شیعہ کی تکفیر کا موقف - فتاویٰ جات | دفاع اسلام

شیعہ کی تکفیر کا موقف


صفحہ 3 از 10
(الصارم المسلول: صفحہ، 570 ابوبکر بن ہانی نے بھی ایسے ہی کہا ہے۔ المصدر السابق نیز دیکھیں: السيف المسلول على من سب الرسول: علی بن عبد الكافی السبكج: صفحہ، 71 مخطوط)
8: ابو زرعہ رازی:
 (عبد الله بن عبد الکریم بن یزید بن فروخ: امام ابو زرعہ کبار حفاظِ حدیث اور ائمہ میں سے ہیں۔ انہیں ایک لاکھ حدیث یاد تھی اور کہا جاتا تھا کہ ہر وہ حدیث جسے ابو زرعہ نہیں پہچانتے وہ حدیث بے بنیاد ہے۔ یہ 264ھ کو فوت ہوئے) 
انہوں نے کہا: اگر آپ کسی آدمی کو دیکھیں جو اصحابِ رسولﷺ میں عیب نکال رہا ہے تو جان لیں وہ زندیق ہے، کیوں کہ اس کا قول قرآن اور سنت دونوں کی تردید پر منتج ہو گا۔ 
(ديكھيں الكفاية: صفحہ، 49)
9: ابنِ قتیبہ: 
(ابو محمد عبداللہ بن مسلم بن قتیبہ الدینوری بے مثال کتابوں کے مصنف ہیں، جو بڑے مفید علوم و فنون پر مشتمل ہیں، جیسا کہ حافظ ابنِ کثیرؒ فرماتے ہیں۔ یہ 276ھ کو فوت ہوئے دیکھیں: وفيات الأعيان: جلد، 3 صفحہ، 43، 44 تاریخ بغداد: جلد، 10 صفحہ، 170، 171 البداية والنہاية: جلد، 11 صفحہ، 48)  
رافضہ کا حبِ علیؓ میں غلو جس کے نتیجے میں وہ اس کو اس پر مقدم کرتے ہیں، جس کو رسول اللہﷺ اور آپﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے ان سے (سیدنا علیؓ) مقدم رکھا اور ان کا یہ دعویٰ کہ وہ رسول اللہﷺ کی نبوت میں شریک ہے اور اس کی اولاد میں سے ائمہ کے لیے علمِ غیب کا دعویٰ کرتے ہیں۔ ان تمام اقوال اور خفیہ امور نے جھوٹ اور کفر کے ساتھ جہالت اور بیوقوفی کو ایک ساتھ اکٹھا کر دیا ہے۔ 
(الاختلاف فی اللفظ والرد على الجهمية والمشبهة: صفحہ، 47 مطبعة السعادة بمصر 1349ھ)
10:عبد القاہر بغدادی: 
(عبد القاہر بن طاہر بن محمد البغدادی اپنے زمانے میں ان کو صدر الاسلام کے لقب سے پکارا جاتا تھا۔ یہ 17 فنون میں درس دیتے تھے۔ انہوں نے 469ھ کو وفات پائی۔ دیکھیں: السبكی: طبقات الشافعية: جلد، 5 صفحہ، 145 القفطی: أبناء الرواة: جلد، 2 صفحہ، 185، 186 السيوطی: بغية الوعاة: جلد، 2 صفحہ، 105) 
یہ کہتے ہیں: جارودیہ، ہشامیہ، جہمیہ اور امامیہ میں سے خواہش پرست لوگ جنہوں نے بہترین صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو کافر قرار دیا ہم ان کو کافر کہتے ہیں، ہمارے لیے نہ ان کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے نہ ان کی نمازِ جنازہ ہی ادا کرنا روا ہے۔
(الفرق بين الفرق: صفحہ، 357 نیز وہ کہتے ہیں: ان کی تکفیر واجب ہے، کیوں کہ یہ اللہ تعالیٰ کے لیے بدا (ظہورِ علم) کے قائل ہیں۔ یہ کہتے ہیں کہ وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے، پھر اس کے لیے کوئی نیا امر ظاہر ہوتا ہے۔ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ جب کسی چیز کا حکم دیتا ہے، پھر اس کو منسوخ کرتا ہے تو منسوخ اس لیے کرتا ہے، کیوں کہ اس کو اس میں بدا ہوتا ہے۔ ہم نے کفر کی جس نوع کے بارے میں بھی سنایا اس کو دیکھا ، اس کی کسی نہ کسی فرع کو رافضہ کے مذہب میں ضرور پایا۔
(الملل والنحل: صفحہ، 35، 36 تحقيق البير نصری نادر)
