شیعہ کی تکفیر کا موقف - فتاویٰ جات | دفاع اسلام

شیعہ کی تکفیر کا موقف


صفحہ 5 از 10
اسی طرح جس نے یہ دعویٰ کیا کہ ائمہ کی طرف وحی ہوتی ہے، اگرچہ اس نے نبوت کا دعویٰ نہیں کیا۔
(یہ بھی روافض کا نظریہ ہے اسی کتاب کا صفحہ، 339 دیکھیں)
وہ مزید کہتے ہیں: اسی طرح جس نے قرآن کے ایک حرف کا بھی انکار کیا یا اس میں کسی چیز کو بدلا یا اس میں کسی چیز کا اضافہ کیا، جس طرح باطنیہ اور اسماعیلیہ نے کیا ہے تو اس کو بھی ہم کافر کہتے ہیں۔
(یہاں ایک انتہائی اہم امر ملحوظ خاطر رہے کہ بعض ائمہ دین تحریفِ قرآن کا نظریہ اسماعیلیہ کی طرف منسوب کرتے ہیں، جب کہ یہ اثناء عشریہ کا قول ہے اور اسماعیلیہ کا یہ نظریہ نہیں ہے، بلکہ وہ باطنی تاویل کی راہ پر چلتے ہیں)
16: سمعانی المتوفى 562ھ: 
(الإمام الحافظ المحدث ابو سعد عبد الكريم بن محمد بن منصور التميمی السمعانی: یہ كتاب الأنساب وغیرہ کے مؤلف ہیں، انہوں نے طلبِ علم میں کئی سفر کیے اور بہت سے علماء سے سماع کیا، حتیٰ کہ چار ہزار اساتذہ سے لکھا، حافظ ابنِ کثیرؒ فرماتے ہیں کہ امام ابنِ خلکان نے ذکر کیا ہے کہ ان کی متعدد تصانیف ہیں اور ان کی ایک کتاب ہے، جس میں انہوں نے ایک سو استاد سے ایک ہزار حدیث جمع کی ہے اور ان پر سنداً و متناً بحث کی ہے، یہ کتاب انتہائی مفید ہے، یہ 562ھ کو فوت ہوئے۔ وفيات الأعيان: جلد، 3، صفحہ، 209، البداية والنہاية: جلد، 12، صفحہ، 175)
فرماتے ہیں: امامیہ کی تکفیر پر امت کا اجماع ہے، کیوں کہ وہ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین گمراہ ہو گئے تھے، نیز وہ ان کے اجماع کا انکار کرتے ہیں اور ان کی طرف ایسی باتیں منسوب کرتے ہیں، جو ان کی شان کے لائق نہیں۔
(الأنساب: جلد، 6 صفحہ، 341)
17: رازی: 
(محمد بن عمر بن الحسين المعروف بالفخر الرازی یہ بہت بڑے مفسر، متکلم اور اصولی ہیں، ان کی تصانیف میں تفسیر کبیر اور محصول وغیرہ ہیں، ان کی طرف کچھ تشیع بھی منسوب ہے یہ 606ھ میں فوت ہوئے۔ (لسان المیزان: جلد، 4 صفحہ، 426 السيوطی: طبقات المفسرين: صفحہ، 115 عيون الأنباء: صفحہ، 414، 427)
رازی ذکر کرتے ہیں کہ ان کے اصحاب اشاعرہ تین وجوہ کی بناء پر رافضہ کو کافر کہتے ہیں:
1: انہوں نے مسلمانوں کے سادات اور سربر آوردہ شخصیات کو کافر قرار دیا اور جو کسی مسلمان کو کافر کہتا ہے، وہ خود کافر ہوتا ہے، کیوں کہ آپﷺ کا فرمان ہے: جس شخص نے اپنے بھائی سے کہا: او کافر تو ان دونوں میں سے کوئی ایک تو ضرور اس کا بوجھ اٹھائے گا (اس کی تخریج آگے آئے گی) لہٰذا ان کی تکفیر واجب ہے۔
2: انہوں نے ایسی جماعت کو کافر کہا، جن کی تعریف اور تعظیم رسول اللہﷺ نے واضح لفظوں میں کی ہے، لہٰذا ان کو کافر کہنا رسول اللہﷺ کو جھٹلانا ہے۔
3: امت کا اجماع ہے کہ جس نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے سادات اور معزز ترین افراد کو کافر کہا، وہ خود کافر ہے۔
