شیعہ کی تکفیر کا موقف - فتاویٰ جات | دفاع اسلام

شیعہ کی تکفیر کا موقف


صفحہ 8 از 10
متواتر اور قطعی طور پر ثابت شدہ بات کا علم نا ہونے کا عذر غیر مقبول ہے، اس کی تاویل کرنا اور کسی معتبر دلیل کے بغیر اس کے معنیٰ کو حقیقی مفہوم سے پھیرنا غیر مفید ہے، مثلاً کوئی شخص اس بناء پر پانچ فرض نمازوں کا انکار کرتا ہے کہ اس کو ان کی فرضیت کا علم نہیں تو وہ اس لاعلمی اور جہالت کی بنا پر کافر ہوجاتا ہے، کیونکہ قرآنی نصوص اور احادیث رسولﷺ کے ذریعے ان کی فضیلت کے بارے میں حاصل ہونے والا علم قطعی ہے، جو بعض کو بدزبانی کے لیے مخصوص کرتا ہے اگر وہ ان میں سے جن کی فضیلت اور کمال تواتر کے ساتھ ثابت ہے جس طرح خلفاء اگر وہ ان کو گالی دینے کے حلال ہونے کا ان کے استحقاق ہونے کا عقیدہ رکھتا ہے تو وہ رسول اللّٰہﷺ سے قطعی طور پر ثابت ہونے والی بات کی تکذیب کی وجہ سے کافر ہوجاتا ہے کیونکہ آپﷺ کی تکذیب کرنے والا کافر ہے، اگر وہ ان کو گالی دیتا ہے لیکن ان کو گالی دینے کے جواز اور برحق ہونے کا عقیدہ نہیں رکھتا تو ایسا شخص فاسق ہے کیونکہ مسلمان کو گالی دینا فسق ہے۔
بعض علماء نے شیخین کو مطلق گالی دینے والے کو کافر کہا ہے اگر جس صحابی کو وہ گالی دیتا ہے وہ ان میں سے نہیں، جس کی فضیلت و کمال تواتر کے ساتھ نفل ہوا ہے، تو ظاہر یہی ہے کہ اس کو گالی دینے والا فاسق ہے، لیکن اگر وہ اس اعتبار سے گالی دے کہ وہ نبیﷺ کے صحابہ ہیں تو یہ کفر ہے۔ ان روافض کی اکثریت جو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں دشنام طرازی کرتے ہیں، یہ ان کو گالی حق یا جائز بلکہ واجب سمجھتے ہیں کہ یہ ان کی دین کا ایک اہم معاملہ ہے۔
(رسالة فی الرد علی الرافضة: صفحہ، 19، 18 بلکہ یہ لوگ گالیوں کی تکفیر کی حد تک تجاوز کر چکے ہیں، بلکہ یہ کہتے ہیں کہ جو سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ کے اسلام کا اعتقاد رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف دیکھیں گے کہ نہ اس سے کلام کریں گے اور ایسے شخص کے لیے دردناک عذاب ہے، اسی کتاب کا صفحہ، 773 دیکھیں دن بہ دن صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے متعلق ان کی طعن و تشنیع بڑھتی جاتی ہے حتیٰ کہ آج کل یہ غلو اپنی آخری حدوں کو چھو چکا ہے)
اس کے بعد کہتے ہیں: علماء سے جو کہ صحیح معقول ہے کہ اہلِ قبلہ کا کافر نہیں کہا جائے گا تو یہ قاعدہ اس پر صادق آتا ہے، کس کی بدعت کفریہ نہ ہو۔ یقیناً رسول اللہﷺ سے جو ثابت ہے بلا شبہ اس کی تکذیب کفر ہے اور اس جیسے معاملے میں جہالت کوئی عذر نہیں۔
(رسالة فی الرد الرافضته: صفحہ، 20)
وہ ان کی کتابوں میں قرآنِ کریم میں کمی اور تبدیلی کے دعوت کا ذکر کرنے کے بعد کہتے ہیں: اس سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین حتیٰ کہ سیدنا علیؓ کی بھی تکفیر لازم آتی ہے، کیونکہ وہ اس عمل پر راضی تھے اور ان آیات کی تکذیب بھی ہوتی ہے جس میں مذکور ہے: 
