بھنگ اور شراب
مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہہر چند شراب کی حرمت نصِ قرآن سے ثابت ہے اور لحمِ خنزیر و شراب حرمت میں برابر ہیں لیکن شیعہ حضرات کے بہت سے پیر فقیر شراب کے عادی ہوتے ہیں اور اس کو شیر مادر سمجھ کر استعمال کرتے ہیں مریدان خوش اعتقاد کہتے ہیں ہمارے مرشد جی کے پاس شراب کی بوتل لاؤ تو دودھ خالص: شَرَابًا طَهُوۡرًا
(سورۃ الانسان آیت 21)
بن جاتا ہے بہت سے وضعی شرابی پیر نذر و نیاز میں بھی شراب کی بوتل کی فرمائش کیا کرتے ہیں اور بھنگ تو ملنگانِ سیدنا علیؓ ان کا صبح و شام کا وظیفہ ہوتا ہے ادھر بھنگ رگڑتے ہیں اور ادہر بزرگانِ دین کو لعنت و تبراء کہ کرنامہ اعمال سیاہ کرتے ہیں کوئی منع کرے تو کہا کرتے ہیں کہ ان ملانوں کو کیا کہ بھنگ اور چرس کے نشہ میں کیسی معرفت کی باتیں سوجھتی ہیں اور عالمِ ملکوت کے اسرار ظاہر ہوتے ہیں۔ اس لیے ذیل میں چند مسائل شراب و بھنگ کے متعلق ہم شیعہ کی معتبر کتابوں سے نقل کرتے ہیں شاید کسی کو ہدایت ہو جائے۔
شیعہ کی معتبر کتاب فروعِ کافی جلد 2 جزء دوم میں صفحہ 172 سے صفحہ 177 تک شراب کی خباثتوں، شارب خمر کی برائیوں کا مفصل تذکرہ ہے چونکہ عربی احادیث ہی اس لیے ہم صرف شیعہ کی مستند تفسیر عمدۃ البیان سید عمار علی شیعی سے ایک عبارت لکھتے ہیں جو جامع و مانع ہے اور ان تمام احادیث کا نچوڑ ہے اور اُردو خوان اصحاب اس کو پڑھ کر مستفید ہو سکتے ہیں۔ وَهُوَ هذا:
سیدنا صادقؒ نے فرمایا کہ پینے والا شراب کا بیمار ہو تو اس کو پوچھنے نہ جاؤ اور اگر مر جائے تو اس کے جنازہ پر مت جاؤ اور اگر حاجت مند ہو تو اس کو زکوٰۃ مت دو اور اگر عورت کو واسطے نکاح کے چاہے تو نکاح اس سے مت کرو اور جو شخص کہ اپنی دختر کا نکاح کسی شرابی سے کرے تو اس نے گویا اپنی بیٹی کو دوزخ میں ڈالا ہے اور فرمایا رسول اللہﷺ نے کہ جو کوئی شرابی کو ایک لقمہ کھانے کو دیوے یا ایک گھونٹ پانی کا دیوے تو البتہ معین کرے گا خدا اوپر اس کے قبر میں سانپ اور بچھو کہ طول اس کے دندان کا ایک سو دس گز ہوگا اور پلایا جائے گا، قیامت کے روز دوزخیوں کے زخموں کا پانی اور جو کوئی سلام کرے اس پر تو لعنت کریں گے اس پر ستر ہزار فرشتے اور لعنت کی ہے خدا نے شراب پینے والے کو اور اس کے نچوڑنے والے کو اور اس کے پلانے والے کو اور اس کے اُٹھائے جانے والے کو اور جس کے پاس لے جائے اس کو اور تنبیہ الغافلین میں لکھا ہے کہ فرمایا رسول اللہﷺ نے کہ جو کوئی ایک لقمہ بھنگ کا کھائے ایسا ہے کہ گویا اس نے خانہ کعبہ کو ستر بار ڈھا دیا اور جو کوئی خانہ کعبہ کو ایک بار ڈھائے تو ایسا ہے گویا اس نے ستر پیغمبروں کو قتل کیا اور قرآن میں جو شجرِ ملعونہ ہے، مراد اس سے بھنگ کا درخت ہے۔
(تفسیر عمدة البيان، مطبوعہ یوسفی دہلی: جلد، 1 صفحہ، 328)
اب بھنگ اور شراب کی فضیلت آپ نے شیعہ کی مستند تفسیر سے سن لی ہے آپ غور کریں کہ کتنے بھنگی اور شرابی سیدنا علیؓ کے ملنگ اور پیر فقیر نکلتے ہیں جو شیعہ صاحبان کے قبلہ و کعبہ اور شیعہ مذہب کے رکنِ اعظم اور معتمد علیہ سمجھے جاتے ہیں پھر کیوں نہ کہا جائے کہ اس مذہب میں روحانیت مطلق نہیں ہے، ورنہ ان لوگوں کو ایسے محرمات کے علانیہ استعمال سے کچھ خوف ہو۔