11: قاضی ابو یعلیٰ:
(محمد بن الحسین بن محمد بن خلف بن الفراء اپنے زمانے کے اصول و فروع کے ممتاز عالم تھے۔ انہوں نے 458ھ کو وفات پائی۔ دیکھیں: طبقات الحنابلة: جلد، 2 صفحہ، 103، 230)
کہتے ہیں: رافضہ کے بارے میں یہ حکم ہے کہ اگر وہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو کافر کہیں یا اس معنیٰ میں فاسق کہیں جو ان کے لیے جہنم کو واجب قرار دے، تو وہ کافر ہے۔
(المعتمد: صفحہ، 267) 
روافض کے بارے میں شیعہ کی کتابوں کے عام ہو جانے کے بعد یہ واضح ہو چکا ہے کہ وہ اکثر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو کافر کہتے ہیں۔
12: ابنِ حزمؒ:
امام ابنِ حزمؒ کہتے ہیں:
ان کا عیسائیوں کا یہ کہنا کہ روافض قرآن میں تبدیلی کا دعویٰ کرتے ہیں تو روافض تو مسلمان ہی نہیں (یعنی مسلمانوں اور قرآن کے خلاف ان کا قول حجت نہیں بن سکتا) بلکہ یہ ایک فرقہ ہے، جو رسول اللہﷺ کی وفات کے پچیس سال بعد پیدا ہوا یہ فرقہ جھوٹ اور کفر میں یہود و نصاریٰ کے قائم مقام ہے۔ 
(الفصل: جلد، 2 صفحہ، 213)
وہ کہتے ہیں: امامیہ کا قدیم اور جدید دور میں یہ مؤقف ہے کہ قرآن میں تبدیلی ہوئی ہے۔ 
(انہوں نے ان سے صرف تین کو مستثنیٰ کیا ہے، جیسا کہ گزر چکا ہے) 
پھر کہتے ہیں: یہ کہنا کہ کتابی صورت میں دو جلدوں کے درمیان جو قرآن ہے، اس میں تبدیلی ہوئی ہے، یہ صریح کفر اور رسول اللہﷺ کی تکذیب ہے۔ 
(الفصل: جلد، 5 صفحہ، 40)
وہ مزید کہتے ہیں اہلِ سنت، معتزلہ، خوارج، مرجیہ اور زیدیہ، ان تمام اسلامی فرقوں کا اتفاق ہے کہ قرآنِ کریم میں جو کچھ ہے، سب کو لینا واجب ہے اور ہمارے ہاں اس کی تلاوت کی جاتی ہے، لیکن اس کی غالی رافضیوں کی ایک جماعت نے مخالفت کی ہے۔ یہ کافر ہیں اور اس کی وجہ سے وہ تمام اہلِ اسلام کے نزدیک مشرک ہیں۔ ہمارا کلام ان کے ساتھ نہیں، بلکہ ہمارا کلام اپنے ہم مذہب کے ساتھ ہے۔
(الإحكام فی أصول الأحكام: جلد،1 صفحہ، 96)
وہ مزید کہتے ہیں:
جان لو! رسول اللہﷺ نے شریعت کا ایک کلمہ بلکہ ایک حرف بھی چھپایا ہے نہ آپﷺ نے اپنی کسی بیٹی، چچا زاد بھائی، بیوی یا دوست یا ان جیسے کسی سب سے قریب اور مخصوص فرد کو شریعت کی کوئی ایسی چیز بتانے کے لیے مخصوص کیا، جو آپﷺ نے کسی کالے گورے، بکریوں کے چرواہے یا عام آدمی سے چھپائی ہو۔ آپﷺ نے تمام لوگوں کو جو دعوت دی، اس کے سوا آپﷺ کے پاس کوئی راز تھا نہ رمز اور نہ کوئی باطن، اگر آپﷺ نے ان سے کچھ چھپایا ہوتا تو آپﷺ رسالت کو اس طرح نہ پہنچانے والے ہوتے، جس طرح آپﷺ کو حکم دیا گیا تھا اور جس نے یہ بات کہی وہ کافر ہے۔
(الفصل: جلد، 2 صفحہ، 273، 275 جس عقیدے کے حامل کو امام ابنِ حزمؒ کافر قرار دیتے ہیں آج یہ اثناء عشری مذہب کا بنیادی عقیدہ بن چکا ہے اور اس مذہب کے سابقین اور معاصرین علماء اسی نظریے کی تاکید کرتے ہیں اس کتاب کا صفحہ، 344 دیکھیں)
13: الاسفرائینی:
(أبو المظفر شہفور بن طاہر بن محمد الإمام الأصول الفقیه المفسر ان کی متعدد تصانیف ہیں جن میں التفسير الكبير اور التبصير فی الدین شامل ہیں۔ یہ 471ھ کو فوت ہوئے دیکھیں: طبقات الشافعية: جلد، 5 صفحہ، 11 الأعلام: جلد، 3 صفحہ، 360)
صفحہ 3 از 10