شیعہ کی تکفیر کا موقف - فتاویٰ جات | دفاع اسلام

شیعہ کی تکفیر کا موقف


صفحہ 10 از 10
2: متاخر اور معاصر رافضہ نے مذہب کا گھٹیا اور خطرناک ترین مواد اکھٹا کیا ہے۔ انہوں نے تقدیر کی نفی میں قدریہ کا نظریہ صفات کی تردید میں جہمیہ کا نظریہ اور خلق قرآن کا عقیدہ صوفیہ سے وحدۃ الوجود کی گمراہی، سبائیہ سے سیدنا علیؓ کی الوہی صفات کا حامل قرار دینے کا قول،خوارج اور وعیدیہ سے مسلمانوں کی تکفیر اور مرجیہ کے عقیدے کے مطابق حبِ علیؓ کے ہوتے ہوئے کوئی برائی برائی نہیں رہتی،کا عقیدہ کشید کر کے شیعت کو ان تمام گمراہیوں کا ملغوبہ بنا دیا ہے بلکہ قبروں کی تعظیم،ان کا طواف ان کی طرف منہ اور قبلے کی طرف پشت کر کے نماز پڑھنے ،جیساکہ شرکیہ اعمال کے ذریعے سے وہ مشرکین کی راہ پر بھی چل نکلے ہیں۔ جو عین مشرکوں کا مذہب ہے۔ 
(اس کی تفصیل اور اثنا عشریہ کا اس عقیدے کو اپنانے کے ثبوت کے لیے اسی کتاب کا صفحہ، 1102 دیکھیں)  
کیا اس کے بعد بھی اس میں کوئی شک باقی رہتا ہے کہ اس فرقے نے اپنے لیے اسلام کے علاوہ کوئی دوسرا مذہب پسند کیا ہوا ہے؟ یہ لوگ اگرچہ کلمہ پڑھتے ہیں ،لیکن انہوں نے بہت سے کفریہ اعمال کے ذریعے سے اس کلمے کا کام تمام کر دیا ہوا ہے ،لیکن پھر بھی کسی کو کافر کہنے کے بارے میں اہلِ سنت کے طریقے کار اور ان کے منہج تکفیر کا خیال رکھنا نہایت ضروری ہے :یہ تمام اقوال اور نظریات جن کے وہ قائل ہیں اور ان کے متعلق معلوم ہے کہ یہ رسول اللہﷺ کی پیش کردہ تعلیمات کے خلاف ہیں یہ تمام اقوال کفر ہیں، اسی طرح ان کے وہ افعال جو کافروں کے اعمال و افعال و اعمال کی جنس سے ہیں اور کافر اس طرح کا رویہ مسلمانوں سے رکھتے ہیں یہ بھی کفر ہیں لیکن اہلِ قبلہ میں سے کسی ایک مخصوص اور متعین شخص کو کافر قرار دینا اور اس پر دائمی جہنمی ہونے کا حکم لگایا شروطِ تکفیر کے ثبوت اور عدمِ مانع پر موقوف ہے ہم وعدو وعید اور تکفیر و تفسیق کی نصوص و آیات کا مطلقاً ذکر کرتے ہیں اور ان کے عام معنیٰ میں کسی مخصوص شخص کو اس وقت تک داخل نہیں کر سکتے جب تک اس میں تکفیر کا تقاضا کرنے والا کوئی عمل ثابت نہ ہو جائے جس کا کوئی مخالف نہ ہو، اس لیے علمائے اسلام ایسے شخص کو کافر نہیں کہتے، جو نیا نیا مسلمان ہونے کی وجہ سے یا کسی درو دراز کے علاقے اور عملی طور پر پسماندہ بستی کے ساتھ تعلق رکھنے کی وجہ سے کسی حرام کام کو حلال کر لے۔ کفر کا حکم پیغام اسلام تک پہنچنانے کے بعد ہوتا ہے، اس لیے ان میں کچھ ایسے لوگ بھی ہوں گے جن کو وہ نصوص اور دلائل نہ ملے ہوں گے، جو ان کے موقف کے خلاف ہوں۔ ہو سکتا ہے،اس کو علم ہو نہ کہ رسول اللہﷺ اس کے ساتھ مبعوث ہوئے ہیں۔ اس لیے مطلقاً کہا جائے گا کہ یہ قول کفر ہے اور اس کو کافر کہا جائے گا، جس پر وہ حجت قائم ہو جائے، جس کے تارق کو کافر کہا جا سکے،دوسرے کو نہیں۔
(الفتاویٰ: جلد، 28 صفحہ، 501،502 اس مسئلے کی تفصیل کے لیے دیکھیں: الفتاویٰ: جلد، 12 صفحہ، 466 وما بعدها: جلد، 23 صفحہ: 340 وما بعدها)


صفحہ 10 از 10