شیعہ کی تکفیر کا موقف - فتاویٰ جات | دفاع اسلام

شیعہ کی تکفیر کا موقف


صفحہ 2 از 10
يَعِظُكُمُ اللّٰهُ اَنۡ تَعُوۡدُوۡا لِمِثۡلِهٖۤ اَبَدًا اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ‌۞
(سورۃ النور: آیت، 18)
ترجمہ: اللہ تمہیں نصیحت کرتا ہے، اس سے کہ دوبارہ کبھی ایسا کام کرو، اگر تم مومن ہو۔
(ما يذهب إليه الإمام أحمد للإمام أبي محمد رزقا الله بن عبد القوي التميمي المتوفى ٤٨٠هـ الورقة: 21)
لیکن امام ابنِ تیمیہ رحمۃ اللہ نے مجموعہ فتاویٰ میں امام احمدؒ وغیرہ سے روافض کی تکفیر میں اختلاف نقل کیا ہے۔ (الفتاوىٰ: جلد، 3 صفحہ، 352)
امام احمدؒ کی جو پہلی عبارتیں گزری ہیں وہ صریحاً اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ امام صاحب ان کی تکیفر کے قائل تھے۔ تاہم شیخ الاسلام نے، جو لوگ روافض کو صحابہ کرامؓ کو سب وشتم کرنے کی وجہ سے کافر نہیں کہتے، ان کی اس انداز میں توجیہ کی ہے، جس سے امام احمدؒ کے اقوال میں خیال کیا جانے والا تعارض رفع ہو جاتا ہے:
لیکن جس نے ان (صحابہؓ) کے بارے میں اس طرح کی بد زبانی کی، جس کی وجہ سے ان کی دیانت داری یا دین داری پر کوئی حرف نہ آتا ہو، مثلاً : بعض صحابہؓ کو بخیل، بزدل، کم علم یا دنیا دار کہنا، اس طرح کی باتیں کرنے والا تعزیر اور تادیب کا سزا وار ہے، صرف اس کی وجہ سے ہم اس کو کافر نہیں کہہ سکتے ، اہلِ علم میں جو ان کو کافر نہیں کہتا تو اس کے کلام کو اسی مفہوم پر محمول کیا جائے گا۔
(الصارم المسلول: صفحہ، 586 قاضی ابو یعلی نے عدمِ تکفیر کی روایت کی ایک توجیہ کی ہے۔ دیکھیں: الصارم المسلول: صفحہ، 581)
اس کا یہ مطلب ہوا کہ جو ان کے بارے میں ایسی بد زبانی کرتا ہے، جو ان کی دیانت، عدالت اور تدوین پر جرح کرتی ہو، اہلِ علم کے نزدیک اس پر کفر کا حکم لگایا جائے گا، لیکن جو تمام صحابہؓ کو مرتد خیال کرتا ہے، اس کا پھر کیا حال ہو گا؟
امام بخاریؒ المتوفی 257ھ
امام بخاریؒ نے کہا ہے:
"مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ میں کسی جہمی اور رافضی کے پیچھے نماز پڑھوں یا کسی یہودی اور عیسائی کے پیچھے (یعنی یہ چاروں برابر ہیں) ان کو سلام نہیں کہنا چاہیئے، نہ ان کی عیادت کرنی چاہیئے، نہ ان کے ساتھ نکاح کیا جائے، نہ ان کے جنازوں میں شرکت کی جائے، اور نہ ان کے ذبیحے کھائے جائیں۔
(الامام البخاری خلق افعال العباد: صفحہ، 125)
4: عبداللہ بن ادریس:
 (عبد الله بن ادريس بن يزيد بن عبد الرحمٰن الأودی امام ابو حاتمؒ کہتے ہیں: وہ حجت اور مسلمانوں کے امام ہیں امام احمد کے بقول وہ بے مثال ہیں ابنِ سعد کہتے ہیں کہ ثقہ مامون، کثیر الحدیث، حجت، اہلِ سنت و الجماعت والے ہیں یہ 198ھ کو فوت ہوئے تکذيب التہذيب: جلد، 5 صفحہ، 144، 145 الجرح و التعديل لابنِ أبی حاتم: جلد، 5 صفحہ، 8، 9 یہ کوفے کے بڑے ائمہ میں سے ہیں الصارم المسلول: صفحہ، 570 یہ کوفہ روافض کی جائے پیدائش ہے، لہٰذا وہ رافضہ اور ان کے مذہب کو بہ خوبی جاننے والے ہیں، کیونکہ گھر والا دوسروں سے زیادہ گھریلو اشیاء کو جانتا ہے)
