا ہے۔۔؟؟ 

پہلا جواب:

وَلَقَدْ اٰتَيْنَا دَاوُوْدَ وَسُلَيْمَانَ عِلْمًا ۖ وَقَالَا الْحَـمْدُ لِلّـٰهِ الَّـذِىْ فَضَّلَنَا عَلٰى كَثِيْـرٍ مِّنْ عِبَادِهِ الْمُؤْمِنِيْنَ (سورہ النمل 15) 

ترجمہ: اور ہم نے داؤد اور سلیمان کو علم دیا، اور کہنے لگے اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں بہت سے ایمان دار بندوں پر فضیلت دی۔ 

دوسرا جواب:

اسی آیت کی تفسیر میں اہل تشیع مفسرین نے لفظ "ورث" کو علم کی وراثت کے معنی میں لیا ہے نہ کہ مال کی وراثت کے معنی میں۔

روایت مندرجہ ذیل ہے۔ 

ولقد آتينا داود وسليمان علما طائفة من العلم أو علما اي علم وقالا الحمد لله فعلا شكرا له ما فعلا وقال الحمد لله الذي فضلنا على كثير من عباده المؤمنين يعم من لم يؤت علما أو مثل علمهما وفيه دليل على فضل العلم وشرف أهله حيث شكراه على العلم وجعلاه أساس الفضل ولم يعتبرا دونه وما أوتيا من الملك الذي لم يؤت غيرهما وتحريض للعالم على أن يحمد الله على ما اتاه من فضله وان يتواضع ويعتقد انه وان فضل على كثير فقد فضل عليه كثير
(تفسیر صافی جلد 4 صفحہ 59) 

تیسرا جواب:

وَوَرِثَ سُلَيْمَانُ دَاوُوْدَ وَقَالَ يَآ اَيُّـهَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنْطِقَ الطَّيْـرِ وَاُوْتِيْنَا مِنْ كُلِّ شَىْءٍ اِنَّ هٰذَا لَـهُوَ الْفَضْلُ الْمُبِيْنُ
(سورہ النمل 16) 

ترجمہ: اور سلیمان داؤد کا وارث ہوا، اور کہا اے لوگو ہمیں پرندوں کی بولی سکھائی گئی ہے اور ہمیں ہر قسم کے ساز و سامان دیئے گئے ہیں، بے شک یہ صریح فضیلت ہے۔ 

موقف اہلِ سنت:

سورہ النمل کی آیت 16 میں داودؑ کی وراثت کا جو ذکر ہوا ہے وہ مُلک اور نبوت تھی نہ کہ مال، جس کے وارث سلیمانؑ ہوئے۔ اور اہل تشیع کی مابعد روایات بھی اسی موقف پر دلالت کرتی ہیں کہ مُلک اور نبوت وراثت تھی نہ کہ مال۔

اہل تشیع روایات: 

وورث سليمان داود الملك والنبوة في الكافي عن الجواد عليه السلام۔۔۔۔
 في الجوامع عن الصادق عليه السلام يعني الملك والنبوۃ۔۔۔۔
 والقمي عنه عليه السلام أعطي سليمان بن داود مع علمه معرفة المنطق بكللسان ۔۔۔۔
 وفي المجمع عنه عن أبيه عليهما السلام قال أعطي سليمان بن داود ملك مشارق الأرض۔۔۔۔۔
 وفي البصائر عنه عليه السلام قال قال أمير المؤمنين عليه السلام لابن عباس ان الله علمنا منطق الطير۔
اِن اہل تشیع  تفاسیر و روایات میں موجود ہے کہ سلیمانؑ نبوت وعلوم نبوت اور مُلک کے وارث ہوئے ہیں
صفحہ 11 از 19