(الرازی: نہایۃ العقول: صفحہ، 212 أپمخطوط)
18: ابنِ تیمیہؒ:
شیخ الاسلام فرماتے ہیں: جنہوں نے یہ دعویٰ کیا کہ قرآن سے آیات کم ہوئی ہیں یا انہیں چھپا لیا گیا ہے، یا یہ دعویٰ کیا کہ اس کی باطنی تاویلات ہیں، جو مشروع اعمال کو ساقط کر دیتی ہیں تو ان کے کفر میں کوئی شک نہیں۔ جس نے یہ دعویٰ کیا کہ چند اشخاص کے سوا تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین رسول اللہﷺ کے بعد مرتد ہو گئے، یا ان کی اکثریت فاسق ہوگئی، تو ایسے شخص کے کافر ہونے میں بھی کوئی شک نہیں، کیوں کہ وہ قرآن کریم کی اس آیت: رَّضِىَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُوۡا عَنۡهُ الخ۔
(سورۃ التوبہ: آیت، 100) 
اور ان کی تعریف کے بارے میں قرآنی آیات کو جھٹلانے والا ہے، بلکہ کون ہے جو ایسے شخص کے کافر ہونے میں شک کرے؟ اس کا کفر تو متعین ہو چکا ہے، کیوں کہ ان کے اس نظریے کا خلاصہ یہ ہے کہ کتاب و سنت کو نقل کرنے والے کافر یا فاسق ہیں اور یہ آیت: كُنۡتُمۡ خَيۡرَ اُمَّةٍ اُخۡرِجَتۡ لِلنَّاسِ الخ۔
(سورة آل عمران: آیت، 110) 
ترجمہ: تم سب سے بہتر امت چلے آئے ہو، جو لوگوں کے لیے نکالی گئی، جن میں بہترین قرنِ اول کے مسلمان تھا، ان کی اکثریت کافر یا فاسق تھی۔ شیعہ کے نظریے کا موضوع یہ ہے کہ یہ امت تمام امتوں سے بدتر ہے اور اس امت کے سابقہ پیروکار بد ترین لوگ تھے، العیاذ باللہ اس نظریے کے حامل شخص کا کافر ہونا دین کے ان امور میں داخل ہے، جن کا معلوم ہونا بداہتاً ہر کسی کو معلوم ہے۔
(الصارم المسلول: صفحہ، 586، 587)
شیخ الاسلام فرماتے ہیں: یہ عام بد عقیدہ لوگوں سے بدتر لوگ ہیں اور ان کے خلاف جنگ کرنا خوارج کے خلاف جنگ کرنے سے زیادہ اہم ہے۔
(مجموع فتاویٰ شیخ الاسلام: جلد، 28، صفحہ، 482)
انہوں نے رسول اللہﷺ کی پیش کردہ شریعت کے ساتھ بےشمار انداز سے کفر کیا، کبھی یہ آپﷺ سے ثابت شدہ احادیث کی تکذیب کرتے ہیں تو کبھی قرآن کریم کے معانی کی تکذیب کرتے ہیں، اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اپنی کتاب میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تعریف کی اور ان پر اپنی رضا مندی کا اظہار کیا، جس کی حقیقت کا یہ لوگ انکار کرتے ہیں، اس نے اپنی کتاب میں جمعے، جہاد اور اولی الامر کی فرمانبرداری کا حکم دیا، یہ اس سے خارج ہیں، اس نے اپنی کتاب میں مومنوں کے ساتھ محبت، موالات اور ان کے درمیان اصلاح کرنے کا حکم دیا، جس سے یہ لوگ خارج ہیں، اس نے اپنی کتاب میں کافروں کے ساتھ دوستی رکھنے اور ان کے ساتھ تعلقات بڑھانے سے منع کیا، اس سے یہ لوگ خارج ہیں، اس نے اپنی کتاب میں مسلمانوں کے خون، اموال، عزتیں، ان کی غیبت اور ان پر طنز و تعریض حرام کی، یہ لوگ سب سے زیادہ ان کو حلال قرار دیتے ہیں۔
صفحہ 5 از 10