وہ کہتے ہیں رافضی کو شفعہ کا حق حاصل نہیں ہے۔ (الصارم المسلول: صفحہ، 570 السيف المسلول على من سب الرسوله علي بن عبد الكافی السبكی: الورقة، 71 أ مخطوط) 
5: عبد الرحمٰن بن مہدی: 
(الامام الحافظ العلم عبد الرحمٰن بن مهدی بن حسان بن عبد الرحمٰن العنبری، البصری، المتوفى 198ھ تہذيب التکذيب: جلد، 6 صفحہ، 281 ،279)
امام بخاریؒ نے کہا ہے: عبد الرحمٰن بن مہدی نے کہا: یہ دونوں علاحدہ ملتیں ہیں، ایک جہمیہ اور دوسرے رافضہ۔
(خلق أفعال العباد للبخاری: صفحہ، 125 نیز دیکھیں: مجموع فتاوىٰ شيخ الإسلام ابنِ تيميہؒ: جلد، 35 صفحہ، 415)
6: الفريابی:
(محمد بن يوسف الفريابی امام بخاریؒ نے ان سے 26 احادیث روایت کی ہیں۔ یہ اپنے زمانے کے افضل ترین انسان تھے یہ 212ھ کو فوت ہوئے تہذیب التہذيب: جلد: 9 صفحہ، 535) 
خلال نے روایت کیا ہے کہ مجھے حرب بن اسماعیل کرمانی نے بتایا، اس نے کہا: ہمیں موسیٰ بن ہارون بن زیاد نے بیان کیا، اس نے کہا: میں نے فریابی سے سنا کہ ایک آدمی ان سے اس شخص کے بارے میں پوچھا رہا تھا، جس نے سیدنا ابوبکرؓ کو گالی دی، تو انہوں نے کہا: وہ کافر ہے، اس نے پوچھا: کیا اس کا جنازہ پڑھا جائے گا؟ انہوں نے کہا: نہیں، اس نے کہا: وہ لا الہ الا اللہ پڑھتا ہے، اس کے ساتھ کس طرح پیش آیا جائے؟ انہوں نے کہا کہ اس کو ہاتھ نہ لگاؤ، اس کو لکڑی کے ساتھ اٹھاؤ اور گڑھے میں دفنا دو۔
(الخلال السنة: جلد، 6 صفحہ، 566 کتاب کے محقق نے کہا ہے کہ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن ہارون بن زیاد ہے، جس کے متعلق مجھے علم نہیں ہو سکتا۔ البتہ امام ابنِ تیمیہؒ نے الصارم المسلول صفحہ، 570 میں حتمی طور پر اسے فریابی کی طرف منسوب کیا ہے۔
7: احمد بن یونس: 
(أحمد بن عبدالله بن يونس: یہ اہلِ سنت کے امام اور کوفہ کے رہنے والے ہیں، جو رافضہ کا گڑھ اور جائے پیدائش ہے، لہٰذا یہ روافض اور ان کے مذہب سے خوب باخبر ہیں امام احمدؒ ایک شخص کو وصیت کرتے ہیں: احمد بن یونس سے جا کر علم حاصل کرو، کیوں کہ وہ شیخ الاسلام ہیں کتب ستہ کے مؤلفین نے ان کی حدیث بیان کی ہے۔ امام ابو حاتمؒ فرماتے ہیں: ثقہ اور متقن ہیں۔ نیز امام نسائیؒ نے انہیں ثقہ اور امام ابنِ سعد نے ثقہ صدوق و صاحب سنة و جماعة کہا ہے۔ حافظ ابنِ حجرؒ ذکر کرتے ہیں کہ احمد بن یونس فرماتے ہیں: میں حماد بن زید کے پاس آیا تو میں نے ان سے کہا کہ مجھے کچھ فضائلِ سیدنا عثمانؓ بھی لکھوا دیں تو انہوں نے کہا: تم کون ہو؟ میں نے کہا: کوفہ کا رہنے والا ہوں۔ یہ سن کر انہوں نے تعجب کرتے ہوئے کہا: ایک کوفہ کا رہنے والا فضائلِ سیدنا عثمانؓ عالی کا خواستگار ہے پھر انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں صرف اس شرط پر تمہیں یہ فضائل لکھواؤں گا کہ تم بیٹھ کر لکھو اور میں تمہیں کھڑے ہو کر بہ طورِ اکرام لکھواتا ہوں۔ احمد بن یونس نے 227ھ کو وفات پائی۔ 
(تہذیب التہذيب: جلد، 1 صفحہ، 50 تقريب التہذيب: جلد،1 صفحہ، 29) 
انہوں نے کہا: اگر کوئی یہودی ایک بکری ذبح کرے اور کوئی رافضی بھی ذبح کرے تو میں یہودی کا ذبیحہ کھالوں گا لیکن رافضی کا ذبیحہ نہیں کھاؤں گا، کیوں کہ وہ اسلام سے مرتد ہو چکا ہے۔
صفحہ 2 از 10