لَّا یَاۡتِیۡہِ الۡبَاطِلُ مِنۡۢ بَیۡنِ یَدَیۡہِ وَ لَا مِنۡ خَلۡفِہٖ تَنۡزِیۡلٌ مِّنۡ حَکِیۡمٍ حَمِیۡدٍ۞
(سورة فصلت، حم السجد: آیت، 42)
ترجمہ: باطل اس کے آگے اور نا اس کے پیچھے سے لگ آتا ہے، ایک کمال حکمت والے تمام خوبیوں والے کی طرف سے اتاری ہوئی ہے۔
اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا الذِّکۡرَ وَ اِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوۡن۞
(سورة الحجر: آیت، 9) 
ترجمہ: بے شک ہم ہی نے یہ نصیحت نازل کی ہے اور بے شک ہم اس کی ضرور حفاظت کرنے والے ہیں۔
جس نے یہ عقیدہ رکھا کہ قرآن ساقط ہونے سے محفوظ نہیں اور جو اس سے ساقط ہے،وہ اس کا حصہ تھا تو وہ کافر ہے۔
(رسالة فی الرد على الرافضة: صفحہ، 14، 15)
شیخ مزید فرماتے ہیں: جس نے اللہ اور اپنے درمیان کسی کو وسیلہ بنایا وہ رافضہ کی طرح ہے، جو اپنے ائمہ کو وسیلہ بناتے ہیں جو اپنے درمیان اور اللہ کے درمیان وسیلے مقرر کرتا ہے، پھر انہیں پکارتا ہے، ان سے شفاعت طلب کرتا ہے اور پھر ان پر بھروسا کرتا ہے وہ بالاجماع کافر ہے۔
(رسالة نوافض الاسلام: صفحہ، 283 ضمن الجامع الفریدط: الجمیع)
وہ مزید کہتے ہیں:
جس نے ائمہ کو انبیاء پر فضیلت دی، وہ بالاجماع کافر ہے، یہ بات کئی اہلِ علم نے نقل کی ہے۔
(رسالة فی الرد على الرافضة: صفحہ، 29 نیز اسی کتاب کا صفحہ، 259 دیکھیں)
24: شاہ عبد العزیز دہلویؒ: 
(عبد العزیز بن أحمد الشاہ ولی اللہ بن عبد الرحیم العمری الفاروقی الملقب سراج الہند علامہ محب الدین خطیب فرماتے ہیں: ہند میں اپنے وقت میں بہت بڑے عالم تھے اور شیعہ کی کتب میں انہیں تجربہ حاصل تھا وہ 1239ھ کو فوت ہوئے۔ دیکھیں: الاعلام: جلد، 3 صفحہ، 138 مقدمہ مختصر التحفۃ الأثنیٰ عشربة لمحب الدین الخطیب،ص: یب)
وہ اثناء عشریہ کے معتبر مصادر و مراجع کی روشنی میں اس مذہب کا تفصیلی مطالعہ کرنے کے بعد کہتے ہیں: جو ان کے خبیث عقائد اور جن پر وہ مشتمل ہیں، ان تمام امور کی حقیقت تلاش کرتا ہے، وہ یہ جان لیتا ہے کہ ان کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں اور اس کے نزدیک ان کا کفر ثابت ہو جاتا ہے۔
(مختصر التحفۃ الأثنیٰ عشریہ: صفحہ، 300)
25: محمد بن علی شوکانی:
(امام محمد بن علی بن محمد عبداللہ الشوکانی یمن کے بہت بڑے عالم تھے ان کی کتابوں میں فتح القدیر اور نیل الاوطأر وغیرہ مفید تالیفات شامل ہیں یہ 1250ھ کو فوت ہوئے دیکھیں: فی ترجمۃ البدر الطالع: جلد، 2 صفحہ، 214، 225 )
علامہ شوکانیؒ ذکر کرتے ہیں کہ روافض کی دعوت کی بنیاد دین کے خلاف ریشہ دوانی اور مسلمانوں کی شریعت کی مخالفت پر مبنی ہے۔ علمائے اسلام اور دین کے سلاطین پر تعجب ہوتا ہے کی انہوں نے ان کو کس طرح اس انتہائی زیادہ قبیح، منکر اور برائی پر چھوڑ دیا ہے!یہ زلیل لوگ جب اس شریعت مطہرہ کی مخالفت اور تردید کرنا چاہتے ہیں تو اس دین کے حاملین صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی عزتوں کو نشانہ بناتے ہیں کہ جن کی راہ کے بغیر دین تک پہنچنے کے لیے ہمارے پاس کوئی راہ نہیں۔
صفحہ 8 از 10