شیعہ کی تکفیر کا موقف - فتاویٰ جات | دفاع اسلام

شیعہ کی تکفیر کا موقف


صفحہ 6 از 10
اس نے اپنی کتاب میں اتفاق و اتحاد کا درس دیا، اختلاف اور فرقے بندی سے منع کیا، لیکن یہ تمام لوگوں سے زیادہ اس حکم سے دور ہیں، اس نے اپنی کتاب میں رسول کی فرمانبرداری، محبت اور اتباع کا حکم دیا، جس کی یہ مخالفت کرتے ہیں، اس نے اپنی کتاب میں رسول اللہﷺ کی ازواجِ مطہراتؓ کے حقوق بیان کیے، جن سے یہ لوگ بری ہیں، اس نے اپنی کتاب میں اپنی توحید، خالص عبادت اور شرک نہ کرنے کا حکم دیا، یہ اس کے مخالف ہیں، یہ مشرک ہیں، کیوں کہ یہ ان قبروں کی بہت زیادہ تعظیم کرتے ہیں، جن کو انھوں نے اللہ کے سوا بت بنایا ہوا ہے۔
اس نے اپنی کتاب میں اپنے اسما و صفات کا ذکر کیا، یہ ان کا انکار کرتے ہیں، اس نے اپنی کتاب میں ذکر کیا کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے، وہ ہر چیز کا خالق ہے، جو وہ چاہتا ہے، اس کو کوئی روک نہیں سکتا، نیکی کی استطاعت اللہ کی توفیق سے ہوتی ہے، لیکن وہ ان تمام امور کا انکار کرتے ہیں۔
اس کے بعد شیخ الاسلام فرماتے ہیں: جو کوئی اہلِ علم کی نسبت رکھنے والا یا کوئی دوسرا شخص یہ سمجھتا ہے کہ ان لوگوں کے ساتھ جنگ کرنا کسی جائز اور معقول تاویل کے ہوتے حاکم وقت کے خلاف بغاوت کرنے والی باغیوں کی جماعت کے خلاف جنگ کرنے کے مترادف ہے، تو ایسا انسان غلط ہے اور شریعت اسلام کے حقائق سے ناواقف ہے، کیوں کہ یہ لوگ بذاتِ خود رسول اللہﷺ کی شریعت اور آپﷺ کی سنتوں ہی سے خارج ہیں، جو حروری خوارج کے خروج سے بڑا شر ہے، ان کے پاس کوئی جائز اور معقول تاویل نہیں۔ 
(دیکھیں، الفتاویٰ: جلد، 28، صفحہ، 484، 485)
جائز تاویل وہ ہوتی ہے، جس کا کوئی جواب نہ ہو اور آدمی اس پر برقرار ہے، جس طرح اجتہاد کے مواد کے متعلق اختلاف کرنے والے علماء کی تاویل جب کہ ان لوگوں کی یہ تاویل کتاب و سنت اور اجماع کے ساتھ نہیں، ان کی تاویل یہود و نصاریٰ کی تاویل کی قسم ہے اور ان کی تاویل خواہش پرستوں اہلِ سنت کی تاویل سے بھی بدتر تاویل ہے۔ 
(دیکھیں، الفتاویٰ: جلد، 28، صفحہ، 486)
شیخ الاسلام ان نظریات کے حامل افراد کی تکفیر کرتے ہیں، لیکن ان کے نزدیک کسی مخصوص اور متعین شخص کی تکفیر اس پر حجت قائم کرنے اور اس تک حقیقت پہنچانے کے ساتھ مشروط ہے، اس لیے آپ نے ان رافضہ کے متعلق جن کو گرفتار کیا گیا، درج ذیل فتویٰ دیا۔
رافضہ کو مغلوب کرنے کے بعد ان کے متعلق شیخ الاسلام کا فتویٰ
آپؒ فرماتے ہیں: یہ سب کو معلوم ہے کہ شام کے ساحل پر ایک بہت بڑا پہاڑ تھا، جہاں ہزاروں رافضہ رہتے تھے، جو لوگوں کا خون بہاتے اور ان کا مال لوٹتے، انہوں نے ایک بھاری مقدار میں لوگوں کو قتل کیا اور ان کے اموال لوٹے، جب غازان (اسی کتاب کا صفحہ 1242 دیکھیں) کے عہد میں مسلمانوں کو شکست سے دو چار ہونا پڑا تو انہوں نے گھوڑے، اسلحہ، قیدی سب کو پکڑا اور قبرص کے عیسائی کافروں کو بیچ دیا، جو لشکر ان کے پاس سے گزرتا، اس کو پکڑ لیتے، یہ مسلمانوں کے لیے تمام دشمنوں سے زیادہ ضرر رساں تھے، ان کے ایک سردار نے تو عیسائیت کے جھنڈے تک لہرا دیے، انہوں نے اس سے پوچھا: مسلمان بہتر ہیں یا عیسائی؟ اس نے کہا: عیسائی، انہوں نے پوچھا: قیامت کے دن تم کس کے ساتھ اٹھائے جاؤ گے؟ اس نے کہا: عیسائیوں کے ساتھ، انہوں نے مسلمانوں کے بعض علاقے تک ان کو دے دیے، اس کے باوجود جب ایک مسلمان حاکم نے ان کے خلاف جنگ کرنے کے متعلق مشورہ کیا اور میں نے ان سے قتال کے متعلق ایک تفصیلی فتویٰ لکھا۔ 
