مسئلہ باغ فدک اور اہلِ تشیع کے تضادات - ردِ رافضیت | دفاع…

مسئلہ باغ فدک اور اہلِ تشیع کے تضادات

  توقیر احمد

صفحہ 10 از 19

اور اگر تم کو اس بات کا خوف ہو کہ یتیم لڑکیوں کے بارےانصاف نہ کرسکوگے تو ان کے سوا جو عورتیں تم کو پسند ہوں دو دو یا تین تین یا چار چار ان سے نکاح کرلو۔ اور اگر اس بات کا اندیشہ ہو کہ (سب عورتوں سے) یکساں سلوک نہ کرسکو گے تو ایک عورت (کافی ہے) یا لونڈی جس کے تم مالک ہو۔ اس سے تم بےانصافی سے بچ جاؤ گے.

اہل تشیع کے اعتراضات اور ان کے جوابات  

پہلا اعتراض: 

سورہ النساء کی وراثت والی آیات میں رسول اللہؑ مخاطب نہیں ہیں آپ کے پاس اِس کی دلیل کیا ہے؟؟ 

جواب: 

1> ہم ماقبل متن میں بیان کرچکے ہیں کہ انبیاء کو دنیاوی مال کا مورث ماننے میں فرائض کی دوسری آیات میں تعرض پیش آتا ہے۔  

2> متصل صحیح الاسناد شیعہ اور سنی کتابوں میں موجود روایات دال ہیں کہ انبیاء دنیاوی مال کے نہ وارث ہوتے ہیں اور نہ ہی کسی کو وارث بناتے ہیں اور یہی اِس آیت کی تفسیر ہے۔ اور یہی روایات میں بیان ہوا ہے۔

مختصراً ہم ایک ہی روایت پیش کرتے ہیں۔ 

روایت: 

أبي عبد الله عليه السلام قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله: من سلك طريقا يطلب فيه علما سلك الله به طريقا إلى الجنة وإن الملائكة لتضع أجنحتها لطالب العلم رضا به وإنه يستغفر لطالب العلم من في السماء ومن في الأرض حتى الحوت في البحر، وفضل العالم على العابد كفضل القمر على سائر النجوم ليلة البدر، وإن العلماء ورثة الأنبياء إن الأنبياء لم يورثوا دينارا ولا درهما ولكن ورثوا العلم فمن أخذ منه أخذ بحظ وافر. 

متعلقہ ترجمہ: 

بے شک علماء انبیاءؑ کے وارث ہیں بے شک انبیاءؑ نہیں بناتے وارث کسی کو درہم و دینار کا، بلکہ اُن کی وراثت تو علم ہے۔ 

(الکافی جلد 34 صفحہ 1)
(المجلسی فی البحار جلد 16 صفحہ 219)
(قرب الاسناد الحمیری القمی صفحہ 91-92)
(من لا یحضر الفقیہ جلد 2 صفحہ 346)
(بحار الانوار جلد 1 صفحہ 164) 

اور یہی ہم معنی روایات صحاح ستہ احادیث کی کتابوں میں ہیں۔ 

(بخاری حدیث نمبر 6728)
(مسلم حدیث نمبر 1761)
(سنن ابو داؤد حدیث نمبر 2976) 

دوسرا اعتراض:

جناب آپ بخاری کی روایت "لم یورثوا" جو کہ خبر واحد ہے  اُس سے تخصیص کیسے کرسکتے ہو؟؟  

جواب: 

1> یہ روایت بخاری میں ابوبکر صدیقؓ سے اور الکافی میں امام جعفر صادق ؒ علیہ سے منقول ہے جبکہ دیگر اسناد میں بھی موجود ہے تو آپ کس نظریے سے اِسے خبرِ واحد کہتے ہو؟؟ 

2> اہل تشیع کی کتاب تحریر احکام جلد 5 کے صفحہ 55 سے 80 تک (37) سینتیس موانع ارث ذکر ہیں اور اکثر کی تخصیص خبر واحد سے کی گئی ہے جیسے کہ 

کافر و مسلمان

غلام و آزاد

قاتل ومقتول

لعان والی کا بیٹا 

تو اِن پر اعتراض کیوں نہیں؟؟  

تضادات اہل تشیع  

ہم اہل تشیع کے تضاد بیانات کا ذکر کریں گے اور اُس کے ساتھ ہی چند ایسے سوالات پیش کریں گے۔ جس کا جواب اہل تشیع حضرات کے پاس یقیناً نہیں ہوگا۔ 

۔۔ ایک ہی آیت میں کبھی حضورؐ کی ذات کو شامل خطاب کرنا اور کبھی نہ کرنا ، کیا یہ عمل تضاد پر مبنی نہیں۔۔؟؟ 

۔۔ جب آپ حضرت فاطمہؓ کے لیے وراثت ثابت کرتے ہیں تو اس سے حضورؐ کی دوسری بیٹیوں کو کس نظریے اور دلیل سے محروم کرتے ہیں۔۔؟؟ 

