Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

ثالثا خون

  علی محمد الصلابی

دونوں فریقوں کے مابین صلح میں یہ بات شامل تھی کہ تمام لوگوں کو امن حاصل ہو گا، کسی سے بدلہ نہیں لیا جائے گا۔ صحیح بخاری کی روایت ہے کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے وفد سے کہا: یہ امت خون میں لت پت ہے، چنانچہ وفد نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے لیے یہ ذمہ داری لی کہ جن لوگوں نے خونریزی کی ہے سب کو معاف کر دیا جائے گا۔

(صحیح البخاری: کتاب الصلح: جلد 2 صفحہ 963)

لیکن زہری سے مروی روایت میں ہے کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے قائد عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو جب اس بات کا پتہ چل گیا جو سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے چاہتے تھے، تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس پیغام بھیج کر امان طلب کر لی اور اپنے لیے ان مالوں کی شرط لگا لی جنھیں وہ پاچکے تھے، پھر رات میں نکل کر ان سے جاملے، اور قیس بن سعد رضی اللہ عنہما (جن کو انھوں نے اپنے بعد فوج کا ذمہ دار بنایا تھا) اور فوج نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے جنگ کرنے کا عہد کیا تاکہ و ہ شیعانِ علی رضی اللہ عنہ اور ان کے متبعین کے اموال اور خونوں کی حفاظت کی شرط کو قبول کر لیں۔

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 163، 164)

مستشرق ولہاؤزن نے اس بات کی کوشش کی ہے کہ یہ باطل تہمت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما پر لگا دے اور یہ ذکر کیا ہے کہ فوج کے قائد عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما تھے، اس سلسلے میں ولہاؤزن کی دلیل ہے کہ تاریخ طبری کے بعض مخطوط نسخوں میں وارد نام عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ہے، اور عبداللہ و عبید اللہ میں مخطوطات کے اختلاف کا تعلق ناسخ سے نہیں ہے، بلکہ ان راویوں سے ہے جن کا ارادہ تھا کہ یہ تہمت و عار عباسیوں کے جد اعلیٰ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما پر نہ لگے، اور عبید اللہ رضی اللہ عنہ کے بھائیوں نے ان کے عدمِ دفاع میں کوئی حرج محسوس نہیں کیا۔

(تاریخ الدولۃ العربیۃ: صفحہ 103-106)

حالاں کہ تاریخی حقیقت یہ ثابت کرتی ہے کہ فوج کے قائد خود سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما تھے، اور ان کے مقدمۃ الجیش کے قائد قیس بن سعد رضی اللہ عنہما تھے، اس سلسلے میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما یا عبید اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا ذکر کہیں بھی نہیں ملتا۔

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 159-160)

 سوائے ضعیف روایتوں کے جو دلیل نہیں بن سکتیں۔ ابوحنیفہ دینوری نے ’’الأخبار الطوال‘‘ (صفحہ 217)

اور ابن حجر نے ’’المطالب العالیۃ‘‘

(جلد 4 صفحہ 318، 329)،

اور ابن أعثم نے ’’الفتوح‘‘

(جلد 3 صفحہ 289)

میں ذکر کیا ہے کہ فوج کے قائد حسن بن علی اور قیس بن سعد رضی اللہ عنہم تھے۔ عبداللہ بن عباس اور عبید اللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کا کوئی ذکر نہیں ہے۔

(دراسۃ فی تاریخ الخلفاء الأمویین: صفحہ 66)

ولہاؤزن کی اس بات کی تائید کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فوج کے قائد تھے نہ کہ عبید اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور اس پر اس کی مذکورہ دلیل کی مخالفت وہ روایت کرتی ہے جسے زیاد بن عبداللہ بکائی نے عوانہ بن حکم سے نقل کیا ہے، جن پر عباسیوں کی طرفداری کی تہمت نہیں تھی، وہ کہتے ہیں کہ عبید اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی جانب سے یمن کے گورنر تھے، جب انھیں اپنی جانب بسر بن ابی ارطاۃ رضی اللہ عنہ کی لشکر کشی کا علم ہوا تو انھوں نے یمن میں اپنا نائب عبید اللہ بن عبدالمدائن حارثی کو بنا دیا اور خود کوفہ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس چلے گئے، ایسا 40ھ میں ہوا، اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بسر رضی اللہ عنہ کی فوج کے تعاقب کے لیے ایک فوج یمن کی جانب بھیج دی، اسی سال سیدنا علی رضی اللہ عنہ شہید کیے گئے اور ایسا کوئی اشارہ نہیں ملتا کہ عبید اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بھی فوج چھوڑ کر یمن کی جانب کوچ کر گئے تھے۔

