شیعہ کی تکفیر کا موقف - فتاویٰ جات | دفاع اسلام

شیعہ کی تکفیر کا موقف


صفحہ 9 از 10
انہوں نے اس شیطانی ذریعے اور ملعون وسیلے کی وساطت سے کم عقلوں کو ورغلایا ،جو تمام مخلوق کی بہترین ہستیوں کو علی الاعلان دشنام درازی کا نشانہ بناتے ہیں ،شریعت کے خلاف اپنے دلوں میں بغض رکھتے ہیں اور لوگوں کو احکام شریعت سے بےزار کرتے ہیں اور ان کو غیر فعال کرتے ہیں ۔کبیرہ گناہوں میں اس سے بد ترین کوئی وسیلہ نہیں،یہ سب سے قبیح وسیلہ ہے ،کیونکہ اس میں اللہ ،اس کے رسول اور اس کی شریعت کے خلاف عناد چھپا ہوا ہے ۔یہ جس روش پر قائم ہے ،اس کے نتیجے میں یہ چار کبیرہ گناہوں کا ارتکاب کر رہے ہیں ،جن میں ہر ایک کھلم کھلا کفر ہے۔
1: اللہ کے ساتھ عناد
2: اللہ کے رسول کے ساتھ عناد 
3: شریعتِ مطہرہ کے ساتھ عناد اور اس کو غیر فعال بنانے کی کوشش
4: صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تکفیر رضوان اللہ علیہم اجمعین جن کی کتاب اللہ میں یہ صفت ذکر ہوئی ہے کہ وہ کفار پر بڑے سخت ہیں، کفار ان کو دیکھ کر غضبناک ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہے حالانکہ شریعت مطہرہ میں ثابت ہے کہ جس نے کسی مسلمان کو کافر کہا، وہ خود کافر ہے، جس طرح صحیحین میں سیدنا ابنِ عمرؓ کی حدیث ہے کہ آپﷺ نے فرمایا: جب آدمی اپنے بھائی سے کہتا ہے ،اے کافر تو دو باتوں میں سے ایک بات ضرور ہوگی یا تو وہ کافر ہو گا جس طرح اس نے کہا اور اگر نہیں تو پھر یہ کفر اس کہنے والے کی طرف لوٹ آئے گا۔
(صحيح البخاری، كتاب الأدب، باب من كفر أخاه من غير تأويل فهو كما قال: جلد، 7 صفحہ، 97 صحیح مسلم، کتاب الإيمان، باب بيان حال إيمان من قال لأخيه المسلم يا کافر جلد، 7 روح، 997 سنن أبی داؤد، كتاب السنة، باب زيادة الإيمان ونقصانه: جلد، 5 صفحہ: 64 رقم الحديث:378 سنن الترمذی: كتاب الإيمان، باب ما جاء فيمن رمى أخاه بكفر: جلد، 5 صفحہ، 22 رقم الحديث، 2637) موطأ الإمام مالك: كتاب الكلام، باب ما يكره من الكلام: صفحہ، 974 مسند أحمد: جلد، 2 صفحہ، 18، 44 23 الطيالسی: صفحہ: 253 رقم الحديث، 1842)
اس سے ثابت ہوا کہ ہر رافضی کسی ایک صحابی کو کافر کہنے کی وجہ سے خود کافر ہو جاتا ہے ،تو جو سب کو کافر قرار دے اور کم عقلوں کی عقلوں پر پردہ ڈالنے کے لیے محض چند ایک کو مستثنیٰ قرار دے اس کا کیا حال ہوگا۔
(الشوكانی نثر الجوهر على حديث أبی ذر: صفحہ، 15، 17 مخطوط)
سلطنتِ عثمانیہ کے علما و شیوخ:
زین العابدین بن یوسف الاسکوبی نے عثمانی سلطان محمد خان بن سلطان ابراہیم خاں کے عہد میں ایک رسالہ لکھا جس میں اس نے نقل کیا: سلطنتِ عثمانیہ کے تمام متاخر علماء نے ان کے کافر ہونے کا فتویٰ دیا ہے۔
(الاسکوبی الرد علی الشیعۃ: صفحہ، 5 ب)
ماوراء النہر کے علماء:
(اس سے مراد خراسان کے علاقے جیحون کی نہر کے پیچھے والے لوگ ہیں اس کی مشرقی طرف والے علاقوں کو بلاد الهباطلة کہتے ہیں اور اسلام میں ان کا نام ما وراء النهر رکھا گیا ہے۔ اس کی مغربی جانب تو خراسان اور خوارزم کا صوبہ ہے۔ 