۔۔ حضورؐ کی وراثت مال ثابت کرتے ہوئے اُمُّ المومنین رضی اللہ عنہما کو کس دلیل اور نظریے سے محروم کرتے ہیں۔۔؟؟ 

۔۔ جب آپ انبیاءؑ کی وراثت مال ثابت کرتے ہو تو آیاتِ فرائض کا کیا حکم ہے؟

کیا فرائض کی تمام آیات سے تعارض لازم نہیں آتا 

اہل تشیع کا دوسرا استدلال: 

وَاِنِّـىْ خِفْتُ الْمَوَالِىَ مِنْ وَّّرَآئِىْ وَكَانَتِ امْرَاَتِىْ عَاقِرًا فَهَبْ لِىْ مِنْ لَّـدُنْكَ وَلِيًّا۔ ۔يَرِثُنِىْ وَيَرِثُ مِنْ اٰلِ يَعْقُوْبَ ۖ وَاجْعَلْـهُ رَبِّ رَضِيًّا

(سورہ مریم آیت 6-5) 

ترجمہ:

اور بے شک میں اپنے بعد اپنے رشتہ داروں سے ڈرتا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے پس تو اپنے ہاں سے ایک وارث عطا کر. جو میرا اور یعقوب کے خاندان کا بھی وارث ہو، اور میرے رب اسے پسندیدہ بنا۔

استدلال اہلِ تشیع: 

اہل تشیع کہتے ہیں کہ اِس آیت سے مال کی وراثت مراد ہے۔

اِسی وجہ سے حضرت زکریاؑ کو اپنے رشتے داروں کی جانب سے یہ خوف لاحق تھا کہ وہ اُن کے بعد اُن کے مال کے وارث ہوجائیں گے۔ یہ خوف اپنے بعد کا تھا۔ 

اعتراض اہلِ سنت: 

آپ کس قرینے کے تحت یہ کہتے ہیں کہ انبیاءؑ کی وراثت مال ہے.۔؟؟ 

جواب اہل تشیع: 

"مِنۡ وَّرَآءِیۡ" یہ قرینہ ہے کہ حضرت زکریاؑ کو اپنے بعد یہ خوف تھا کہ اُن کے رشتہ دار اُن کے مال کے وارث ہوجائیں گے۔ 

اعتراض اہلِ سنت: 

جناب "مِنۡ وَّرَآءِیۡ" سے مراد مالی وراثت نہیں ہے اور اِس کا جواب بھی ہم قران مجید ہی سے پوچھتے ہیں کہ "مِنۡ وَّرَآءِیۡ" سے کیا مراد ہے؟؟ 

پہلا تعارض: 

 حضرت یعقوبؑ نے موت کے وقت اولاد سے پوچھا:

اِذۡ قَالَ لِبَنِیۡہِ مَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡۢ بَعۡدِی 

(سورہ البقرہ آیت 133) 

ترجمہ:

اُس نے اپنے بیٹوں سے کہا تم میرے بعد کس کی عبادت کرو گے؟؟ 

دوسرا تعارض: 

قران نے سورہ مریم میں متعدد انبیاءؑ کے ذکر کے بعد فرمایا:

فَخَلَفَ مِنْ بَعْدِهِـمْ خَلْفٌ اَضَاعُوا الصَّلَاةَ وَاتَّبَعُوا الشَّهَوَاتِ ۖ فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيًّا
(سورہ مریم آیت 59) 

ترجمہ:

پھر ان کی جگہ ایسے ناخلف آئے جنہوں نے نماز ضائع کی اور خواہشوں کے پیچھے پڑ گئے، پھر عنقریب گمراہی کی سزا پائیں گے

تیسرا تعارض: 

وَ مَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوۡلٌ ۚ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِہِ الرُّسُلُ ؕ اَفَا۠ئِنۡ مَّاتَ اَوۡ قُتِلَ انۡقَلَبۡتُمۡ عَلٰۤی اَعۡقَابِکُمۡ
(سورہ آل عمران آیت 144) 

ترجمہ:

اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو بس رسول ہی ہیں، ان سے پہلے اور بھی رسول گزرچکے ہیں، بھلا اگر یہ وفات پا جائیں یا قتل کر دیے جائیں تو کیا تم الٹے پاؤں پھر جاؤ گے؟ 

خلاصہ تعارضات: 

اِن قرانی آیات سے ایک بات سمجھ آئی کہ تمام انبیاءؑ نے اپنے بعد اپنی امت یا اپنی اولاد کی اللہ کی فرمانبرداری کے بارے میں سوچا ہے، نہ کہ اپنے مال کی وراثت کے بارے میں۔ تو جناب آپ کا استدلال باطل ہے انبیاءؑ کی وراثت پر "مِنۡ وَّرَآءِیۡ" کو قرینے کے طور پر پیش کرنا بھی باطل ہے۔ 

متعلقہ آیت کا سیاقِ کلام: 

صفحہ 10 از 19