(شاید وہ یہ ہے الفتاویٰ: جلد، 28 صفحہ، 398) 
ہم ان کے علاقے میں گئے تو میرے پاس ان کی ایک جماعت آئی، پھر میرے اور ان کے درمیان مناظرے اور مذاکرات ہوئے، جن کی تفصیل لکھنا طوالت کا باعث ہوگا، جب مسلمانوں نے ان کے علاقے فتح کر لیے اور مسلمان ان پر غالب آ گئے تو میں نے مسلمانوں کو انہیں قتل کرنے اور انہیں جنگی قیدی بنانے سے منع کر دیا اور انہیں مسلمانوں کے علاقوں میں منتشر کر دیا، تاکہ وہ اکٹھے نہ ہوسکیں۔ 
(منہاج السنۃ: جلد، 3 صفحہ، 39) 
دیکھیے یہ اپنے وقت کے امام اہلِ سنت کا فتویٰ ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ اہلِ سنت اس حق کی اتباع کرتے ہیں، جو ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے آیا ہے اور جس کو رسول اللہﷺ نے پیش کیا، وہ ہر ایک مخالف کو کافر نہیں کہتے، بلکہ وہ حق کو زیادہ جاننے والے اور مخلوق کے ساتھ زیادہ رحم کرنے والے ہیں، خواہش پرستوں کے بالکل برعکس جو خود ایک رائے کو ایجاد کر لیتے ہیں اور جو ان کی اس میں مخالفت کرے، اس کو کافر قرار دے دیتے ہیں۔ 
(المصدر السابق)
19: ابنِ کثیرؒ: 
(أبو الفداء إسماعيل بن عمر بن كثير الإمام المحدث المفتى المؤرخ جيسا كہ امام ذہبی نے کہا ہے امام شوکانی فرماتے ہیں کہ ان کی بڑی مفید تصانید ہیں، جن میں ایک تفسیر قرآن ہے، جو سب سے اچھی نہیں تو بہترین تفاسیر میں سے ہے، وہ 774ھ کو فوت ہوئے۔ (ابنِ حجر الدرر الكامنة: جلد، 1 ، صفحہ، 372، 374 الشوكانی: البدر الطالع: جلد، 1، صفحہ، 153)
امام ابنِ کثیرؒ نے وہ بعض صحیح احادیث نقل کیں، جو نص اور وصیتِ علی کے دعوے کی نفی کرتی ہیں، اس کے بعد ان الفاظ میں ان پر تبصرہ کیا: اگر معاملہ ایسے ہی ہوتا، جس طرح یہ دعویٰ کرتے ہیں، تو کوئی صحابی بھی اس کی تردید نہ کرتا، کیوں کہ وہ لوگ رسول اللہﷺ کی زندگی میں بھی اور آپﷺ کی وفات کے بعد بھی تمام لوگوں سے زیادہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کے اطاعت گزار تھے، لہٰذا وہ ایسا کبھی نہیں کر سکتے تھے کہ آپﷺ پر افتراء پردازی کرتے، سیدنا علیؓ کو محروم کر دیتے اور دوسرے کو ان پر مقدم کر دیتے، جس کو وصیت نے مقدم کیا تھا، اس کو مؤخر کر دیتے، حاشا و کلا وہ ایسا نہیں کر سکتے تھے جو صحابہ کرام رضون اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں یہ گمان رکھتا ہے، وہ ان تمام کو نافرمانی، رسول کی مخالفت اور آپ کے حکم اور وصیت کی روگردانی کی طرف منسوب کرتا ہے اور جو شخص اس حد تک پہنچ جائے، وہ دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے اور ائمہ اعلام کے اجماع کے ساتھ کافر ہو جاتا ہے، اس کا خون بہانا شراب بہانے سے زیادہ حلال ہے۔
(البداية والنہاية: جلد، 5 صفحہ، 252)
صفحہ 6 از 10