(دراسۃ فی تاریخ الخلفاء الأمویین: صفحہ 66، تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 139، 140) 

فوج کے قائد عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، یا عبید اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما یا کوئی دوسرے رہے ہوں، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی فوج کے قائد کے ربط قائم کرنے اور ان سے امان طلب کرنے کے اسباب موجود نہیں تھے، بخاری کی روایت کے مطابق سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی فوج مضبوط اور طاقتور تھی، نقلاً و عقلاً سیدنا حسنؓ اور ان کے قائدین کے مابین روابط قائم رہتے تھے۔ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ ہی صاحبِ معاملہ اور اصل ذمہ دار تھے، ان کے اور وفدِ معاویہ رضی اللہ عنہ کے مابین گفت و شنید ہوئی تھی، انھوں نے بنوعباس اور بنوعبدالمطلب کے دوسرے خاندانوں اور اپنے تمام ساتھیوں کے جان و مال سے متعلق امان لے لی تھی اور سیدنا حسنؓ اپنے قائدین کو صلح اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں خلافت سے دستبرداری کی اطلاع دے چکے تھے، انھیں سیدنا معاویہؓ کی بیعت اور جماعت میں داخل ہونے کا حکم دے چکے تھے، قیس رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں نے جب محسوس کیا کہ وہ کسی واجب الاطاعت خلیفہ کے ساتھ نہیں رہے تو جنگ ترک کر کے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے بیعت کر لی اور جماعت میں داخل ہوگئے۔

(دراسۃ فی تاریخ الخلفاء الأمویین: صفحہ 67)

 لیکن زہری کی روایت میں سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے دونوں بیٹوں کو چھوڑ کر بلا ضرورت قیس رضی اللہ عنہ کی تعریف موجود ہے۔

(دراسۃ فی تاریخ الخلفاء الأمویین: صفحہ 67)

سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے سامنے یہ شرط رکھی تھی کہ وہ اہلِ مدینہ، اہلِ حجاز اور اہلِ عراق سے کسی چیز کامطالبہ نہیں کریں گے۔

(التبیین فی أنساب القرشیین: صفحہ 127)

تاریخ سے واقف شخص کو یہ پتہ ہے کہ اس وقت سے خون سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا مطالبہ ترک کر دیا گیا

(الخلفاء الراشدون للنجار: صفحہ 482)

 اور اس بات پر اتفاق ہو گیا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ہونے والی چیزوں میں سے کسی چیز کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا۔ یہ بڑی اہمیت کا حامل قاعدہ تھا، جو ماضی کی طرف مڑ کر دیکھنے سے روکتا اور ایسے نئے صفحہ کو کھولتا ہے جس کی پوری توجہ حاضر و مستقبل پر تھی۔

(الدور السیاسی للصفوۃ فی صدر الإسلام: صفحہ 341)

ایسا باہمی اتفاق وجود میں آیا جسے قانونی حیثیت حاصل تھی اور جس میں ہر بات پر عمل کرنا ضروری تھا، اس لیے کہ صلح کی بنیاد ان تمام معاملات کی عام معافی پر تھی جو فریقین کے مابین صلح سے پہلے وجود میں آئے تھے، اور بالفعل سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کسی سابقہ غلطی کی وجہ سے کسی کو سزا نہیں دی، اس طرح سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو اختیار ہونے کے باوجود ان کی مصالحت لوگوں کی تالیف قلب کے لیے احسان اور عفو پر مبنی تھی، یہی وہ عظیم کارنامہ تھا جسے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے انجام دے کر امت کے مابین نئے سرے سے ربط و اتحاد پیدا کر دیا، اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہد میں کافی حد تک امن و امان ہو گیا اور خونریزی بند ہو گئی، بہت سارے معاملات میں آپ کے اجتہادات ہیں جن کی تفصیل ان شاء اللہ اپنی جگہ پر آئے گی۔