شیعہ کی تکفیر کا موقف - فتاویٰ جات | دفاع اسلام

شیعہ کی تکفیر کا موقف


صفحہ 1 از 10

امام مالکؒ، احمد اور بخاری کی طرح کے کبار ائمہ اسلام کا یہی موقف ہے۔ ذیل میں اثناء عشریہ اور جعفریہ کے نام سے موسوم روافض کے بارے میں ائمہ اسلام اور علماے مسلمین کے فتوے ذکر کیے جاتے ہیں۔

(کتاب: آئینہ مذہبِ شیعہ کا صفحہ (121، 124، 127) دیکھیں)
 نیز شیعہ کے مشہور مقالات و نظریات کے متعلق، جو ان کی بنیادی کتابوں میں مذکور ہیں، علمائے اسلام کا موقف پیش کیا جاتا ہے۔ میں سب سے پہلے امام مالکؒ کا فتویٰ ذکر کروں گا، اس کے بعد امام احمدؒ کا، پھر امام بخاریؒ، ان کے بعد باترتیب وفات کے مطابق باقی ائمہ کرام کے فتویٰ جات کا ذکر کروں گا۔ میں نے ائمہ کبار کے فتاویٰ اور شیعہ کے ساتھ ایک ہی شہر میں رہنے والے علمائے کرام یا شیعہ کے بارے میں لکھنے والے اور شیعہ کے مذہب کی تحقیق کرنے والے علمائے کرام کے فتاویٰ کا انتخاب کیا ہے۔
1: امام مالک رحمۃ اللہ:
خلال نے ابوبکر مروزی سے روایت کیا ہے کہ میں نے ابو عبداللہؒ سے سنا کہ انہوں نے کہا:
”مالک نے کہا: جو اصحاب النبیﷺ (گذشتہ صفحات (صفحہ، 766) سے یہ امر واضح ہو چکا ہے کہ شیعہ صحابہ کرامؓ پر لعنت کرنا دین اور شریعت قرار دیتے ہیں اور معدود چند صحابہؓ کے علاوہ دیگر تمام صحابہ کرامؓ کو کافر قرار دیتے ہیں۔) کو سب وشتم کرتا ہے، اس کا اسلام میں کوئی نام یا حصہ نہیں۔
(الخلال: السنة: جلد، 2، صفحہ 558 اس کتاب کے محقق نے کہا ہے کہ اس کی سند صحیح ہے۔)
حافظ ابنِ کثیرؒ جملے اس آیت:
مُحَمَّدٌ رَّسُوۡلُ اللّٰهِ‌ وَالَّذِيۡنَ مَعَهٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَى الۡكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَيۡنَهُمۡ تَرٰٮهُمۡ رُكَّعًا سُجَّدًا يَّبۡتَغُوۡنَ فَضۡلًا مِّنَ اللّٰهِ وَرِضۡوَانًا‌ سِيۡمَاهُمۡ فِىۡ وُجُوۡهِهِمۡ مِّنۡ اَثَرِ السُّجُوۡدِ‌ ذٰ لِكَ مَثَلُهُمۡ فِى التَّوۡرٰٮةِ وَمَثَلُهُمۡ فِى الۡاِنۡجِيۡلِ كَزَرۡعٍ اَخۡرَجَ شَطْئَـهٗ فَاٰزَرَهٗ فَاسۡتَغۡلَظَ فَاسۡتَوٰى عَلٰى سُوۡقِهٖ يُعۡجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَـغِيۡظَ بِهِمُ الۡكُفَّارَ‌ وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنۡهُمۡ مَّغۡفِرَةً وَّاَجۡرًا عَظِيۡمًا ۞
(سورۃ الفتح: آیت، 29)
ترجمہ: محمد اللہ کا رسول ہے اور وہ لوگ جو اس کے ساتھ ہیں، کافروں پر بہت سخت ہیں، آپس میں نہایت رحم دل ہیں، تو انھیں اس حال میں دیکھے گا کہ رکوع کرنے والے ہیں، سجدے کرنے والے ہیں، اپنے رب کا فضل اور (اس کی) رضا ڈھونڈتے ہیں، ان کی شناخت ان کے چہروں میں (موجود) ہے، سجدے کرنے کے اثر سے۔ یہ ان کا وصف تورات میں ہے اور انجیل میں ان کا وصف اس کھیتی کی طرح ہے، جس نے اپنی کونپل نکالی، پھر اسے مضبوط کیا، پھر وہ موٹی ہوئی، پھر اپنے تنے پر سیدھی کھڑی ہو گئی، کاشت کرنے والوں کو خوش کرتی ہے، تاکہ وہ ان کے ذریعے سے کافروں کو غصہ دلائے ۔
کی تفسیر میں ذکر کرتے ہیں: ایک روایت میں امام مالکؒ نے اس آیت سے روافض کی تکفیر کا حکم نکالا ہے، جو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی کے ساتھ بغض رکھتے ہیں۔ انھوں نے کہا:
