شیعہ کی تکفیر کا موقف - فتاویٰ جات | دفاع اسلام

شیعہ کی تکفیر کا موقف


صفحہ 7 از 10
رافضہ کے بارے میں یہ ثابت ہے، جس طرح پہلے گزر چکا ہے کہ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ حضور اکرمﷺ نے سیدنا علیؓ کے متعلق وصیت کی تھی صحابہ کرام رضون اللہ علیہم اجمعین نے اس نص سے روگردانی کی اور اس کی وجہ سے مرتد ہو گئے۔ معاصر رافضہ اور ان کے بزرگ یہی کہتے ہیں۔
(اس کتاب کا صفحہ 766 1134 دیکھیں)
20: ابو حامد المقدسی:
(محمد بن خليل بن يوسف الرملی المقدسی، یہ بہت بڑے شافعی فقیہ ہیں۔ انہوں نے 888ھ کو وفات پائی۔ دیکھیں: السخاوی: الضوء اللامع: جلد، 7 صفحہ، 234 الشوكانی: البدر الطالع: جلد، 2 صفحہ، 169)
وہ شیعہ کے فرقوں اور ان کے عقائد کے بارے میں گفتگو کے بعد کہتے ہیں: ہر صاحبِ بصیرت اور سمجھ دار مسلمان پر یہ پوشیدہ نہیں کہ اس سے پہلے باب میں ہم نے اس رافضی فرقے کی مختلف اصناف کے ساتھ جن عقائد کا ذکر کیا ہے، وہ صریح کفر اور بدتر جہالت کے ساتھ عناد بھی ہے، ان سے واقف ہو جانے کے بعد کوئی شخص بھی ان کے کافر ہونے اور ان پر دینِ اسلام سے خارج ہونے کا حکم لگانے میں دیر نہیں لگائے گا۔
(رسالة فی الرد على الرافضة: صفحہ، 200)
21: ابو المحاسن يوسف الواسطی: 
(يوسف الجمال أبو المحاسن الواسطی، يہ نویں صدی ہجری کے عالم ہیں۔ دیکھیں: السخاوی الضوء اللامع: جلد، 10 صفحہ، 338، 339)
انہوں نے رافضہ کے جملہ کفریہ عقائد ذکر کیے اور ان کے ضمن میں کہا: یہ لوگ صحابہ کرام رضون اللہ علیہم اجمعین کی تکفیر کی وجہ سے کافر ہیں، جن کی عدالت، دیانت داری اور تزکیہ قرآن کریم میں ثابت ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے:
لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ۞
(سورة البقرة: آیت، 142)  
ترجمہ: تاکہ تم لوگوں پر شہادت دینے والے بنو۔ 
اللہ تعالیٰ کی ان کے بارے میں گواہی ہے کہ یہ کافر نہیں ہوئے تھے:
فَإِن يَكْفُرْ بِهَا هَؤُلَاءِ فَقَدْ وَكَلْنَا بِهَا قَوْمًا لَّيْسُوا بِهَا بِكَفِرِينَ۞
(سورة الأنعام: آیت، 89)
ترجمہ: پھر اگر یہ لوگ ان باتوں کا انکار کریں تو ہم نے ان کے لیے ایسے لوگ مقرر کیے ہیں، جو کسی صورت ان کا انکار کرنے والے نہیں۔
یہ لوگ قبرِ حسین کی زیارت کو حج کا بدل قرار دے کر حج سے مستغنی ہو جانے کی وجہ سے بھی کافر ہیں، ان کا نظریہ ہے کہ اس سے گناہ معاف ہو جاتے ہیں اور وہ اس کو حج اکبر کہتے ہیں۔ یہ کفار کے خلاف جہاد ترک کرنے کی وجہ سے بھی کافر ہیں، جن کے بارے میں شیعہ کا دعویٰ ہے کہ یہ صرف معصوم امام کی معیت میں جائز ہے، جو غائب ہے۔
(المناظرة بين أهل السنة والرافضة: صفحہ، 66 مخطوط)
یہ لوگ رسول اللہﷺ کی ادا کردہ ان متواتر سنتوں، جیسے: جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنا ، نفلی نمازوں، فرضی نماز سے پہلے اور بعد کی سنتوں اور ان کے علاوہ دیگر موکدہ سنتوں میں عیب جوئی کی وجہ سے بھی کافر ہیں۔