(معجم البلدان: جلد، 5 صفحہ، 45 نہج السلامة: صفحہ، 20، 30 مخطوط)
تفسیر روح المعانی کے مؤلف علامہ آلوسی کہتے ہیں:
علمائے ماوراء النہر کی اکثریت اثنا عشریہ کے کافر ہونے کی قائل ہے، انہوں نے ان کے خون، اموال اور عورتیں حلال قرار دی ہیں، کیوں کہ وہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بالخصوص شیخین ابوبکرؓ و عمرؓ کو سبِ و شتم کرتے ہیں، جو آپﷺ کی آنکھ اور کان تھے، وہ صدیقؓ کی خلافت کا انکار کرتے ہیں، ام المؤمنین سیدہ عائشہؓ پر وہ بہتان لگاتے ہیں، جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو بَری قرار دیا ہے، وہ سیدنا علیؓ کو اولو العزم نبیوں کے سوا ان تمام پر ترجیح دیتے ہیں، بلکہ ان میں سے بعض ان کو ان پر بھی ترجیح دیتے ہیں اور یہ لوگ قرآن کریم کے کمی و زیادتی سے محفوظ رہنے کا بھی انکار کرتے ہیں۔ 
(نہج اسلامۃ: صفحہ، 29، 30 مخطوط)
یہ اس مسئلے کے متعلق بعض ائمہ مسلمین اور علمائے مسلمین کے فتوے ہیں، میں اسی قدر فتاویٰ پر اکتفاء کرتا ہوں۔ فقہ کی کتابوں میں ان کی تکفیر کے متعلق بے بہا اقوال موجود ہیں، جن کی طرف بڑی آسانی سے رجوع کیا جا سکتا ہے، اس لیے ان کو ذکر کرنے کی کو ضرورت نہیں۔ 
(مثلاً دیکھیں: العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاویٰ الحامدیۃ لابنِ عابدین اس میں مؤلف نے شیخ نوحی حنفی کا فتویٰ ذکر کیا ہے، جنہوں نے رافضہ کو متعدد وجوہ کی بنا پر کافر قرار دیا ہے یہ فتویٰ بہت طویل ہے دیکھیں: العقود الدریۃ، صفحہ: 92 اسی طرح مؤلف نے مفسرِ قرآن سیدنا ابو مسعود کا قول بھی ذکر کیا ہے اور رافضہ کی تکفیر اپنے علماء کا اجماع نقل کیا ہے المصدر السابق فتاویٰ بزازیہ لابنِ البزار المتوفی 827ھ میں ہے: کیسانیہ کی نظر یہ بدا کی وجہ سے تکفیر ضروری ہے اور رافضہ کی تکفیر عقیدہ رجعت کی وجہ سے لازمی ہے الفتاویٰ البزازیۃ المطبوعۃ علی ھامش الفتاویٰ الھندیہ: جلد، 7 صفحہ، 318 امام ابنِ نجیم حنفی کہتے ہیں کہ شیخین کو گالی دینا اور ان پر لعنت کرنا کفر ہے الأشباہ والنظائر: صفحہ:190 نیز دیکھیں:نواقض الروافض لمخدوم الشیرازی)
چند ضروری امور:
یہاں چند امور ملحوظ خاطر رہیں:
1: علمائے اسلام کا روافض پر یہ حکم اس وقت کا ہے جب ان کی کتابوں اور ان کے عقائد کا علی الاعلان اظہار اور اشاعت اس وسیع پیمانے پر نہیں تھا،جس طرح آج ہے ،اس لیے اس مقابلے کے صفحات پر اثناء عشریہ کے ایسے عقائد بھی ذکر ہوئے ہیں جنہیں علمائے اسلام باطنی فرقے قرامطہ کی طرف منسوب کرتے تھے، مثال کے طور پر قرآنِ مجید میں کمی اور تحریف کا نظریہ جو ان کی کتابوں میں مشہور تھا۔اسی طرح ان کے اکثر اعتقادی اور اصول دین کے مسائل بھی انہی کی طرف منسوب تھے ،پھر ان کے کچھ ایسے بھی عقائد تھے ،جو معروف نہیں تھے ،جیسے شیعی خمیر اور خاک کا عقیدہ وغیرہ ہے،اس کا یہ مطلب ہوا کہ ان علماء کا آج رافضہ پر حکم اس سے بھی زیادہ سخت ہوتا۔
صفحہ 9 از 10