سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے لیے ابنِ کثیر رحمۃاللہ کی تعریف
علی محمد الصلابیسیدنا معاویہؓ کے بارے میں ابن کثیر رحمۃاللہ فرماتے ہیں:
’’41ھ میں تمام رعایا نے سیدنا معاویہؓ کی بیعت پر اجماع کر لیا تھا، اس وقت سے وفات کے سال تک سیدنا معاویہؓ تنِ تنہا خلیفہ رہے، دشمنوں کے علاقوں میں جہاد جاری رہا، اللہ کا کلمہ سر بلند رہا، ہر طرف سے اموالِ غنیمت آ رہے تھے، سیدنا معاویہؓ کے ساتھ مسلمانوں کو آرام و راحت، عدل و انصاف اور عفو و درگزر حاصل تھا۔‘‘
مزید فرماتے ہیں:
’’سیدنا معاویہؓ بردبار، باوقار، سربراہ، لوگوں کے سردار، شریف، عادل اور نہایت دلیر و حوصلہ مند تھے۔‘‘
(البدایۃ والنہایۃ: جلد 8 صفحہ 118)
نیز سیدنا معاویہؓ کے بارے میں کہتے ہیں:
’’سیدنا معاویہؓ اچھی سیرت و کردار کے حامل، اچھی طرح درگزر کرنے، معاف کرنے اور سترپوشی کرنے والے تھے۔‘‘
(البدایۃ والنہایۃ: جلد 8 صفحہ 126)