(المناظرة بين أهل السنة والرافضة: صفحہ، 67 مخطوط)
22: علی بن سلطان بن محمد قاری:
کہتے ہیں: جس نے کسی ایک صحابی کو بھی گالی دی وہ فاسق اور بالاجماع بدعتی ہے، لیکن اگر وہ یہ عقیدہ رکھے کہ ان کو گالی دینا جائز ہے، جس طرح بعض شیعہ کا مذہب ہے، یا ان کو گالی دینا موجبِ ثواب ہے یا وہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور اہلِ سُنّت کے کافر ہونے کا عقیدہ رکھتا ہے تو ایسا شخص بالاجماع کافر ہے۔
(شسم العوارض فی دوم الروافض: صفحہ، 6 أمخطوط) 
اس کے بعد انہوں نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی مدح سرائی میں قرآن و سُنت سے دلائل پیش کیے اور ان سے یہ نتیجہ کیا کہ روافض صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں اپنا مذہب رکھنے کی وجہ سے کافر ہیں۔
(دیکھیں: المصدر السابق: صفحہ، 252، 254) 
اس کے بعد انہوں نے رافضہ کے جملہ کفریہ عقائد کا تذکرہ کیا کہ وہ کتاب الله کی تبدیلی کے قائل ہیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے ان کے بعض اقوال بھی درج کیے ہیں۔
(المصدر السابق: صفحہ، 259)
23: محمد بن عبد الوہاب: 
(محمد بن عبد الوہاب بن سلیمان بن احمد التمیمی النجدی: بارہویں صدی عیسوی میں جزیرہ عرب میں اسلام کی تجدید کرنے والے امام تھے۔ ان کی توحید خالص اور ترک بدعات کی دعوت و بیداری کی پہلی چنگاری تھی۔ جس نے ان کا تذکرہ تمام عالمِ اسلام میں پھیلا دیا، حتیٰ کہ ہند، مصر، عراق اور شام وغیرہ میں اصلاح پسند افراد نے ان کا گہرا اثر لیا۔ یہ 1206ھ کو فوت ہوئے۔
(دیکھیں عبد العزیز بن باز: الشیخ محمد عبد الوہاب دعوته وسيرتهو مسعود عالم الندوی محمد بن عبد الوہاب مصلح مظلوم و مفتری علیہ وبھجته الأثری محمد بن عبد الوہاب داعیته التوحید التجدید فی العصر الحدیث وغیرھا نیز دیکھیں: أحمد أمین: زعما الاصلاح: صفحہ، 10 مجلته الزھراء، جلد، 3 صفحہ، 82، 98)
امام محمد بن عبد الوہاب نے اثناء عشریہ کے جملہ عقائد پر یہ حکم لگایا ہے کہ وہ کفر ہیں۔ انہوں نے اثناء عشریہ کا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر تبرا بازی کا عقیدہ ذکر کرنے اور الله تعالیٰ کے قرآن میں ان کی ثناء خوانی کا تذکرہ کرنے کے بعد کہا ہے:
جب آپ نے یہ جان لیا کہ ان کی فضیلت کے بارے میں قرآنی آیات بے شمار ہیں اور متواتر احادیث ان کے کمال پر نص ہیں تو جس نے ان کے فاسق ہونے یا ان کے ایک گروہ کے فاسق ہونے، ان کے مرتد ہونے یا ان کی اکثریت کے مرتد ہونے کا عقیدہ رکھا یا ان کو گالی دینے کے جواز کا عقیدہ رکھا یا اس کے اعتقاد کہ ساتھ ان کو گالی دی کہ وہ اس کا حق رکھتے ہیں تو اس نے اللہ اور اس کے رسولﷺ کے ساتھ کفر کیا۔
صفحہ 7 از 10