شیعہ کی تکفیر کا موقف - فتاویٰ جات | دفاع اسلام

شیعہ کی تکفیر کا موقف


صفحہ 4 از 10
انہوں نے ان کے جملہ عقائد جیسے وہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تکفیر کرتے ہیں، قرآن میں تحریف اور کمی زیادتی کے قائل ہیں، مہدی کا انتظار کرتے ہیں، جو آ کر ان کو شریعت کی تعلیم دے گا نقل کرنے کے بعد کہا ہے: امامیہ کے تمام فرقے جن کا ہم نے ذکر کیا ہے، وہ ان عقائد پر متفق ہیں، اس کے بعد انہوں نے ان الفاظ میں ان پر حکم لگایا ہے: یہ فی الحال دین کی کسی چیز پر قائم نہیں، کفر کی اس نوع میں مزید اضافے کی کوئی گنجائش نہیں، کیوں کہ اس میں دین کی تو کوئی چیز باقی نہیں رہی۔
(الفصل: جلد، 5 صفحہ، 40)
14: ابو حامد غزالیؒ: 
(محمد بن محمد بن احمد الغزالی حافظ ابنِ کثیرؒ فرماتے ہیں: دنیا کے ذہین ترین انسان تھے، جو اپنے مختلف علوم و فنون میں مہارت رکھتے تھے ان کی متعدد فنون میں معروف کتب ہیں ان کی ایک کتاب فضائح الباطنية ہے انہوں نے 505ھ کو وقات پائی دیکھیں: البداية والنہاية: جلد، 12 صفحہ، 173، 174 مرآة الجنان: جلد، 3 صفحہ، 177، 192)
امام غزالیؒ کہتے ہیں: روافض نے اس مسئلے میں کم فہمی کی وجہ سے بدا کا ارتکاب کیا۔ 
(جو شخص رافضیت کا مطالعہ کرے گا، اسے معلوم ہو جائے گا کہ یہ کم فہمی نہیں ہے، بلکہ یہ ان کا یقینی نظریہ ہے، جس کا سبب شیعہ کا اپنے ائمہ میں غلو کرتا ہے۔ امام غزالی کا یہ کلام آمدی کے کلام سے ملتا جلتا ہے وہ فرماتے ہیں کہ رافضہ پر سخ اور بدا میں فرق مخفی رہ گیا ہے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے علامہ عبد الرزاق عفیفییؒ فرماتے ہیں: جو شخص رافضہ کی حالت سے آگاہ ہے، ان کے باطن کے فساد سے واقف ہے اور ان کے ظاہراً اسلام اور باطناً کفر کے عقیدے و زندیقیت سے آشنا ہے اور یہ جانتا ہے کہ انہوں نے اپنے اصول و مبادی یہود سے اخذ کیے ہیں اور اسلام کے خلاف چالبازیوں میں ان ہی کے طور طریقوں پر عمل پیرا ہیں تو وہ یہ امر پہچان لیتا ہے کہ ان کی اس افترا پردازی اور بہتان طرازی (بدا) کا سبب بدنیتی، حق اور اہلِ حق کے خلاف کینہ اور مذموم تعصب ہے، جس نے انہیں اس دھوکا دہی اور شرعی احکام اور اس بنیاد پر قائم حکومتوں کے خلاف سرا و ظاہر آ سازشیں تیار کرنے پر اکسایا ہے الإحكام فی أصول الأحكام: جلد، 3 صفحہ، 110،109 حاشيہ) 
انہوں نے سیدنا علیؓ سے نقل کیا کہ وہ اس خدشے کے پیشِ نظر غیب کی خبر نہیں دیتے تھے کہ کہیں اللہ تعالیٰ کو اس میں بدا ہو جائے اور وہ اس میں تبدیلی کر دے۔
(یہ روایت مجالسی کے ہاں موجود ہے اور اس نے اسے قرب الإسناد کی طرف منسوب کیا ہے بحار الأنوار: جلد، 4 صفحہ، 97 ایک دوسری روایت میں شیعہ نے یہ قول علی بن حسین کی طرف منسوب کیا ہے دیکھیں: تفسير العياشی: جلد، 2 صفحہ، 215، بحار الأنوار: جلد، 4 صفحہ، 117 البرہان: جلد، 2 صفحہ، 299، تفسير الصافی: جلد، 3 صفحہ، 75) 
انہوں نے جعفر بن محمد سے بیان کیا کہ اس نے کہا: اللہ تعالیٰ کو جس طرح حضرت اسماعیل علیہ السلام کے بارے میں بدا ہوا، کسی اور معاملے کے بارے میں اس طرح نہیں ہوا، یعنی ان کو ذبح کرنے کا حکم دینے کے متعلق یہ صریح کفر ہے۔