"کیونکہ وہ ان کو بھڑکاتے ہیں اور جس کو صحابہؓ نے بھڑکایا، وہ اس آیت کے موجب کافر ہے اور علماء کے ایک گروہ نے ان کے ساتھ اس بات پر اتفاق کیا ہے۔"
(تفسیر ابنِ کثیر: جلد، 6 صفحہ، 219 نیز دیکھیں: روح المعاني للألوسي: جلد، 26، صفحہ، 116 اس آیت سے یہ حکم استنباط کرنے کے سلسلے میں مزید دیکھیں: الصارم المسلول: صفحہ، 579)
امام قرطبیؒ کہتے ہیں کہ امام مالکؒ نے بڑی اچھی بات کہی ہے اور آیت کی صحیح تاویل کی ہے۔ جس نے کسی ایک صحابی کی بھی عیب جوئی کی یا اس کی روایت پر طعن کیا، (شیعہ مرجع کا یہ بیان گزر چکا ہے کہ صحابہ کرامؓ جیسے ابو ہریرہؓ، عمرو بن العاصؓ، اور سمرة بن جندبؓ کی روایات شیعہ کے نزدیک مچھر کے پر کے برابر بھی وقعت نہیں رکھتیں۔ صفحہ، 375) اس نے اللہ رب العزت کا رد کیا اور مسلمانوں کے احکام کو جھوٹا قرار دیا۔
(تفسير القرطبی: جلد، 16 صفحہ، 298)
2: امام احمد رحمۃ اللہ:
ان سے روافض کی تکفیر کے متعلق کئی روایات مروی ہیں:
خلال نے ابوبکر مروزی سے روایت کیا کہ میں نے ابو عبداللہؒ سے ان کے بارے میں پوچھا، جو حضرت ابوبکرؓ، عمرؓ اور عائشہؓ کو گالیاں دیتے ہیں، تو انھوں نے کہا: میں اس کو اسلام پر نہیں سمجھتا۔
(الخلال: السنة: جلد، 2 صفحہ، 557 کتاب کے محقق نے اس کی سند کو صحیح کہا ہے۔ نیز دیکھیں: شرح السنة لابن بطة: صفحہ، 161 الصارم المسلول: صفحہ، 571)
خلال نے کہا ہے: مجھے عبدالملک بن عبد الحمید نے بتایا، اس نے کہا: میں نے ابو عبداللہؒ سے سنا، انھوں نے کہا:
“جس نے گالی دی، مجھے اس پر روافض کی طرح کفر کا خدشہ ہے۔“
پھر کہا: ”جس نے صحابہ کرامؓ کو گالی دی، بعید نہیں کہ وہ دین سے نکل چکا ہو۔“
(الخلال: السنة: جلد، 2 صفحہ، 558 اس کی سند بھی صحیح ہے۔)
خلال نے کہا:
ہمیں عبداللہ بن احمد بن حنبلؒ نے بتایا، اس نے کہا: میں نے اپنے والد سے اس آدمی کے بارے میں پوچھا، جو کسی صحابہؓ کو گالی دیتا ہے، تو انھوں نے کہا: میں اس کو اسلام پر نہیں سمجھتا۔
(الخلال: السنة: جلد، 2 صفحہ، 558 نیز دیکھیں: مناقب الإمام أحمد لابن الجوزی: صفحہ، 214)
امام احمدؒ کی کتاب "السنة" میں ان کا روافض کے متعلق یہ قول مذکور ہے:
یہ لوگ اصحابِ محمدﷺ پر تبرا کرتے ہیں، ان کو دشنام طرازی کرتے ہیں، ان میں کیڑے نکالتے ہیں اور علیؓ، عمارؓ، مقدادؓ اور سلیمانؓ کے سوا ائمہ کو کافر کہتے ہیں، رافضہ کا اسلام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔
(السنة للإمام أحمد: صفحہ، 82تصحيح الشيخ إسماعيل الأنصاری)
 اثناء عشریہ چند ایک صحابہؓ کے سوا جن کی تعداد انگلیوں کے بھی برابر نہیں، سب صحابہؓ کو کافر کہتے ہیں۔ یہ اپنی دعاؤں، زیارتوں، درگاہوں اور بڑی بڑی بنیادی کتابوں میں ان پر لعنت بھیجتے اور قیامت تک ان کی پیروی کرنے والوں کو کافر کہتے ہیں۔
(اسی کتاب کا صفحہ، 766)
امام ابنِ عبد القوی کہتے ہیں:
جو شخص صحابہؓ سے براءت کا اظہار کرتا اور حضرت عائشہؓ کو گالی دیتا اور ان پر وہ بہتان لگاتا، جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو بری قرار دیا ہے، تو امام احمدؒ اس کو کافر کہتے ہیں اور وہ یہ آیت پڑھتے: 
صفحہ 1 از 10