(یہ روایت كتاب التوحيد لابنِ بویہ: صفحہ:336 میں دیکھیں) 
اور اللہ تعالیٰ کی طرف جماعت اور تبدیلی کی نسبت، نیز اللہ تعالیٰ کے ہر چیز کے علم پر محیط ہونے کے مستحیل ہونے پر دلالت کرتا ہے۔
(المستصفى: جلد، 1 صفحہ، 110)
اگر کوئی شخص کھلے لفظوں میں سیدنا ابوبکرؓ اور سیدنا عمرؓ کے کفر کا اظہار کرے تو اس نے اجماع کی مخالفت کی، اور جو ان کی تعریف، ان کے ایمان کی صحت، ان کے یقین کی ثابت قدمی، ان کی تمام لوگوں پر افضلیت اور ان کو جنت کی بشارت کے متعلق بہت زیادہ روایات ذکر ہوئی ہیں، ان کی اس شخص نے نفی کی ہے۔
پھر وہ کہتے ہیں: اس کے قائل کو اگر یہ تمام روایات پہنچی ہیں، اس کے باوجود وہ ان کے کفر کا عقیدہ رکھتا ہے تو ایسا شخص کافر ہے کیوں کہ وہ رسول اللہﷺ کو جھٹلاتا ہے اور جو شخص آپﷺ‎ کے اقوال میں سے کسی ایک لفظ کو بھی جھٹلاتا ہے، وہ بالاجماع کافر ہے۔ 
(فضاںٔح الباطنیۃ: صفحہ، 149)
15: قاضی عیاض:
(عیاض بن موسیٰ بن عیاض بن عمرون یحصبی مغرب کے بڑے عالم اور اپنے وقت میں اہلِ حدیث کے امام تھے، وہ 544ھ کو فوت ہوئے دیکھیں: وفيات الأعيان: جلد، 3، صفحہ، 483، والعبر للذہبی: جلد، 2 صفحہ، 467، الضبی: بغية الملتمس، صفحہ، 437، النباهی: تاريخ قضاة الأندلس: صفحہ،101)
قاضی صاحب فرماتے ہیں:
ہم غالی رافضہ کے اس قول کی وجہ سے کہ ائمہ انبیاء سے افضل ہیں۔
(اسی کتاب کا صفحہ، 659 دیکھیں، شیعہ معاصرین اس کفر کو اپنا بنیادی اور ضروری عقیدہ قرار دیتے ہیں اور ان کے ضروری عقیدے کا انکار کفر ہوتا ہے، اسی کتاب کا صفحہ، 1151 دیکھیں شیعہ عالم ممقانی کہتا ہے: ہمارے مذہب کا ضروری عقیدہ ہے کہ ہمارے ائمہ علیہم السلام انبیاۓ بنی اسرائیل سے افضل ہیں، جیسا کہ متواتر روایات میں صراحت موجود ہیں، اہلِ بیتؓ کی روایات کی ممارست کرنے والے کے نزدیک اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ ائمہ سے انبیائے بنی اسرائیل کی خوارق ظاہر ہوتے تھے، بلکہ ان سے کہیں زیادہ خرقِ عادت امور رونما ہوتے تھے، نیر انبیاء اور سلف کے لیے علم کے ایک یا دو دروازے وا ہوتے تھے، جبکہ ائمہ کے لیے عبادت و طاعت کی بنا پر، جو بندے کو اللہ تعالیٰ کی طرح بنا دیتی ہے کہ جب وہ کسی شے کو کہتا ہے: ہو جا تو وہ ہو جاتی ہے، تمام دروازے کھل جاتے ہیں تنقيح المقال: جلد، 3، صفحہ، 232 دیکھیں شروع میں کس طرح وہ اپنے ائمہ کو انبیاء پر فوقیت دیتا ہے اور بعد ازاں انہیں اللہ تعالیٰ کی طرح بنا دیتا ہے، کیا اس سے بڑھ کر بھی کوئی زندیقیت و الحاد ہو سکتا ہے) 
ان کی یقینی تکفیر کرتے ہیں، اسی طرح جو شخص یہ کہتا ہے کہ سیدنا علیؓ اور ان کے بعد والے امام رسول اللہﷺ کی نبوت میں شریک ہیں اور ہر امام نبوت اور حجت میں نبی کے قائم مقام ہیں، وہ بھی کافر ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا ہے: یہ اکثر رافضہ کا مذہب ہے۔
(شیعہ اثناء عشریہ کا دعویٰ ہے کہ امامت، نبوت سے زیادہ بڑا مقام ہے۔ دیکھیں: صفحہ، 702 اور یہ کہ ائمہ تمام لوگوں پر رسولوں کی طرح حجت ہیں۔ دیکھیں: صفحہ، 669) 
صفحہ 4 از 10